Daily Mashriq


ماحول اور زراعت کو خطرات

ماحول اور زراعت کو خطرات

ایک جانب جہاں آبادی میں بے تحاشا اضافہ ہونے کے باعث خوراک اور پانی کی ضروریات میں اضافہ ہو رہا ہے وہاں ماحولیاتی آلودگی بھی سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ صوبائی دارالحکومت میں بی آر ٹی منصوبے سے بظاہر آلودگی میں کمی کی توقعات وابستہ ہیں لیکن بعض ماہرین کے مطابق دنیا کے جدید ممالک میں اس قسم کے منصوبوں کے فوائد سے زیادہ ماحولیاتی نقصانات سامنے آنے کے بعد ٹرین سروس کو ٹرانسپورٹ اور ماحولیاتی آلودگی کا حل سمجھا جانے لگا ہے۔ بہرحال اس صورتحال سے قطع نظر صوبے میں زرعی اراضی پر بے ہنگم آبادی اور متعلقہ حکام کی سنگین غفلت سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا کی 77 ہزار ایکڑ زرعی اراضی تعمیرات برد ہو چکی ہے۔ زرعی اراضی پر ہاؤسنگ کالونیاں تعمیر کرنے کا یہ کام گزشتہ صرف تین عشروں کے دوران کیا گیا ہے۔ اگر یہی صورتحال جاری رہی تو آئندہ دو عشروں میں مزید 57ہزار ایکڑ زرعی اراضی اینٹ، پتھر اور کنکریٹ کے نیچے دب جائے گی۔ صوبے میں ہر سال دو ہزار ایکڑ زرعی اراضی پر مکانات اور پلازے تعمیر ہو رہے ہیں۔ یہ صورتحال خیبر پختونخوا تک محدود نہیں ہے، سارے پاکستان میں زرعی زمینیں سستے داموں خرید کر مکانات تعمیر کرنے کا رجحان جاری ہے۔ اس سے زرعی اجناس کی پیداوار کم ہونے سے ان کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں اور بالعموم مہنگائی کا گراف چند سال میں کہیں کا کہیں پہنچ چکا ہے۔ جس کی وجہ سے کم آمدنی والے اور متوسط طبقے کیلئے زندگی گزارنے کے اخراجات ان کی بس سے باہر ہو گئے ہیں۔ تنخواہوں سے حاصل ہونے والی آمدنی سے جس پر ٹیکس وصول کر لیا جاتا ہے اور تجارت کی آمدنی سے جس پر ٹیکس ادا کیا جاتا ہے زندگی میں مکان بنانا محال ہے۔ کروڑوں روپے کی مالیت کے مکان اور اربوں روپے مالیت کے پلازے کیسی دولت سے تعمیر ہوتے ہیں اس سوال کو یہیں چھوڑتے ہوئے پاکستان کی معیشت کی رہنمائی کرنے والوں کے سامنے یہ سوال رکھنا ضروری ہے کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے، اس کی ترقی کا دار ومدار بڑی حد تک زراعت کی ترقی پر ہے۔ اس لئے ملک کی زرعی صلاحیت کی حفاظت کرنا اولین ترجیح ہونی چاہئے۔ یہ درست ہے کہ آبادی کے بڑھنے کیساتھ ساتھ مکانوں کی ضرورت بھی زیادہ ہو گئی ہے۔ تاہم اس کیلئے زرعی اراضی کے استعمال کی کلی ممانعت ہونی چاہئے یا نہیں؟ دیہی علاقوں میں تعمیر مکانات کیلئے بھی موجودہ سے زیادہ زرعی اراضی کا استعمال ممنوع ہونا چاہئے اور وہاں بھی رہائشی علاقوں کا رخ افقی کی بجائے عمودی ہونا چاہئے۔ شہروں میں ہاؤسنگ کالونیوں کیلئے صرف ایسی اراضی استعمال کرنے کی اجازت ہونی چاہئے جو زراعت کے قابل نہ ہو۔ خیبر پختونخوا میں زرعی اراضی پچاس لاکھ ایکڑ سے کچھ زیادہ ہے اس میں کمی نہیں آنی چاہئے بلکہ اس پر زراعت کے جدید طریقوں کے استعمال کیلئے اس کی افادیت میں اضافہ کیا جانا چاہئے۔ اُمید کی جانی چاہئے کہ ارباب حل وعقد اس صورتحال کا ادراک کریں گے اور زرعی اراضی کے تحفظ کیلئے سخت قانون سازی کی جائے گی اور فی الوقت موجودہ قوانین پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنا کر اس سنگین مسئلے کو فوری طور پر سنگین تر ہونے سے روکا جائے گا۔

متعلقہ خبریں