Daily Mashriq


نئے عصری تقاضے

نئے عصری تقاضے

وزیر اعظم نواز شریف نے وطن واپس آتے ہی دفتر خارجہ میں ایک اہم اجلاس بلایا اور تازہ ترین حالات کے متعلق بریفنگ لی اور ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی خارجہ پالیسی کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے۔ اگرچہ خارجہ پالیسی ایک عرصہ سے خصوصی توجہ کی متقاضی تصور کی جا رہی ہے تاہم اس طرف فوری توجہ کی وجہ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کا دورۂ واشنگٹن اور وہاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے بعد مشترکہ اعلامیہ بنا۔ جس میں تنازع کشمیر کا کوئی ذکر نہیں تھا اور نہ انسانی حقوق کے بارے میں کوئی حوالہ تھا۔ اگرچہ امریکی دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کشمیر کے بارے میں امریکہ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور امریکہ اب بھی اسے بھارت کے ''زیرِ انتظام علاقہ'' قرار دیتا ہے۔ تاہم ٹرمپ مودی اعلامیہ میں امریکہ کی طرف سے تنازع کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی یا مصالحت کاری یا مذاکرات کے لیے سہولت کاری کا عنصر غائب تھا جو امریکی پالیسی میں واضح تبدیلی کی نشاندہی ہے۔ اس بارے میں وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ٹرمپ مودی مشترکہ اعلامیہ میں کشمیر کو نظر انداز کیا جانا افسوس ناک ہے۔ یہ افسوس ناک واقعہ اچانک نہیں ہو گیا بلکہ عصر حاضر کے ان واقعات کا ایک پہلو ہے جو ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکہ کا صدر منتخب ہونے کے بعد پے درپے ظہور میں آ رہے ہیں۔ یہ بات صاف نظر آ رہی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا امریکہ بین الاقوامی تعلقات میں بہتری کے امکانات تلاش جاری رکھنے کی بجائے امریکہ کے فوری مفادات پر زیادہ متوجہ ہے۔ امریکہ نے یورپ سے تعلقات میں سرد مہری اختیار کی ہے اور ماحولیاتی معاہدے سے بھی دست کشی اختیار کی ہے۔ ان اقدامات کے باعث امریکہ کے اخراجات میں کمی آئے گی۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی دارالحکومت کا دورہ کیا جہاں انہوں نے متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کو چار بلین ڈالر کے میزائل فروخت کرنے کے معاہدے کیے۔ ان کے دورے کے بعد سعودی عرب کی قیادت میں خلیجی ممالک اور قطر کے درمیان کشیدگی نمودار ہوئی۔ قطر کے لیے بھی امریکی ایف 15طیارے فراہم کرنے کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ بھارتی وزیر اعظم کے دورۂ واشنگٹن کے دوران حساس نوعیت کے امریکہ اسلحہ کی فروخت کے معاہدے ہوئے ہیں اور ایف سولہ طیارے تیار کرنے والی کمپنی لاک ہیڈ کے ساتھ بھارت کی ٹاٹا سٹیل کا معاہدہ ہوا ہے۔ ایف سیریز کے لڑاکا جیٹ طیارے امریکہ کے اشتراک سے بھارت میں بنیں گے تو کیا وہ بھارت ہی میں رہیں گے یا دیگر ملکوں کو بھی فروخت کیے جائیں گے ؟ اس ابھرنے والے سوال کا جواب یہ ہے کہ لاک ہیڈ ایک تجارتی کمپنی ہے ۔ بھارت کو امریکی بحری ڈرون طیارے بھی فراہم کیے جا رہے ہیں جس میں بھارت کو بحرالکاہل کی وسیع تر نگرانی کی صلاحیت حاصل ہو جائے گی۔ یہ چین کو محدود رکھنے کی پالیسی کا حصہ ہے۔ امریکہ نے حال ہی میں تائیوان کو کم و بیش ڈیڑھ بلین ڈالر کا اسلحہ اور دفاعی ساز و سامان سپلائی کرنے کا معاہدہ کیا ہے۔ الغرض ڈونلڈ ٹرمپ کا امریکہ ایک طرف چین کو محدود کرنے کے لیے اس کے مخالف عناصر کو اسلحہ سے لیس کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے اور اس پالیسی کے تحت امریکہ کے اسلحہ ساز کارخانوں کے لیے ان ممالک سے سرمایہ حاصل کر رہا ہے اور اس میں اسے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وعدوں کی بھی پروانہیں ۔ الغرض نئے بین الاقوامی تعلقات بنتے نظر آ رہے ہیں ان میں عین ممکن ہے پاکستان کی امریکی امداد میں بھی کوئی بھی جواز پیش کرکے کمی کی جائے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی امریکی خارجہ پالیسی دنیا کویک قطبی دنیا میں تبدیل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتی۔ دنیا بدل رہی ہے اور معاشی خوش حالی کے لیے خود انحصاری اور انحصار باہمی کی طرف بڑھ رہی ہے۔ چین کا ون بیلٹ ون روڈ سی پیک جس کا ایک حصہ ہے معاشی انحصار باہمی کی طرف بڑھتی ہوئی دنیا کے لیے ایک قوی امید ہے۔ نئے عصری تقاضوں کا ایک پہلو یہ ہے کہ مودی ٹرمپ مشترکہ اعلامیہ میں کشمیر کا ذکر کیا گیا ہے نہ انسانی حقوق کا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا امریکہ وہ امریکہ نہیں ہے جو پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازع کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر ورسوخ استعمال کرنے کی پیش کش کیا کرتا تھا۔ اس صورت حال کو دنیا کے نئے تقاضوں کی دین سمجھا جانا چاہیے۔ اس امکان کے باوجود کہ مودی کا بھارت کوئی ایڈونچر کرنے کا خطرہ مول لے سکتا ہے اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ دنیا میں بین الاقوامی تنازعات مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ہی طے ہوں گے۔ اس لیے نئے عصری تقاضوں کے مطابق دنیا پر پاکستان کا موقف واضح کرنے کی ضرورت اب پہلے سے زیادہ ہے۔ تنازع کشمیر بین الاقوامی طور پر مسلمہ تنازع ہے اس میں ذمہ دار فریق بھارت ہے جو ایک طرف کشمیریوں کے جذبۂ آزادی کو کچلنے کے لیے ان پر انسانیت سوز مظالم ڈھا رہا ہے ۔ گزشتہ جولائی سے بھارت نے کشمیریوں پر مظالم کی انتہا کر دی ہے دوسری طرف وہ کشمیریوں کی آزادی کی حقیقی جدوجہد کو پاکستان کی سازش قرار دینے اور کشمیریوں کے لیے پاکستان کی اخلاقی' سیاسی اور سفارتی حمایت کو کمزور کرنے کے لیے پاکستان میں دہشت گردی کے جال پھیلائے ہوئے ہیں۔ جس منصوبے کا ایک کارندہ کلبھوشن یادیو کی صورت میں پاکستان میں زیرِ حراست ہے۔ کشمیریوں پر مظالم اور پاکستان میں دہشت گردی کی بھارتی کارروائیوں کو الگ الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ اس لیے وزیر اعظم نواز شریف کے زیر ہدایت دفتر خارجہ اگر پاکستان کے موقف کو اجاگر کرنے کے لیے فعال تر سفارت کاری کی حکمت عملی میں ان دونوں پہلوؤں کوالگ نہیںکیا جا سکتا۔ پاکستان کی فعال تر سفارت کاری کے مخاطب دنیا کے ملکوں کے سیاسی قائدین کے علاوہ وہاں کے دانشور 'انسانی حقوق کی تنظیمیں' سماجی تنظیمیں اور عوام ہوں گے تب ہی یہ حکمت عملی کامیاب ہو سکے گی۔ 

متعلقہ خبریں