Daily Mashriq

کیا ایسا ممکن ہو سکے گا؟

کیا ایسا ممکن ہو سکے گا؟

ملک بھر کے نجی اور سرکاری تعلیمی اداروں سمیت 35ہزار مدارس کا انتظام وزارت تعلیم ڈویژن کو منتقل کرنے پر مفاہمت کس حد تک ہوتی ہے اس سلسلے میں دینی مدارس کا ابھی موقف سامنے نہیں آیا، بہرحال اگر اتفاق رائے اور مفاہمت کیساتھ دینی مدارس میں ملک بھر کے نجی وسرکاری تعلیمی اداروں سمیت یکساں نظام تعلیم رائج ہو جائے تو تعلیم کے شعبے میں یہ بڑی کامیابی ہوگی کہ پورے ملک میںیکساں نظام تعلیم کے تحت تعلیم دی جائے اور سب کیلئے یکساں مواقع کا باب کھل جائے۔ اس امر کے اعادے کی ضرورت نہیں کہ اس وقت ملک میں تین واضح قسم کے نظام تعلیم اور طرز تعلیم رائج ہیں۔دینی مدارس کا دین کی اشاعت وترویج اور دینی ضروریات سے ہم آہنگ ہونے میں تو کوئی شبہ نہیں لیکن دینی مدارس کے طلبہ کو فارغ التحصیل ہونے کے بعد جن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اگر ایسا نہ ہو اور دینی مدارس کے طلبہ کو روزگار کمانے کیلئے ہنر مندی اور ضروری عصری تعلیم بھی دی جائے تو ہم خرما وہم ثواب کے مصداق دینی مدارس کے طلبہ زندگی کے تمام شعبوں میں نمایاں کردار ادا کرنے کے حامل ہوسکیں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ دینی مدارس کے موجودہ نصاب کیساتھ ساتھ ان کو مختلف ہنر سکھا نے اور زندگی کے مختلف شعبوں میں ایسی تربیت کی ضرورت ہے کہ وہ مساجد ومدارس ہی میں نان جویں کے بقدر مشاہرے پر محدود نہ ہوں بلکہ وہ زندگی کے مختلف شعبوں میں جا کر وہاں روزگار کیساتھ ساتھ دین کی ترویج واشاعت اور دوسروں کو دین کے مطابق اپنے کاموں کی انجام دہی کا فریضہ بھی نبھائیں۔ اسی طرح سرکاری سکولوں کے طلبہ بھی عضو معطل کی طرح معاشرے میں ٹھوکریں کھانے اور اچھی ملازمتوں سے محروم نہ رہیں بلکہ یکساں تعلیم کے حصول کے بعد وہ اپنی محنت اور قابلیت کے مطابق مسابقت کرسکیں جہاں تک نجی تعلیمی اداروں اور خاص طور پر بڑے نجی تعلیمی اداروں کے طلبہ کا سوال ہے وہ صرف دنیا ہی کے نہ ہوں بلکہ ان کو ضروری دینی تعلیم بھی ملے ان معاملات سے قطع نظر تین مختلف طرز تعلیم کے درمیان تضادات کی جو کیفیت ہے اسے کیسے دور کیا جائے گا اورکوئی ایسا انتظام کیسے ممکن ہوگا جس میںجملہ ضرورتوں کی رعایت بھی رکھی جائے اور وہ تین مختلف طبقات کیلئے قابل قبول بھی ہو۔

پولیس سربراہ کی تعیناتی وتبادلوں کا سلسلہ

صوبہ پنجاب کی طرح خیبرپختونخوا میں بھی پولیس کے صوبائی سربراہوں کا یکے بعد دیگرے تبادلہ اور آئی جی کی چند ماہ کے دوران ہی تبدیلی حکومت کے حوالے سے کچھ اچھے تاثرات کا حامل معاملہ نہیں۔آئی جی خیبرپختونخوا کی تبدیلی کی کوئی ٹھوس وجہ ہوتی تو اس کی گنجائش تھی بہرحال اب جبکہ ان کا تبادلہ کر دیا گیا ہے اور نئے پولیس چیف مقرر کئے گئے ہیں تو یہی امید کی جاسکتی ہے کہ آنے والے آئی جی اور حکومت کے درمیان اعتماد کا رشتہ قائم ہوسکے گا۔ نو تعینات آئی جی کی بھی یقیناً یہی کوشش ہوگی کہ وہ صوبائی حکومت کی توقعات پر پورا اُتریں اور وفاق سے ان کو اعتماد ملے۔ہم سمجھتے ہیں کہ سرکاری افسروں کے بار بار کے تبادلے ان اعلیٰ افسروں سے زیادہ حکومت کیلئے احسن نہیں، سرکاری افسران کا تبادلہ معمول کے مطابق ہو تو ان کو ملال بھی نہیں ہوتا لیکن اگر حکومت ان کو لڑھکنے والا پتھر بنادے اور بار بار ان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ بھجوائے تو پھر آنے والا افسر بھی اعتماد کیساتھ کام نہیں کرسکے گا۔بے چینی اور ہر وقت تبادلے کے خوف کا سرکاری ملازمین کی کارکردگی پر بری طرح اثر انداز ہونا فطری امر ہوتا ہے ۔کوشش ہونی چاہئے کہ ناگزیر نہ ہو تو سرکاری ملازمین کا وقت سے پہلے تبادلہ نہ کیا جائے اور ان کو یکسوئی کیساتھ کام کرنے دیا جائے ۔پولیس کے صوبائی سربراہ کا عہدہ پنجاب اور خیبرپختونخوا دونوں صوبوںمیں جس طرح غیر یقینی مدت کا بنادیا گیا ہے یہ پولیس فورس میں بد دلی کا سبب بن سکتا ہے۔ حکومت اس طرح کے تبادلوں سے اجتناب کرے اور سرکاری ملازمین کو یکسوئی اور اعتماد کیساتھ کام کرنے کا موقع دے تو یہ حکومت اور بیوروکریسی دونوں کے حق میں بہتر ہوگا۔ایک آئی جی سے وابستہ توقعات پوری نہ ہونے پر اس کا تبادلہ اور دوسرے آئی جی کی تعیناتی کے وقت حکومت نے یقیناً ان کے پیشرو کی کارکردگی سے بڑھ کر توقعات وابستہ کی ہوگی جن پر پورا اُترنا نئے آئی جی کیلئے کسی بڑے امتحان سے کم نہ ہوگا۔

سرکاری جامعات کے مسائل

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کا صوبے کی جامعات کو درپیش مالی مسائل دیرپا بنیادوں پر حل کرنے کیلئے محکمہ اعلی تعلیم، خزانہ اور دیگر متعلقہ محکموں کیساتھ مشاورت سے ٹھوس اور حتمی تجاویز پیش کرنے کی ہدایت تاخیر سے اُٹھایا جانے والا اقدام ہے۔سرکاری جامعات میں ناکافی بجٹ کے باعث پورا تعلیمی نظام اور معاملات کا ماحول متاثر ہورہا ہے، اس مقصد کیلئے جہاں حکومت کو وسائل کی فراہمی کی ذمہ داری پوری کرنی چاہئے وہاں جامعات کی انتظامیہ کو بھی فیکلٹی کو ترجیح دینے مستقل اساتذہ کی تعیناتی اور منسٹریل سٹاف کی غیر ضروری بھرتی کے علاوہ مالی بد عنوانیوں کی روک تھام یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں