Daily Mashriq

سچائی کی تلاش

سچائی کی تلاش

کل ہمیں بیک وقت دو کتابیں تحفے میں ملیں۔ دونوں انگریزی میں ہیں اور دونوں کا موضوع کم و بیش ایک ہے۔ یعنی سچائی کی تلاش۔ بلند انسانی قدریں ہمیشہ سے پر امن اور ایک حد تک مسائل سے پاک معاشرے کے لئے ضروری سمجھی گئی ہیں۔ لیکن آج کے دور میں جب کہ ساری دنیا ایک اخلاقی بحران سے دو چار ہے انسانی اقدار کی بازیافت کچھ زیادہ ہی محسوس کی جا رہی ہے۔ ہمارے ہاں تو صداقت و امانت کی توضیح و تشریح عدالتوں کے سپرد کردی گئی ہے کوئی خود کو صادق و امین ثابت کرنے کے لئے آئین کی شقوں کا سہارا لے رہاہے تو ان کے مخالفین انہیں شقوں کی روشنی میں دوسرے کو اس کا برعکس ثابت کرنے کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔ چنانچہ ایسی کتابوں کا مطالعہ جن میں انسانی قدروں کی نشاندہی' معروضی انداز میں کی گئی ہو' ان کو پڑھنا ضروری ہوگیا ہے۔ ہم آج جن دو کتابوں کا ذکر کرنا چاہتے ہیں ان میں سے ایک تو ہمارے دیرینہ شاگرد محمد اقبال کی ہے۔ وہ علم فلسفہ کے ماہر ہیں اور زندگی کے ہر مسئلے کا حل فلسفے میں ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک کتاب فلسفہ کیا ہے وہ تصنیف کرچکے ہیں اور اب دوسری کتاب فلاسفی کے نام سے تالیف کی ہے جس میں دنیا کے عظیم دانشوروں کے اقوال ترتیب دئیے گئے ہیں۔ کتاب کے سرورق پر افلا طون اور اس کے شاگرد ارسطو کی شبیہیں چسپاں ہیں جن میں دونوں کو افلاطون کی دانشگاہ میں داخل ہوتے دکھایا گیاہے۔ افلا طون کی انگلی آسمان کی طرف اٹھی ہے اور ارسطو کا اشارہ زمین کی جانب ہے۔ مطلب مولف نے یہ اخذ کیا ہے کہ افلا طون کے خیال میں ذہن کو مادے پر ترجیح حاصل ہے جبکہ ارسطو بتاتا ہے جی نہیں خیال کا درجہ ثانوی ہے۔ اپنے استاد سے اس نظریاتی اختلاف کے باوجود ارسطو کہتا ہے کہ میں اپنے استاد افلاطون کا بے حد احترام کرتا ہوں لیکن سچائی مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے۔ بہر حال کتاب کے سرورق پر درج ارسطو کے اس قول سے انکار ممکن نہیں کہ عام آدمی کو کسی دور میں بھی آدمی کا بیٹا نہیں سمجھا گیا۔ فلاسفی 154صفحات پر مشتمل ایک مختصر کتاب ہے جس میں دنیا کے بڑے بڑے دانشور اور علماء کے 458 اقوال ضرب الامثال اور فرمودات جمع کئے گئے ہیں جن میں افلا طون' ارسطو' کنفیوشس' شیکسپیئر' نپولین' لینن' کارل مارکس' مہاتما گوتم بدھ اور گاندھی تک کے لوگ شامل ہیں۔ ایک طویل اقتباس غنی خان کے کسی مضمون سے بھی لیا گیا ہے۔ فلاسفی کے تمام مندرجات میں علم و دانش کا کوئی ایسا نکتہ ضرور موجود ہے جو سیدھا دل کو جا کر لگتا ہے۔ ہم یہاں ان کی چند ایک مثالیں ہی پیش کرسکتے ہیں۔ ذہانت اور بے وقوفی کے فرق کو آئن سٹائن یوں بیان کرتا ہے کہ اگر کسی نے مچھلی کو درخت پر چڑھتے دیکھا تو وہ ہمیشہ اس کی نادانی کے بارے میں سوچتا رہے گا یعنی کہ چرتہ نہ کار ھلتہ سہ کار۔ چی گویرا کہتے ہیں جب نا انصافی قانون بن جائے تو پھر اس کی مزاحمت ضروری ہو جاتی ہے۔ مارک ٹوئین نے ہدایت کی ہے کہ طب کی کتابیں احتیاط سے پڑھئیے۔ کتاب کی کوئی غلطی آپ کی جان بھی لے سکتی ہے۔ الفاظ کی حرمت پر کسے شک ہوسکتا ہے لیکن اس کا غلط استعمال جرم بن جاتا ہے۔ ہنری ساڈو کہتے ہیں بندوق سے آپ کو اس کا مردہ جسم ملتا ہے جیتا جاگتا پرندہ نہیں اور یہ کسی نا معلوم دانشور کا قول ہے۔ میں صرف اپنے الفاظ کا ذمہ دار ہوں اس کے سمجھنے کی ذمہ داری تم پر عائد ہوتی ہے۔ اب د وسری کتاب کا بھی اختصار سے ذکر ہو جائے۔ یہ انتھونی ڈی میلو کی The prayers of the Frog کی پہلی جلد ہے جو ہمارے دوست کرنل انیل مدن نے ہمیں فراہم کی ہے۔ انتنونی ڈی میلو کہتے ہیں کہ یہ عجیب قسم کاراز ہے کہ انسان ہمیشہ صداقت کی تلاش میں رہتا ہے اور جس کے پانے میں ایک آزادی کے ساتھ روحانی خوشی کا بھی احساس ہوتا ہے۔ اسی صداقت کی تلاش میں مصنف نے حکایات سعدی کی طرز پر کچھ صداقتوں کی نشاندہی کی ہے۔ کتاب میں دعا' بیداری' مذہب' عنایت و نوازش' صوفیائ' خودی' محبت اور سچائی کے عنوانات کے تحت حکایات بیان کی ہیں جن کے مطالعے سے ذہن کو صرف روشنی ہی نہیں ملتی انسان غور و فکر پر بھی مجبور ہو جاتا ہے۔مصنف نے ان تحریروں کو بڑے سکون اور ترتیب کے ساتھ پڑھنے کی ہدایت کی ہے۔ ایک حکایت میں بیان کیا گیا ہے کہ با یزید بسطامی سے ایک شخص نے ان کے ہاتھ پر بیعت کرنے کی خواہش ظاہر کی بایزید نے اس سے کہا اگر تم صداقت کے متلاشی ہو تو پہلے آپ کو اس کی کچھ شرائط پوری کرنا ہوں گی۔ وہ کیا ہیں اس شخص نے پوچھا۔ لکڑیاں کاٹنا پڑیں گی' پانی بھرنا ہوگا' گھر کی صفائی ستھرائی کی ذمہ داری قبول کرو گے۔ کھانا بھی پکائو گے۔ جی نہیں' اس شخص کا جواب تھا میں سچائی ڈھونڈنا چاہتا ہوں' مجھے ملازمت درکار نہیں۔ ایک قصبے میں کار کو حادثہ پیش آیا جائے حادثہ پر ایک ہجوم اکٹھا ہوگیا۔ ایک عجلت پسند اخباری رپورٹر نے زخمی تک پہنچنے کی کوشش کی لیکن بھیڑ میں سے راستہ نہ بنا سکا۔ آخر کار ایک خیال اس کے ذہن میں آیا چیختے ہوئے کہنے لگا خدارا مجھے راستہ دو زخمی میرا بیٹا ہے۔ لوگ ایک طرف ہٹ گئے' رپورٹر کو یہ جان کر شدید شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ وہاں ایک زخمی گدھا پڑا تھا۔ ایک استاد جدید ایجادات پر لیکچر دے رہا تھا حاضرین سے پوچھا ایسی چیز کا نام بتائو جو پچاس سال پہلے موجود نہ تھی۔ ایک لڑکا اٹھا اور بولا حضور! وہ میں ہوں۔ یہ اور اس طرح کی بے شمار دلچسپ اور حقیقت افروز حکایات ''مینڈک کی دعا'' میں درج ہیں۔ آئندہ بھی ان کا ذکر ہوتا رہے گا۔

اداریہ