Daily Mashriq


دفاعی حصار پر داعش کی دستک؟

دفاعی حصار پر داعش کی دستک؟

پاک افغان سر حد پر واقع بلند پہاڑوں میں گھرا پاڑہ چنار کرم ایجنسی کا ہیڈ کوارٹر ہے۔یہاں بھی مختلف قبائل کا اثر رسوخ ہے جن میں طور ی اور بنگش قابل ذکر سمجھے جاتے ہیں ۔اسی کی دہائی میں جب ملک میں فرقہ واریت کے بیج بوئے جا رہے تھے تو یہ علاقہ بھی اس وباء کا شکار ہوگیا اور یہاں فرقہ وارانہ بنیادوں پر خوفناک مسلح تصادم ہوتے رہے ۔جن میں مشین گن اور راکٹ لانچر بھی شامل ہوتے تھے ۔پاڑہ چنا رکے ساتھ ہی افغانستان کی سرحد ہے اور یہ قربت کچھ ایسی ہے کہ افغانستان کے پہاڑوں سے پاڑہ چنار کے روشن بلب گنے جا سکتے ہیںاور میں ایک زمانے میں یہ کام کرچکا ہو ں ۔ستمبر1988کی ہنگامہ خیز اور سرد راتیں جب کالج کی چھٹیوں کے بعد افغانستان جانے کے شوق میں کوہ سفید کے دامن میں گل بدین حکمت یار کے ایک فوجی مرکز ''الفتح غنڈ''میں جا پہنچے ۔جنرل ضیاء الحق کا حادثہ ہوچکا تھا اور اس سے کچھ ہی پہلے علامہ عارف الحسینی قتل کر دئیے گئے تھے اور اس کے اثرات ملک کے طول وعرض میں محسوس کئے جارہے تھے ۔افغانستان کے جس علاقے ہمیں جانا تھا اس کی راہ میں علامہ عارف الحسینی کا گائوں بھی پڑتا تھا ۔اس راہ سے گزرتے ہوئے گائیڈ ہمیں علاقے میں جاری فرقہ وارانہ کشیدگی کے بارے معلومات فراہم کرتے رہے۔ پاڑہ چنار کی سیاسی حرکیات سے مجھے زیادہ واقفیت نہیں ۔اس سے دلچسپی کے لئے یہی کافی ہے کہ یہ پاکستان کا شہر ہے یا پھر اس سے جڑی اداس شاموں کی وہ یادیں جب گھر سے دور تاریک سناٹے میں افغانستان کے پہاڑ سے اس روشن اور درخشاں شہر سے اپنائیت اورمتمدن زندگی کا کچھ احساس ہوتا ۔ دوہفتے تک اس سے یہ نفسیاتی سہارا ملتا کہ سامنے ہی تواپنا اور اپنے ملک کا ایک جگمگاتاشہر ہے ۔ رمضان المبارک کی آخری ساعتوں میں جب پاڑہ چنار کے لوگ عید کی تیاریوں میں مصروف تھے دو خوفناک دھماکوں میں ستر افراد جاں بحق ہوگئے۔دہشت گردی کے ان واقعات کے خلاف عوام سڑکوں پر نکل آئے اور اس کے ساتھ ہی حالات کو اپنی ڈھب پر چلانے والے ہاتھ اور دماغ متحرک ہوئے اور ایف سی کی فائرنگ سے دو مزید افراد جاں بحق ہوئے اور یوں احتجاج نے غصے کی نئی شکل اختیار کی ۔مشتعل افراد دھرنا دے کر مستقل احتجاج کرنے لگ گئے ۔احتجاج کرنے والے زخمی دل تھے جن کے عزیز اوقارب عید کو شام غریباں بنا کرپہلے ہی منہ موڑ چکے تھے مگر ملک بھر میں فرقہ واریت کے شعلوں کو ہوا دینے والے ڈانگ سوٹے لے کر میدان میں کو دپڑے ۔پاڑہ چنار کے غمزدہ لوگ دھرنے میں سلیقے سے اپنی بات کرتے رہے مگر ایک طبقہ آگ بھڑکانے پر مصر تھا ۔