Daily Mashriq


جمشید دستی ،مول راج ہے نہ ساون مل

جمشید دستی ،مول راج ہے نہ ساون مل

جمشید دستی کی سیاست کا آغاز ضلع کونسل مظفر گڑھ کے رکن کی حیثیت سے ہوا،عبدالقیوم جتوئی ضلع کونسل کے چیئرمین تھے ان کا پیپلز پارٹی سے تعلق تھا سو چوہدری پرویز الٰہی اور جنرل پرویز مشرف سے ٹھن گئی جتوئی مرد میدان رہے چوہدری اور جنرل مل کر بھی انہیں دبا سکے نہ خرید پائے۔دستی کو محترمہ بینظیر بھٹو سے مزدور رہنما اور جیالے کے طور پر متعارف کروانے والے جتوئی ہی تھے ان ہی کی سفارش پر دستی کو پیپلز پارٹی نے 2008 میں قومی اسمبلی کیلئے امیدوار بنایا۔ وہ اس شان سے جیتے کے بڑے بڑے نواب زادے اور لیڈری کے خبط میں مبتلا جاگیردار منہ کے بل جا گرے۔ محترمہ بینظیر بھٹو کے نام سے انہوں نے مظفر گڑھ میں غریبوں کیلئے فری بس سروس شروع کی۔مزدور سیاست کے لچھنوں سے آگاہ دستی آگے بڑھنے کے شوقین تھے لاریب یہ سب کا بنیادی حق ہے ان کی ڈگری کا مسئلہ سپریم کورٹ میں گیا تو جسٹس افتخار محمد چوہدری نے انہیں مستعفی ہونے کا موقع دیا۔وہ مستعفی ہوگئے۔ دستی مستعفی ہوئے اور دوبارہ پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن بن گئے۔ہمارے مرشد پاک سید یوسف رضا گیلانی اسحلقہ سے اپنے بھائی سید مجتبیٰ گیلانی کو امیدوار بنانے کے آرزومند تھے یہاں تک کہ وہ بھائی کے کاغذات نامزدگی جمع کروانے کیلئے ایک جلوس کی صورت میں ملتان سے مظفر گڑھ جانے کا پروگرام بنا چکے تھے مگر صدر آصف علی زرداری کی مداخلت پر دستی کوہی پیپلز پارٹی کا امیدوار بنایا گیا دو روایات ہیں۔اولاً یہ کہ دستی نے ایوان صدر میں زرداری کے گھٹنے چھو کر کہا(میڈا سردار کوئی غریب پتر کوں عاق وی کریندے)میرے سردار کوئی غریب بیٹے کو عاق بھی کرتا ہے۔دوسری روایت یہ ہے کہ مخدوم فیصل صالح حیات کی بیگم فریال تالپور(آصف علی زرداری کی بہن)سے بدتمیزی پر دستی نے مخدوم صاحب کو بھرے ایوان میں غدار اور کچھ دوسرے القاب پیش کئے جسکی وجہ سے بیگم فریال تالپور نے اسے نہ صرف قومی اسمبلی کا ٹکٹ دلوایا بلکہ انتخابی اخراجات کیلئے کچھ اعانت بھی کی۔2013 کا انتخاب انہوں نے اپنے محسن بڑے صاحب کے مشورے پر آزادانہ طور پر لڑنے کا اعلان کیا۔پیپلز پارٹی سے الگ ہوئے اور جس زرداری کو میڈا سردار کہتے تھے اس کے بارے میں نازیباگفتگو فرمائی یہاں تک کہ بلاول کو بھی سوقیانہ جملوں کی مار ماری۔دستی پر الزامات بہت ہیں پہلا یہ ہے کہ وہ بعض کالعدم تنظیموں کے پرجوش سہولت کار ہیں اور یہ کالعدم تنظیمیں ان کی مددگار و معاون ۔ثانیاً یہ کہ وہ کوٹ ادو آئل ریفائنری کی پائپ لائن سے تیل چوری کرنے والوں کے سرپرست ہیں۔