Daily Mashriq

خواجہ سعد رفیق کا زورِ بیان

خواجہ سعد رفیق کا زورِ بیان

جب سے سپریم کورٹ میںپاناماکیس کی سماعت شروع ہوئی ہے وزیر اعظم نواز شریف کے حامی اور ان کے سیاسی مخالف عدالت کے باہر میڈیا سے مخاطب ہوتے آئے ہیں۔ اس پر کوئی مدبرانہ تبصرہ اب تک نہیں آیا۔ عدالت کی کارروائی کو موضوع بنا کر سیاسی بیان بازی کی اس روایت کو حکمران مسلم لیگ ن کے پرجوش مقرر وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے عدالت کے باہر تو نہیں البتہ اپنے حلقۂ انتخاب میں اپنے ورکروں سے خطاب کی صورت میں برقرار رکھا اور بیشتر ٹی وی چینلز نے ان کے خطاب کو من و عن نشر کیا۔ انہوں نے سیاسی صورت حال کے مختلف پہلوؤں پر ایسے لب و لہجے میں ایسی باتیں کیں کہ بعض اخبارات نے اس خطاب کو شہ سرخی کے ساتھ شائع کیا۔ انہوں نے مسلم لیگ کے مخالفین کو انتباہ کیا کہ وہ جمہوریت کو پٹڑی سے اُتارنے کی کوشش نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ ممکنہ نااہلی کا فیصلہ آگ سے کھیلنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن میں گیارہ ماہ رہ گئے ہیں۔ ان کے مخالف گیارہ ماہ انتظار کیوں نہیں کر لیتے۔ ان کی تقریر سے جسد سیاسی کے بارے میں تشویش کا پہلو اس قدر نمایاں تھا کہ ایک اخبار نے ان کے خطاب کی تقریر پر شہ سرخی لگائی کہ انصاف نہیں ہو رہا۔ اورسبھی نے اس تقریر کو حکمران مسلم لیگ کی ترجمانی کے طورپر جانا۔ ویسے تو پاناما کیس پر تبصرہ کرنے والا اپنی پارٹی کے نقطۂ نظر کا ترجمان ہی سمجھا جاتا ہے تاہم خواجہ سعد رفیق نے جو اہم نکات اٹھائے ہیں ان کی وجہ سے یہ سوال ابھر کر سامنے آیا ہے کہ آیا یہ مسلم لیگ ن کی ترجمانی ہے یا خواجہ سعد رفیق کے اپنے خدشات ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر جمہوریت ''ڈی ریل'' ہوئی تو تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اس کے ذمہ دار ہوں گے۔ تو کیا خواجہ سعد رفیق کو بطور ترجمان مسلم لیگ ن جمہوریت کے ''ڈی ریل'' ہونے کا امکان نظر آ رہا ہے۔ اگر ایسا ہے تو انہیں قوم کو اعتماد میں لینا چاہیے کہ کون جمہوریت کو پٹڑی سے اُتارنے کی کوشش کر رہا ہے اور عمران خان کی اس میں ذمہ داری کیا ہے۔ انہوں نے جے آئی ٹی کی کارروائی پر بھی عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ لیکن جے آئی ٹی کوئی فیصلہ ساز ادارہ نہیں ہے۔ جے آئی ٹی یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف کے بچوں کے لندن کے فلیٹس کی خریداری کے لیے رقم آیا قانونی طریقے سے منتقل ہوئی یا نہیں۔ جے آئی ٹی رپورٹ پیش کرے گی جس کے بعد فیصلہ مناسب پراسس کے بعد سپریم کورٹ نے کرنا ہے۔ ابھی فیصلہ کا مرحلہ آیا ہی نہیں ہے تو اس کے بارے میں تشویش قبل از وقت ہی قرار دی جا سکتی ہے۔ اور پھر پاناما کیس کی تمام تر تحقیقات وزیر اعظم کے خاندان کے افراد سے ہو رہی ہیں۔ پاناما پیپرز میں وزیر اعظم کا نام بھی نہیں ہے محض اس لیے کہ تحقیقات وزیر اعظم کے خاندان کے افرادکے بارے میں ہو رہی ہیں اسے مسلم لیگ ن کے خلاف کارروائی سمجھنا یا قرار دینا وزیر اعظم نواز شریف سے ذاتی وفاداری کا اظہار تو ہو سکتا ہے لیکن اسے مسلم لیگ ن کا سرکاری موقف اس وقت تک نہیں سمجھا جا سکتا جب تک کہ مسلم لیگ ن بطور سیاسی جماعت اسے اپنا نقطۂ نظرقرار نہ دے۔ خواجہ سعد رفیق کی سیاسی ورکر کے طور پر اپنی حیثیت مسلمہ ہے اس لیے ان کی تقریر کو ان کے ذاتی نقطۂ نظر کے طور پر بھی اہم سمجھا جانا چاہیے۔ اول تو خود انہیں یہ وضاحت کرنی چاہیے کہ آیا جو باتیں انہوں نے کی ہیں وہ مسلم لیگ کا موقف ہے یانہیں۔ تاہم جن خدشات کا ان کی تقریر سے اشارہ ملا ہے ان پر غور کیا جانا ضروری ہے۔ جیسے کہ سطور بالا میں کہا گیا ہے کہ اولین بات یہ ہے کہ انہیں کھل کر بتانا چاہیے کہ کون جمہوریت کو ڈی ریل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ عمران خان کو انہوں نے یہ الزام نہیں دیا ہے کیونکہ انہوں نے اس کی ذمہ داری تو عمران خان پر ڈالی ہے تاہم یہ بھی کہا ہے کہ اس کا نقصان عمران خان کو بھی ہو گا اور خود عمران خان کو بھی مسلم لیگ ن کے ٹرک پر آنا پڑے گا۔ تو پھر کون ہے جوجمہوریت کو ڈی ریل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ خواجہ سعد رفیق پر یہ بتانا ان پر قوم کی طرف سے قرض ہے۔

اداریہ