Daily Mashriq

مٹی میں چراغ رکھ دیا ہے

مٹی میں چراغ رکھ دیا ہے

مرتاض ومر نجا ن اور حبّ الوطنی سے سرشار شریف فاروق بھی خالق حقیقی سے جا ملنے کے لیے پیوست خاک ہو گئے۔ ان کے بارے میں کیا لکھا جائے کیا نہ لکھا جائے یہ بہت مشکل امر ہے۔ وہ ہفت پہلو شخصیت کے مالک تھے ان کا ہر پہلو نا سفتہ شفاف اور مصفاء رہا ۔ حکمت و دانش ، مصنف ، شاعر ، ادیب ، صحافت ، حقوق انسانی ،خدمت گزاری ، تعلق داری ، ملنساری جس پہلو سے بھی نظر ڈالی جائے اس میں وہ یکتا ہی نظرآئیں گے صحافی برادری میں وہ واحد شخصیت تھے جنہو ں نے شعر کی ادائیگی میں کبھی بھی لر زش نہیں کھا ئی۔ کمال یہ تھا کہ وہ شعر سن کر بتا دیا کر تے تھے کہ یہ شعر فلا ں شاعر کا ہے ۔ لا ہو ر سے پشا ور دو مر تبہ آکر بسیر ا کیا ، جب دوسری مر تبہ پشاور تشریف لا ئے تو یوں کہنا چاہیے کہ سب کشتیاں جلا کر آئے پھر یہیں کے ہو رہے ، انہو ں نے پشاور کی ترقی میں بھی اہم کر دار ادا کیا اور ا س کے لیے باقاعدہ مہم کا بھی سہا را لیا۔ جب پشاور کے چوک یاد گا ر کا پر انا ما ڈل جوبنا یا تو انگریز کے دور میں گیا تھا مگر وہ اسلا می تہذیب وتمد ن کی عکا سی کرتا تھا۔ ایو ب خان کے دور میں اس ما ڈل کو مسما ر کر کے جو ما ڈل تعمیر کیا گیا اس سے صلیب کا گما ن گزر تا تھا۔ شریف فاروق نے اپنے قلم کو اس کے ماڈل کو تبدیل کرنے ہی کی مہم نہیں چلائی بلکہ یہ بھی مہم کا حصہ بنایا کہ اس تاریخی مقام پر ایک انتہائی عمدہ لائبریر ی بنا ئی جا ئے تاکہ عام آدمی بھی مستفید ہو اور اس کے ساتھ تحقیق و تجسس کرنے والے بھی اس سے نہا ل ہو ں۔ اسی طر ح انہو ں نے شہر یو ں کے کئی حقوق کے لیے آوا ز بلند کی مثلا ً پشاور جو تفریح مقامات سے محروم شہر کہلا تا ہے اس کے لیے مثبت تفریح گاہیں قائم کر نے کے لیے باقاعدہ مہم کا آغا ز کیا۔ پشاور کے تاریخی قلعہ با لا حصار کو عوام کی تفریح کے لیے کھو ل دینے کا مطالبہ بہت زور و شور سے کیا ، جب ان کی یہ مہم عر وج پر تھی تو قلعہ بالا حصار جہا ں فرنٹیئر کو ر کا ہیڈ کو ارٹر قائم ہے اس وقت کے کو ر کما نڈر ایف سی نے برہمی کا اظہا ر کیااور کہا کہ پبلک کے لیے اگر قلعہ کے دروازے کھول دئیے جا ئیں تو ایف سی کو کہا ںلے جائیں گے ، تو شریف فاروق کا جو اب تھا کہ لا ہو ر کے شاہی قلعہ میں کوئی ہیڈ کو ارٹر قائم نہیں ہے جہا ں کئی تفریح مقاما ت ہیں۔ اگر اہل پشا ور کو ایک بہتر تفریحی مقام میسر آجائے تو وہ ہیڈ کو ارٹر سے بڑھ کر ہے ۔ ہیڈ کو ارٹر تو کہیں بھی منتقل کیا جا سکتا ہے اور ایسی کئی جگہیں ہیں جہا ں اس کے دفاتر منتقل کیے جا سکتے ہیں۔ حیا ت آباد کے پا س کافی زمین پڑی ہے وہا ں نئی عما رات تعمیر کی جا سکتی ہیں۔ یہ شریف فاروق کی کا وش تھی کہ پھر قلعہ بالا حصار کو مخصو ص اوقات میں عوام کی تفریح کے لیے کھو ل دیا گیا تھا ۔ تاہم یہ سلسلہ ملک میں دہشت گردی کی وجہ سے ٹو ٹ گیا ۔ شریف فاروق ایک درجن کے لگ بھگ کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔ مادر ملت اور قائد اعظم کی جدوجہد پر انہو ں نے بہت تحقیقی کتا بیں لکھیں ، ان کو حسن کا رکر دگی ایو ارڈ سے بھی نو ا زا گیا کئی غیر ممالک کا دو رہ بھی کیا جس میں ایر ان ، بھارت ، برطانیہ ، فرانس ، امریکا ، عرب ممالک ، اور بہت سارے ممالک ہیں جہاں بھی گئے وہاں انہو ں نے ان ممالک کے حالا ت کا جا ئزہ پاکستان کی تر قی اور خوشحالی کے مستقبل کے پس منظر میںلیا۔ مطالعے کا ان کو بے حد شو ق تھا۔ جب بھی سفر میںہو تے تو ان کے زیر مطالعہ کتا بیں رہتیں اور لکھنے لکھا نے کا کا م بھی سفر حضر میں جا ری رہتاتھا حتیٰ کہ رات گئے سوتے میںآنکھ کھل جا تی تو سرہا نے سے فوراًکتا ب نکا لتے اور ا س کا مطالعہ شروع کر دیتے ۔ پھر کسی وقت دوبارہ آنکھ کھل جا تی تو یہ عمل پھر دہر اتے رہتے تھے ۔ شریف فاروق لا ہو ر سے پشاور غالباً1952میں پہلی مرتبہ آئے اس سے پہلے وہ لا ہور کے ایک معروف اخبار احسان میں رپورٹر تھے ، خان قیوم کے کہنے پر ملک نو ر الٰہی جو پہلے لاہو ر سے احسان اخبار شائع کرتے تو بعد ازاں انہو ں نے شہباز اخبار کا بھی اجرا ء کیا تھا ، پشاور منتقل ہو گئے اور یہا ں سے شہباز کا از سر نو آغاز کیا ، شہباز کے ایڈیٹر ممتا ز اور عالمی شہرت یا فتہ صحافی شاہین صہبائی کے والد عبدالقدوس صہبائی مقر ر کیے گئے تھے جو خود بر صغیر ہند وپاکستان کے معروف صحافی تھے ، ان کو ایک بہترین نیو ز ایڈیٹرکی ضرورت تھی نو رالٰہی شریف فاروق کی صلا حیتو ں سے واقف تھے چنا نچہ انہو ں نے ان کو پشاور بلالیا بعد ازاں شریف فاروق صہبائی صاحب کی علیحد گی کے بعد روزنامہ شہبا ز کے ایڈیٹر مقر ر ہوئے۔ اس وقت یہ اخبار پشاور کا چوٹی کا اخبار تھا ، کچھ عرصہ بعد حمید نظامی نے ان کو لا ہو ر بلا کر نو ائے وقت کا چیف رپو رٹر مقر ر کیا۔ اس دوران پا کستان کے صدارتی انتخا بات ہوئے جس میں ایو ب خان کا ما در ملت کے ساتھ مقابلہ تھا۔ شریف فاروق نے مادرملت کی انتخا بی مہم کی رپو رٹنگ ا س عمدہ اند از میں کی کہ نو ائے وقت ملک کا سب سے زیادہ پسندید ہ اخبار بن گیا۔ حمید نظامی کے انتقال کے بعد مجید نظامی جو برطانیہ میں نو ائے وقت کے بیو رو چیف تھے۔پا کستان آکر نوائے وقت کی ذمہ داریا ں سنبھالیںاور شریف فاروق کو لند ن میں نو ائے وقت کا بیو رو چیف بنا دیا ، جہا ں انہو ں نے غیر جا نبد ار صحافت کے ساتھ ساتھ ملک کے سفیر کا بھی کر دا ر عمدگی سے ادا کیا جو ان کی پا کستان سے محبت کا مظہر ہے۔ ان کی رحلت پریہ ہی کہا جا سکتا ہے کہ 

زمین کے اند ر بھی روشنی ہو
مٹی میں چرا غ رکھ دیا ہے

اداریہ