Daily Mashriq

یکساں نصاب تعلیم

یکساں نصاب تعلیم

وفاقی وزیر برائے تعلیم وپیشہ ورانہ تربیت شفقت محمود نے اعلان کیا ہے کہ مارچ2020 تک ملک بھر میں یکساں پرائمری نصاب مرتب کر لیا جائے گا، اگر ایسا ہو سکا تو یقینا بڑی خوش قسمتی کی بات ہوگی وطن عزیز میں یکساں نظام تعلیم کا رائج نہ ہونا بہت بڑا المیہ ہے۔ اس سے معاشرے میں دوریاں بڑھ رہی ہیں، نصاب یکساں بھی ہونا چاہئے اور اس پر نظرثانی کی ضرورت بھی ہے۔ ایک اچھا نصاب وہی ہوتا ہے جس میں اسلامی اور معاشرتی اقدار کا خیال رکھا جائے جو ہماری معاشی، معاشرتی اور اخلاقی اقدار سے ہم آہنگ ہو۔ لوگوں کی ضروریات کو پورا کرنے والا ہو اور اس میں جمہوریت کی روح موجود ہو یوں کہئے کہ ہر طبقے کی ضروریات پوری کرنیوالا ہو، حقیقی زندگی کا ترجمان ہو! ہمارے موجودہ نصاب میں اپنی اقدار کا بہت کم خیال رکھا گیا ہے ایک اچھے نصاب کا بنیادی تقاضا یہی ہوتا ہے کہ وہ طلبہ کے علم میں اضافہ کرنے کیساتھ ساتھ انہیں مہذب اور تہذیب یافتہ بنائے! اور یہ سب کچھ اچھے نصاب تعلیم سے ہی ممکن ہے۔ اس حوالے سے اساتذہ کرام کا کردار بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے، یہ اپنے طالب علموں کے مزاج، صلاحیتو ں اور ضرورتوں سے کماحقہ آگاہی رکھتے ہیں، بنیادی اہمیت اس بات کی ہے اور دیکھنا یہ ہے کہ ہمارے پرائمری سکولوں میں کس قسم کا نصاب پڑھایا جا رہا ہے، کیا وہ ہماری تہذیبی اور معاشرتی اقدار سے جڑا ہوا ہے؟ کیا اس میں ہمارے زمینی حوالے موجود ہیں؟ سب سے پہلے ان نکات پر غور کرنے کی ضرورت ہے یہ ماہرین تعلیم کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ جدید نسل کو ایک ایسا نصاب دیں جو عملی زندگی میں ان کی شناخت بن سکے! ہمارے یہاں انگریزی کے سیلاب نے ہمیں بہت سی اہم اقدار سے محروم کردیا ہے جہاں تک انگریزی زبان سیکھنے کا تعلق ہے تو وہ ہماری ضرورت ہے ضرور سیکھنی چاہئے لیکن انگریزی زبان میں مہارت حاصل کرنے کیساتھ ساتھ ہمارے نئی نسل کو اپنی تاریخ سے بھی واقفیت ہونی چاہئے۔ وہ اپنے مشاہیر کے کارناموں سے بھی پوری طرح باخبر ہوں اور یہ سب کچھ ایک اچھے نصاب تعلیم کی مدد سے ہی ممکن ہے! اس سے مثبت سوچ پروان چڑھتی ہے، اپنی ذات پر اعتماد پیدا ہوتا ہے اپنے اسلاف کی قدر وقیمت اور اہمیت میں اضافہ ہوتا ہے اور ہم بحیثیت مجموعی کسی بھی مقام پر احساس کمتری کا شکار نہیں ہوتے! اور یہ سب کچھ اجتماعی سطح پر اسی وقت ممکن ہے جب ہمارا نصاب تعلیم یکساں ہو! اس وقت وطن عزیز میں پانچ چھ قسم کے مختلف تعلیمی نظام ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔ مدارس، اُردو اور انگلش میڈیم سکول، اقراء سکول وغیرہ! ان سب کا نصاب ایک دوسرے سے مختلف ہے ان اداروں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبا وطالبات کی سوچ ایک دوسرے سے مختلف ہے، سب کی اپنی اپنی ڈفلی اور اپنا اپنا راگ ہے۔ سب اپنے آپ کو دوسروں سے بہتر سمجھتے ہیں اس طرح تفریق روزبروز بڑھتی چلی جارہی ہے، کسی بھی قوم کے اتحاد واتفاق کیلئے یہ بہت ضروری ہے کہ ان کا نظام تعلیم ایک ہو تاکہ سوچ وفکر کے حوالے سے ان میں دوریاں پیدا نہ ہوں! ایک اچھا نصاب تعلیم اساتذہ کرام کو تخلیقی صلاحیتوں سے کام لینے کی دعوت دیتا ہے، قومی نصاب تعلیم کہلانے کا مستحق وہی نصاب ہو سکتا ہے جس میں یکسانیت ہو جو سب کیلئے ایک جیسا ہو اس سے اجتماعی سوچ پروان چڑھتی ہو، اگر سوچ وفکر میں یکسانیت ہو تو قومی مسائل کا حل بڑی آسانی سے نکل آتا ہے بصورت دیگر بے اتفاقی سے مسائل مزید اُلجھتے چلے جاتے ہیں۔ قومی نصاب تعلیم ایسے طلبہ تیار کرتا ہے جو قوم کے مسائل سمجھتے ہیں، انہیں قومی ضروریات کا احساس ہوتا ہے وہ ایک ہی پلیٹ فارم پر کھڑے ہوکر قومی فلاح وبہبود کیلئے منصوبہ بندی کر سکتے ہیں جبکہ ہمارے یہاں صورتحال یہ ہے کہ مختلف قسم کے نصاب تعلیم کی وجہ سے طلبا وطالبات اُلجھ کر رہ گئے ہیں کیونکہ سب کے پاس اپنے اپنے دلائل ہوتے ہیں سب اپنے آپ کو درست اور دوسروں کو غلط سمجھتے ہیں اس کے برعکس قومی نصاب تعلیم طلبہ کیلئے ایسے کورسز تیار کرتا ہے جن میں مہارت حاصل کر کے وہ جدید دور کے تقاضوں کو سمجھنے کے قابل ہوجاتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ اساتذہ کرام کیلئے بھی اتنا ہی مفید ہوتا ہے جتنا کہ طلبہ کیلئے! اساتذہ ایک مخصوص فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے اپنے طلبہ کو حالات حاضرہ کے مسائل سے روشناس کرتے ہیں ان میں اپنے اردگرد ترقی کرتی اور تیزی سے آگے بڑھتی دنیا کا مشاہدہ کرنے کی تحریک پیدا کرتے ہیں یہی مطالعہ اور مشاہدہ عملی زندگی میں کام آتا ہے جدید دور کے تقاضوں سے نبردآزما ہونے کیلئے یہ بہت ضروری ہے کہ ہمارے طلبہ کسی بھی قسم کی دماغی اُلجھن میں مبتلا نہ ہوں انہیں جدید دور کے مسائل کا ادراک ہو! یہی وہ تربیت وصلاحیت ہے جو آج کے دور کا سب سے بڑا تقاضا ہے اور یہ سب کچھ یکساں نصاب تعلیم کے نفاذ کے بعد ہی حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اگر شفقت محمود یکساں تعلیمی نصاب رائج کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو یقینا یہ ایک بہت بڑی کامیابی ہوگی۔

متعلقہ خبریں