Daily Mashriq

ایف بی آر کے اقدامات کی کامیابی کے تقاضے

ایف بی آر کے اقدامات کی کامیابی کے تقاضے

ایف بی آر کے ترجمان نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ایف بی آر کاروباری افراد کو ساتھ لیکر چلنے کیلئے پُرعزم ہے۔ ٹیکس نیٹ میں آنے والوں کیخلاف جون تک کارروائی نہیںکی جائے گی صرف ٹیکس ادا نہ کرنے والوں کیخلاف کارروائی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں20ہزار بڑی دکانوں کو پوائنٹ آف سیل سسٹم سے منسلک کیا جائے گا، پوائنٹ آف سیل بڑے شاپنگ مال میں لاگو کیا جا رہا ہے، ایف بی آر کے سسٹم سے کاروباری افراد کو نقصان نہیں ہوگا۔ سیلز ٹیکس قانون میں ترامیم کی گئی ہیں، تاجروں کیلئے بجلی بل کی حد6لاکھ سے بڑھا کر 12لاکھ روپے کر دی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تاجروں کا مطالبہ مان کر ٹرن اوور کم کر دیا گیا ہے۔ تاجر غیررجسٹرڈ لوگوں کو سیل نہیں کر سکیں گے، پلانٹ اور مشینری پر سیلز ٹیکس ختم کر دیا ہے جبکہ پرچون قیمت فروخت نہ لکھنے والی اشیاء کو ضبط کیا جا سکے گا۔ ایف بی آر کا کاروباری افراد کو ساتھ لیکر چلنے کا عزم ادارے کی ذمہ داریوں کے زمرے میں آتا ہے۔ اصل بات یہ ہوگی کہ ایف بی آر تاجروں کو یا تو اس بات پر آمادہ کرے کہ وہ ان سے تعاون کریں یا پھر ایف بی آر ایسے اقدامات لاگو کرنے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرے جس سے تاجروں سے ٹیکس وصولی ہوسکے۔ امر واقع یہ ہے کہ اب تک ایف بی آر اور تاجروں کے درمیان بعد اور بیر کی کیفیت ہے ایف بی آر کے حکام یکطرفہ طور پر اقدامات کا اعلان کرتے ہیں اور اس قسم کے غیرحقیقت پسندانہ شرائط لاگو کرتے ہیں اور ایسا پیچیدہ طریقۂ کار وضع کرتے ہیں کہ پورے ملک کی تاجربرادری ان کیخلاف احتجاج پر اُتر آتی ہے۔ ہڑتالیں اور احتجاج ہوتے ہیں اور حکومت وایف بی آر دونوں اس احتجاج کے متحمل نہ ہو کر معاملے کو لپیٹنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، دوسری جانب دیکھا جائے تو تاجروں نے گویا قسم کھا رکھی ہے کہ وہ ایف بی آر کے ہر اقدام کو کاروبار دشمن اور تاجروں پر ظلم قرار دیکر مسترد کردیں گے حالانکہ ٹیکس نیٹ میں صرف تاجر اور صنعتکار برادری ہی کو نہیں لایا جاتا بلکہ تنخواہ دار طبقے سے تو باقاعدہ وصولی بھی ہورہی ہوتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس مسئلے کا ایک حل تو یہ ہے کہ ایف بی آر تاجر نمائندوں سے مشاورت اور ان کے اعتراضات کو دور کرنے کے بعد ہی اقدامات کا اعلان کرے تاکہ دباؤ میں آکر اقدامات کی واپسی کی نوبت نہ آئے۔ دوسرا ممکنہ حل یہ ہے کہ ایف بی آر بتدریج ٹیکس قوانین میں تبدیلی لائے اور تاجروں کو یکجا ہونے اور احتجاج کرنے کا موقع نہ دیا جائے۔ ٹیکس لاگو کرتے ہوئے اس امر کا خیال رکھا جائے کہ جس پیمانے کے کاروبار پر ٹیکس کا نفاذ کیا جارہا ہے وہ اس کی متحمل ہو سکتی ہے یا نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس تناظر میں بیس ہزار بڑی دکانوں کو پوائنٹ آف سیل سسٹم سے منسلک کرنے کا اقدام احسن ہوگا۔ پوائنٹ آف سیل بڑے شاپنگ مال پر لاگو کرنے سے چھوٹے اور درمیانے تاجروں پر یہ لاگو نہیں ہوگا اور جن شاپنگ مالز میں قوت خرید رکھنے والے گاہک آئیں گے ان سے وصولی اور ادائیگی مشکل نہیں رہے گی۔ تاجروں کا کام تو بس وصولی کے ذریعے رقم کی منتقلی ہی رہ جاتی ہے اگر اس پر بھی وہ آمادہ نہ ہوں تو ان کیخلاف ہونے والی کسی بھی تادیبی کارروائی کو غیرمنصفانہ قرار نہیں دیا جا سکے گا۔ تاجروں کیلئے بجلی بل کی حد چھ لاکھ سے بارہ لاکھ کرنے کے بعد تو یہ صرف انہی تاجروں پر لاگو ہوگا جن کا کاروبار وسیع اور منافع بخش ہے جو تاجر ماہانہ ایک لاکھ روپے بجلی کا بل ادا کرتے ہوں ان سے ٹیکس وصولی نہیں ہوگی تو اس ملک میں اور کون ٹیکس دے گا اور کس سے لیا جانا چاہئے۔ تاجروں کے غیررجسٹرڈ لوگوں کو سیل نہ کرنے کی شرط دستاویزی معیشت اور سمگلنگ کی روک تھام کی مد میں اہم شرط ہے جس کی اب مزید مخالفت کی گنجائش نہیں ہونی چاہئے۔ ہمارے تئیں بڑے سٹوروں پر خریداری کو آن لائن ادائیگی وصولی کا پابند بنانے کا نظام وضع کیا جانا چاہئے اور اسے بتدریج اوسط درجے کے کاروبار اور سٹوروں پر لاگو کرنے کی منصوبہ بندی اور انتظامات کی ضرورت ہے تاکہ ٹیکس وصولی کے نظام کو وسعت دی جاسکے۔ ایف بی آر کو اپنے نظام میں جدت وآسانی سے ادائیگی کا سادہ نظام جب تک متعارف نہیں ہوگا اس وقت تک اہداف کا حصول مشکل ترین امر رہے گا جہاں تاجروں کے حوالے سے اقدامات کی ضرورت ہے وہاں ایف بی آر کا ہر سہ ماہی وششماہی اربوں روپے کے خسارے کو بھی کم کر کے واضح کرنا ہوگا کہ ان کی وصولیوں کا نظام ناکارہ نہیں اور ایف بی آر کے حکام اپنے فرائض کی ادائیگی میں متعدد اور فرض شناس ہیں۔ ایف بی آر اگر عوام کوٹیکس وصولی کے منصفانہ وبلاامتیاز نظام اور بڑے گروپوں اور بالائی طبقے سے پوری پوری وصولی کا یقین دلانے میں کامیاب ہوجائے تو عام تاجر سے لیکر عوام تک سبھی ٹیکس دینے کو بوجھ نہیں بلکہ فریضہ سمجھ کر ادا کرنے پر خودبخود تیار ہوں گے اور ایف بی آر کی وصولیوں میں توازن آنا ممکن نہ بھی ہوا تو کم ازکم خسارے میں کمی ضرور آئے گی۔

متعلقہ خبریں