ثالثاً یہ کہ تیل لیجانے والے آئل ٹینکروں سے جو بھتہ لیا جاتا ہے اس میں 200 روپے فی ٹینکر ان کا حصہ ہوتا ہے۔غریبوں کا یہ لیڈر اب 2002ء والا غریب دستی ہر گز نہیں۔ان پر جو الزامات ہیں ان کے حوالے سے بھی یہ عرض کروں گا کہ انہوں نے خود کبھی اس کی تردید نہیں کی۔دستی نے تحریک انصاف کے کنٹینر پر چڑھ کر تحریک میں شمولیت کا اعلان بھی کیا تھا پر کہا کہ میری والدہ نے کہا ہے کہ غریبوں کی جماعت بنائو۔عوامی راج پارٹی کے نام سے انہوں نے اپنی جماعت بھی بنائی اور اس کے سربراہ ہیں۔سیلانی آدمی ہیں سنجیدہ بالکل نہیں۔نظریات کی الف ب سے عدم شناسا ہیں۔مزدور رہنما کہلوانے کے فوائد جانتے ہیں۔الحمد للہ ایک بار نہیں کئی بار سرائیکی وسیب کے لوگوں کے الگ صوبہ بنانے کے مطالبے کی مخالفت بھی کرچکے اور اتنی ہی بار حمایت۔ ان دنوں وہ قومی اسمبلی کے ایوان میں نوازشریف کے داماد کیپٹن(ر)صفدر پر جملے کسنے اور گو نواز گو کے نعرے لگانے کی پاداش میں زیر عتاب ہیں۔ان سے جو سلوک پولیس نے کیا وہ شرمناک ہے اور اس سے زیادہ شرمناک بات یہ ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے ان کی گرفتاری کیلئے آئی جی پنجاب کو ذاتی طور پر حکم دیا۔پہلا الزام یہ تھا کہ انہوں نے کسانوں کی حمایت کرتے ہوئے نہر توڑی اس پر قومی اسمبلی کے سپیکر نے کہا دستی نے سندھ کا پانی بند کیا سپیکر نے غلط بیانی کیوں کی یہ وہی جانتے ہوں گے۔ایک مقدمہ میں ضمانت اور دوسرے میں گرفتاری اوربالآخر دہشت گردی کے مقدمہ میں گرفتاری نے بہت سارے سوالات کھڑے کردئیے۔ کچھ دوست انہیں سرائیکی وسیب کا ہیرو بنا کر پیش کرنے کے خواہشمند ہیں اور کچھ غریب رہنما پیپلز پارٹی والے کھٹالے میں پھنسے دستی پر آوازیں کس رہے ہیں وہ سرائیکی وسیب کے لیڈر تھے ناہیرو ہیں ان کی سیاسی زندگی بے وفائیوں اور کج ادائیوں سے عبارت ہے لیکن سفید پوش کی بے وفائی گالی بن جاتی ہے اشرافیہ کی قلا بازیاں جمہویت کی خدمت۔دستی ۔دیوان مول راج ہیں نا ساون مل وہ ہر حال میں دستی ہی ہیں۔ قومی اسمبلی کے ارکان کی اپنے ایک ساتھی رکن کے ساتھ حکومت اور پولیس کے شرمناک برتائو پر خاموشی افسوسناک ہے ان پر آوازیں کسنے والوں کو کسی اور موقع کا انتظار کرنا چاہیے تاکہ سیاسی بے وفائیوں اور بدزبانیوں کا حساب چکا سکیں اس وقت وہ شریف خاندان کے انتقام کا شکار ہیں کسی مجبور اور ظلم سہتے شخص کی اگر حمایت نہ کی جائے تو اس پر جملے بازی بھی نہ کی جائے۔میرا نہیں خیال کہ ''کوئی قوت''انہیں سرائیکی وسیب کا لیڈر بنانا چاہتی ہے۔وسیب کا لیڈر بننے کیلئے کم از کم مرحوم تاج محمد لنگاہ جیسا باشعور سیاسی کا رکن۔دانشورصاحب مطالعہ اور معاملات کی فہم رکھنے والا ہونا ضروری ہے جبکہ اس حوالے سے ان کے پلے کچھ نہیں۔

متعلقہ خبریں