سوشل میڈیا کی ماچس سے سارا جنگل اور نخلستان جلا ڈالنے میں مصروف تھا یہاں تک کہ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کو بھی کہنا پڑا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے فرقہ واریت کی آگ بھڑکائی جا رہی ہے ۔دونوں طرف سے خود ساختہ مجاہدین اور ترجمان لفظوں کی تیر اندازی کرکے ملک کو شام اور عراق بنانے کے لئے بے چین دکھائی دئیے ۔سوشل میڈیا سے پاڑہ چنار کے عوام کو ڈٹ جانے اور احتجاج جاری رکھنے اور نہ جانے کی ہدایات دی جاتی رہیں۔صاف لگ رہا تھا کہ پاکستان میں ایک نئی عرب فارس لڑائی چھیڑنا مقصود ہے ۔جلد یا بدیر وقت عرب اور فارس کو بھی یہ بتادے گا کہ وہ اختلافات کو ہوا دے کر مسلمانوں کے اجتماعی کاز کے لئے کوئی اچھا کام نہیں کر رہے۔دھرنے کے شرکاء کے مطالبات جائز تھے ان کے لہجے کی تلخی بھی جائز تھی ۔اگر کوئی مطالبہ ناروا تھا بھی تو اسے غصے اور اشتعال کا سبب کہا جا سکتا تھا مگر ان حالات کو فرقہ وارانہ رنگ دینے والے پاڑہ چنار سے سے باہر بڑے شہروں میں بیٹھے سوشل میڈیا ئی مجاہدین تھے ۔دھرنے کے شرکاء آرمی چیف کے سوا کسی اور کی ضمانت پر یقین کرنے کو تیار نہیں تھے ۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ خرابی موسم کے باعث پاڑہ چنار نہ جا سکے تو تبصروں اور تجزیوں کا ایک سیلاب آگیا۔آخر کار وہ جمعہ کو دوبارہ پاڑہ چنار پہنچے اور قبائلی عمائدین کے ساتھ بات چیت کی ۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے قبائلی عمائدین سے کھلی اور چونکا دینے والی باتیں کیں ۔ان کے مطالبات تسلیم کئے،تحفظات دور کئے اور یوں دھرنے کے منتظمین نے وہ دھرنا ختم کردیا جسے لامحدود مدت تک جاری رکھنے کی خواہش اور اس کے نتیجے میں حالات کو ایک الگ ہی ڈگر پر چلانے کی خواہش مندوں کی تعداد کچھ کم نہیں تھی ۔ایسے لوگوں کو فقط ایک تماشا چاہئے ۔یہ لوگ کسی گریٹ گیم پر یقین نہیں رکھتے ۔یہ خود مذمتی کے عارضے کا شکار طبقہ ہے ۔جس کے خیال میں دنیا میں مفادات کا کوئی کھیل نہیں بلکہ سب کچھ ہمارے گناہوں کی سزا ہے۔ ان کا بس چلے تو ایک دیوار گریہ بنا کر اس کے ساتھ سر ٹکرا ٹکرا کر روتے رہیں ۔یہ وحد ت المسلمین کے تصور پر بھی یقین نہیں رکھتے ۔حالات کا شکارقبائلی عمائدین نے جنرل قمر جاوید باجوہ کو مکمل تعاون کا یقین دلایا ۔آرمی چیف نے ایک چونکا دینے والی بات کی کہ پاڑ ہ چنار کے قریب افغانستان کی حدود میں داعش مضبوط ہو رہی ہے ۔کہا جارہا ہے تورا بورا کے پہاڑداعش کے حوالے کر دئیے گئے ہیں۔ایسے میں پاڑ ہ چنار اور اس کے عوام پاکستان کا پہلا دفاعی حصار ہیں اور اس حصار کو گرانے کی کوشش کرنے والے داعش کے سرپرستوں کے لوگ ہی کہلا سکتے ہیںاور داعش کا'' سرپرست اعلیٰ''کون ہے ؟ اب یہ حقیقت زمانے پر عیاں ہے۔

متعلقہ خبریں