Daily Mashriq


الیکشن ، انتخابی فضا کی عدم موافقت

الیکشن ، انتخابی فضا کی عدم موافقت

الیکشن کمیشن کی جانب سے عام انتخابات میں حصہ لینے والے اُمیدواروں کو ہراساں کئے جانے کے واقعات کا نوٹس اور سیکرٹری الیکشن کمیشن کا نگران وزیراعلیٰ پنجاب کو خط سنجیدہ معاملہ ہے۔ اطلاعات کے مطابق کئی علاقوں میں اُمیدواروں کو ہراساں اور دھمکیاں دینے کی اطلاعات ہیں۔ خط میں کہا گیا ہے کہ پنجاب کی صوبائی حکومت، انتظامیہ اور پولیس شفاف اور پُرامن انتخابات یقینی بنانے کے اقدامات کر ے۔ اس سلسلے میں سیکرٹری الیکشن کمیشن نے نگران وزیراعلیٰ پنجاب حسن عسکری کے نام خط لکھا ہے، خط کے متن کے مطابق کئی علاقوں میں اُمیدواروں کو ہراساں اور دھمکیاں دینے کی اطلاعات ہیں، نارووال اور سیالکوٹ جیسے واقعات کی روک تھام کیلئے موثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ دریں اثناء لاہور ہائی کورٹ کے رجسٹرار نے ایکٹنگ کمانڈنگ آفسر عبدالمجید کیمپ قصور کے ’توہین آمیز روئیے‘ پر چیف الیکشن کمشنر کو تحریری طور پر شکایت کر دی۔ رجسٹرار کی جانب سے خط میں کہا گیا ہے کہ آئین پاکستان کے تحت عدلیہ دیگر اداروں، انتظامیہ اور مقننہ کی طرح ریاست کا خودمختار ادارہ ہے لیکن ایکٹنگ کمانڈنگ افیسر نے ڈی آر او اور آر اوز کو انتخابات کے حوالے سے کانفرنس میں شرکت کیلئے ہدایات دیں۔ خط میں کہا گیا ہے کہ آئین پاکستان کے مطابق عدلیہ کے ارکان کو اس طرح کی ہدایات دینا توہین ہے اور مذکورہ ایکٹنگ کمانڈنگ افسر نے کانفرنس میں شرکت کیلئے توہین آمیز ہدایات دیں۔ رجسٹرار لاہور ہائی کورٹ نے مزید کہا ہے کہ جوڈیشل افسران بطور ڈی آر او، آر اوز الیکشن کمیشن کے ماتحت ہیں جن کو ملک میں شفاف انتخابات کے انعقاد کیلئے تعینات کر دیا گیا ہے۔ خط کے مطابق معاملہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کے سامنے رکھا گیا جنہوں نے مزید کارروائی کیلئے معاملہ الیکشن کمیشن کے نوٹس میں لانے کا حکم دیا۔ قبل ازیں الیکشن کمیشن نے پنجاب حکومت کی جانب سے عام انتخابات اور اُمیدواروں کیلئے کئے گئے سیکورٹی اقدامات پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ محولہ صورتحال کے تناظر میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے انتخابات میں مداخلت کو برداشت نہ کرنے کا عزم دہراتے ہوئے کہا ہے کہ بندوق کی بات کبھی نہیں کی بلکہ ہمیشہ جمہوریت اور آئین کی بات کی ہے۔ محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ مشکل سے مشکل وقت میں سیاست کی ہے اور یہ سلسلہ نہیں رکے گا، تاہم دیوار سے لگا کر پارلیمانی سیاست کو خیرباد کہنے پر مجبور نہ کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکمران غلطیاں تسلیم کرکے ماضی کے غلط فیصلوں اور پالیسی پر نظرثانی کریں گوکہ عام انتخابات کے انعقاد میں ابھی بائیس دن رہ گئے ہیں اور انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے ضروری لوازمات کی تکمیل ہو چکی ہے۔ بیلٹ پیپرز تک چھپ رہے ہیں، سیاسی جماعتوں نے شدید گرمی کے باوجود انتخابی مہم کا آغاز کر دیا ہے، جابجا ناراض کارکنان اور عوام انتخابی اُمیدواروں پر دل کی بھڑاس بھی نکالتے دکھائی دے رہے ہیں لیکن اس کے باوجود شکوک وشبہات کی فضا ایسی بنتی جا رہی ہے کہ اولاً انتخابات کا انعقاد ہی شکوک وشبہات کی زد میں دکھائی دیتا ہے جبکہ انتخابات کے انعقاد کی صورت میں اس کے شفاف اور غیرجانبدارانہ ہونے کا تو یقین نہ کرنے کی کئی واضح وجوہات ہیں۔ ان وجوہات کی سنجید گی کے باعث اگر ان کو امکانات سے بڑھ کر اور یقینی کے زمرے میں شمار کیا جائے تو بھی غلط نہ ہوگا۔ ایک تسلسل کیساتھ انتخابی اُمیدواروں کو مختلف اطراف سے خطرات میں ظاہر کیا جاتا ہے۔ مختلف تنبیہات سامنے آئی ہیں۔ اُمیدواروں کو مختلف ذرائع سے ہراساں کرنے کی سنجیدہ شکایات ہیں جس کا بالآخر الیکشن کمیشن کو بھی نوٹس لینے پر مجبور ہونا پڑا لیکن تمام تر اختیارات کے باعث الیکشن کمیشن کے بدستور عضو معطل ہونے کے واضح خدشات ہیں۔ بعض سیاسی رہنماؤں کے بیانات سے بھی شکوک وشبہات میں یقین کا گماں ہونے لگتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ حالات کسی طور انتخابی ماحول پیدا کرنے اور انتخابی عمل میں عوام کی دلچسپی پیدا کرنے کے حامل نہیں۔ یہ معاملات بھی اپنی جگہ توجہ طلب ہیں کہ آخر ایک جانب انتخابی عمل کی تیاریاں جاری ہیں تو دوسری طرف شکوک وشبہات پر مبنی صورتحال بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ اولاً اس کی وجہ شاید محولہ عوامل کے علاوہ یہ بھی ہو کہ سینٹ کی کمیٹی میں انتخابات کو بیرونی قوتوں کی جانب سے نشانہ بنانے کا معاملہ زیر بحث لایا گیا، پھر سیکرٹری الیکشن کمیشن نے اسی نوعیت کا بیان دیا۔ ایک اور بیان بھی الیکشن کمیشن کے حلقوں سے اس نوعیت کا آیا مگر نگران وزیر داخلہ اور سیکرٹری داخلہ سمیت کسی اعلیٰ ادارے نے اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔ اب نیکٹا کا انتباہ سامنے آیا ہے۔ اس قسم کے پے در پے خدشات کے اظہار سے سیاسی جماعتوں کو حفظ ماتقدم کے طور پر عوامی جلسے جلوسوں کو محدود کرنا فطری امر ہوگا۔ بعید نہیں کہ خدانخواستہ کسی جگہ کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما ہونے سے نہ روکا جاسکے گا اور سارا انتخابی عمل عدم تحفظ کے باعث شروع ہونے سے قبل سبوتاژ ہو جائے گا۔ ویسے بھی انتخابی عمل میں مختلف جانب سے جس قسم کا دباؤ سامنے آرہا ہے اس صورتحال میں آزادانہ طور پر انتخابی مہم ممکن نہیں۔ یہاں تک کہ قومی احتساب بیورو کے اقدامات پر بھی انگلیاں اٹھ رہی ہیں اور انتخابی عمل کو متاثر ہونے سے بچانے کیلئے غیرجانبدار مبصرین انتخابی عمل کی تکمیل تک توقف کی تجویز پیش کرتے ہیں جس کی افادیت سے انکار کی گنجائش نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اُمیدواروں کو تحفظ فراہم کرنا اور ضابطہ اخلاق کے دائرے میں انتخابی مہم چلانے کو یقینی بنانا نگران حکومت اور الیکشن کمیشن کا بنیادی فریضہ ہے مگر ایسا لگتا ہے کہ اس میں ان کے ناکام ہونے کا خطرہ ہے اور ملک میں انتخابی عمل شروع ہونے کے باوجود انتخابات کے انعقاد میں شفافیت اور غیرجانبداری کے حوالے سے جن شکوک وشبہات کا اظہار کیا جا رہا ہے وہ اذہان وقلوب کے وسوسے سے نہیں بلکہ حقیقت سے قریب تر ہیں۔ اس ساری صورتحال سے شکوک وشبہات میں اضافہ ہوتا ہے اور انتخابی عمل کی وقعت متاثر ہو رہی ہے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ اس قسم کی صورتحال کا مختلف سطح پر سختی سے نوٹس لیا جائے گا اور سیاسی عمل میں مداخلت پر مبنی حالات پیدا ہونے نہیں دئیے جائیں گے۔ ایسا کرنا اسلئے بھی زیادہ ضروری ہے کہ آج پاکستان عالمی سطح پر جہاں کھڑا ہے وہاں سے اس کے نکلنے کا واحد راستہ دہشتگردی کے نیٹ ورک اور ہر قسم کے مشکوک عناصر کا پوری طرح صفایا ہے۔ عام انتخابات کو مکمل طور پر محفوظ‘ شفاف اور غیرجانبدارانہ بنانے کی ذمہ داری پوری کرکے ہی ہم دنیا کو یہ پیغام دے سکتے ہیں کہ ہم گرے لسٹ کے نہیں وائٹ لسٹ کے حامل ایک ایسا ملک ہے جس میں شہریوں کے بنیادی حقوق، آزادی رائے اور اظہار کی آزادی کے علاوہ اپنے نمائندوں کے آزادانہ چناؤ کی پوری آزادی حاصل ہے، اس ضمن میں دنیا کا منفی تاثر بلاوجہ اور عبث ہے۔

متعلقہ خبریں