Daily Mashriq

نیا سال خدشات وتوقعات

نیا سال خدشات وتوقعات

2019 کا سال اپنے اختتام کو پہنچ گیا، یہ سال جنوبی ایشیا کے حوالے سے کسی مثبت تبدیلی کی بجائے روح فرسا یادوں کو دامن میں لپیٹے رخصت ہوا۔ یہ سال بھی اپنے پیچھے اس خطے کے عوام کیلئے غربت، افلاس، بیروزگاری، سیاسی عدم استحکام کیساتھ ساتھ جنگ کے خطرات اور منڈلاتے ہوئے سائے چھوڑ کر چلا گیا۔ پاکستان، بھارت اور کشمیر کے حوالے سے یہ سال اپنے جلو میں تباہ کن واقعات لیکر آیا تھا۔ بھارت کی طرف سے بالاکوٹ آپریشن اور پاکستان کے جواب نے ابھی نندن جیسے کردار کو جنم دیا۔ ابھی نندن کا وجود بھارت کی کسی بھی جارحیت کے جواب میں پاکستان کے ردعمل کی علامت اور یاد بن کر رہ گیا۔ یہ کشیدگی ابھی برقرار ہی تھی کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے پانچ اگست کو کشمیر کی خصوصی شناخت پر حملہ کر دیا۔ بھارتی آئین میں کشمیر کو خصوصی شناخت دینے والی دفعات کو ختم کرکے کشمیر کا آئین اور الگ شناخت ختم کر دی۔ بھارت نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ کشمیریوں کو ممکنہ ردعمل سے روکنے کیلئے پوری وادی کو ایک قیدخانے اور تعذیب کدے کی شکل دیدی۔ فوج کی قوت کو بڑھا دیا گیا اور پوری ریاست میں کرفیو نافذ کر دیا گیا۔ انٹرنیٹ، موبائل ٹیلی ویژن بند کر کے کشمیری عوام کو اطلاع اور ابلاغ کے اس جدید دور میں پتھر کے دور میں پہنچا دیا گیا، خاندانوں کو کاٹ دیا گیا۔ بیرونی دنیا سے کاٹ کر کشمیریوں کو محصو ر کردیا گیا۔ مساجد پر تالے چڑھا دئیے گئے۔ کشمیر کی مذہبی شناخت کی علامت جامع مسجد سری نگر میں عبادت پر پابندی عائد کر دی گئی۔ ہزاروں کشمیریوں کو گرفتار کرکے جیلوں اور عقوبت خانوں میں بند کردیا گیا۔ دنیا میں انسانوں کی اتنی بڑی تعداد کو محصور کرنے کی مثال انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ کشمیری عوام نے بھارت کی اس پالیسی کے جواب میں عدم تعاون اور سول نافرمانی کا رویہ اپنا لیا۔ کشمیریوں کی اس حالتِ زار اور مظالم کی گونج عالمی سطح پر سنائی دی۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں وزیراعظم عمران خان نے ایک معرکة الآرا خطاب میں کشمیر کا مقدمہ زوردار انداز میں پیش کیا۔ سلامتی کونسل کے ارکان نے بھی بند کمرہ اجلاس میں کشمیر کی صورتحال پر بات چیت کی مگر اس کا اثر مجموعی صورتحال پر نہ پڑ سکا۔ بین الاقوامی دباؤ کے تحت کشمیر میں پابندیوں میں کچھ نرمی تو آئی مگر کشمیر کی شناخت پر بھارت کا مذموم حملہ ریورس نہ کیا جا سکا۔ کشمیر سے شروع ہونے والا رقصِ ابلیس آخرکار پورے بھارت تک وسیع ہوگیا۔ کشمیر کی الگ حیثیت شناخت اور تہذیب وثقافت پر حملہ کرنے کے بعد بھارت نے یہی کلیہ پورے بھارت پر لاگو کرنے کا راستہ اپنایا۔ کنٹرول لائن پر پاکستان اور بھارت کی افواج کے درمیان فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ جاری رہا جس کے نتیجے میں معصوم اور بیگناہ انسانی جانیں جن میں اکثریت کشمیریوں کی تھی اس فائرنگ کا شکار ہوتی رہی۔ اس طرح2019 اس خطے کیلئے سیاسی واقعات کے لحاظ سے ناقابل فراموش رہے گا۔ اس سال پیش آنے والے واقعات اب تاریخ کا حصہ بن کر صدیوں کیلئے محفوظ ہوگئے۔ ان فیصلوں کے اثرات کیا ہوں گے؟ اس کا جواب رفتہ رفتہ ملتا چلا جائے گا۔ سال نو کا آغاز ہوگیا ہے۔ یہ سال کرۂ ارض کیلئے بالعموم اور پاکستان بھارت اور کشمیر کیلئے کیسا ثابت ہوگا؟ یہ سوال بہت اہمیت کا حامل ہے۔ 2019 اس خطے کیلئے فتنۂ وفساد اور جنگ وجدل سے بھرپور رہا۔ پاکستان او بھارت کے مابین تعلقات پہلے ہی کشیدہ تھے مگر گزشتہ برس یہ تعلقات شدید بگاڑ کا شکار ہوگئے۔ تعلقات پر مصنوعی ملمع کاری پانچ اگست کے بعد دھل کر رہ گئی اور یوں دونوں ملکوں میں کشیدگی کے زیادہ خوفناک دور کا آغاز ہوگیا۔ پانچ اگست کو بھارت نے کشمیر کا خصوصی سٹیٹس ختم کرنے کیساتھ ہی اس تاریخی اور قدیم ریاست کو دوحصوں میں تقسیم کر دیا۔ ایک حصہ وادی کشمیر اور جموں قرار پایا جبکہ دوسرا حصہ لداخ بنا۔ دونوں حصوں کو براہ راست بھارتی یونین کا حصہ بنا دیا گیا۔ اس فیصلے کیساتھ ہی بھارت نے کشمیر کو ایک قید خانے کی سی شکل دیدی۔ اس طرح سال2020 کا آغاز ورثے میں چلی آنیوالی کشیدگی اور مخاصمت کیساتھ ہو رہا ہے۔ نریندر مودی کا خوں خوار سراپا ابھی اپنی روش ترک کرنے کو تیار نہیں۔ مودی مسلمان دشمنی کے جس ذہنی مرض کا شکار ہے اس میں کمی یا افاقہ ہونے کے آثار نہیں۔ امریکہ اور چین سمیت تمام اہم عالمی ممالک کی خواہش ہے کہ جنوبی ایشیا کے دو روایتی حریفوں کے درمیان باقاعدہ جنگ نہ ہو مگر وہ بھارت کو کشمیر میں غیرانسانی اقدامات سے روکنے کیلئے عملی طور پر کوئی قدم نہیں اُٹھا رہے۔ دوسری طرف مودی کا کشمیر دشمنی کا عارضہ اب مسلمان دشمنی میں ڈھل کر بھارتی مسلمانوں تک دراز ہو گیا ہے۔ مودی کے روئیے میں تبدیلی کے آثار دور دور تک دکھائی نہیں دے رہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان محدود جنگ جاری ہے لیکن کھیل ہی کھیل میں یہ محدود جنگ اور جھڑپیں کسی بڑی تباہی کا باعث بن سکتی ہے۔ کشمیر اور پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے نیا سال خدشات سے بھرپور ہے۔ حالات کا جائزہ لیں تو توقعات کی سپیس نہ ہونے کے برابر ہے۔ پاکستان کو اس سال جہاں محتاط طریقے سے آگے بڑھنا ہے وہیں کشمیریوں کی توقعات پر بھی پورا اُترنے کی کوشش کرنا ہے۔ 2020 پاکستان کے اگلے سیاسی اور معاشی سفر اور کامیابیوں کا تعین کرنے میں فیصلہ کن کردار کا حامل ہے۔ پاکستان کے ارباب بست وکشاد اور حکمران طبقات کو گرد وپیش کے حالات واقعات کو امکانات میں بدلنے کی منصوبہ بندی کرکے اس سال کو پاکستان کی تاریخ کا ایک منفرد سال بنانا ہوگا۔

متعلقہ خبریں