Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

آفتاب رسالت طلوع ہونے سے سات سو برس پہلے کا ذکر ہے کہ شاہ تبع اسعد بن کر ب مشرقی ممالک کو زیر نگیں کرنے کی غرض سے نکلا ۔ اسی دوران اس کا گزر مدینہ منورہ سے بھی ہوا ، جہاں مقام سطح پر اس نے قیام کیا ۔ اہل مدینہ سے صلح کا معاہدہ طے پایاگیا تو بادشاہ اپنے لڑکے کووہیں حاکم مقرر کر کے مکہ معظمہ پر حملہ آور ہونے کی خاطر چل دیا ۔ اس کے جانے کے بعد اس کے شہزادے کو قتل کر دیا گیا ۔ جب یہ خبر بادشاہ تک پہنچی تو وہ سخت غضب ناک ہو کر لوٹا اور اہل مدینہ کے قتل عام کا فیصلہ کیا ۔ بادشاہ کے اس انتہائی خطرناک ارادے کا علم بنی قریظہ کے دو علماء سخیت اور منبئہ کو ہوا تو انہوں نے بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہو کر نا صحانہ اور ہمدردانہ مشورہ دیا کہ وہ اہل مدینہ کی ہلاکت کا مذموم ارادہ ترک کر دے اور ان کی خیر خواہی کو قبول کر لے ۔ ورنہ اندیشہ ہے کہ کسی ناگہانی آفت کا شکار ہو جائے گا ۔ شاہ تبع نے دریافت کیا کہ اس کے عذاب میں مبتلا ہونے کی وجہ کیا ہوسکتی ہے ؟ان علماء نے بتایا کہ آئندہ زمانے میں ایک نبی آخرالزماںؐ آنے والے ہیں ۔ یہ شہر مدینہ منورہ ان کا دارالہجر ت اور دارالقرار ہوگا ۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت اپنے ذمے لے رکھی ہے ۔ بادشاہ نے اس مخلصانہ مشورے کی قدر کرتے ہوئے اپنا ارادہ بدل دیا اور علماء کی علمیت اور فضیلت سے متاثر ہو کر ان کا دین بھی قبول کرلیا ۔ اور خاموشی کے ساتھ مدینہ سے روانہ ہوگیا ۔ اسی طرح ایک اور روایت میں ہے کہ جب تبع شاہ یمن مدینہ منورہ سے گزرا تو چار سو علماء تورات اس کے ہمراہ تھے ۔ انہوں نے بادشاہ سے درخواست کی کہ انہیں اس سرزمین پاک میں رہ جانے کی اجازت دی جائے ۔ بادشاہ نے اس سے اس کا سبب جاننا چاہا تو انہوں نے بتایا کہ ہم نے انبیاء کے صحیفوں میں پڑھا ہے کہ یہ شہر نبی آخرالزماں حضرت محمد ؐ کا دارالہجرت کہلائے گا ۔ بادشاہ نے نہ صر ف انہیں وہاں قیام کی اجازت دے دی ، اور فخر کائنات ؐ کی ذات بابرکات کے لیے بھی ایک عا لیشان محل تعمیر کرایا ۔ اور یہ کہ آپ کے نام ایک خط بھی لکھا ، جس میں اپنے اسلام اور شوق دیدار کا ان الفاظ میں اظہار کیا ۔ ترجمہ : میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمدؐ اللہ کے رسول برحق مبعوث ہوں گے ‘‘۔ ’’اگر عمر نے وفا کی اور ان کی آمد تک میں زندہ رہا تو میں ان کا ساتھی اور مدد گار بنوں گا ‘‘۔ بادشاہ نے اس خط کو سر بمہر کر کے ایک عالم کے سپرد کیا اور وصیت کی کہ اگر تم نبی آخر الزماں ؐ کو پائو تو میرا یہ عریضہ پیش کر دینا ۔ اللہ کی شان دیکھیئے کہ وہ خط نسل در نسل چلتے چلتے سیدنا ابو ایوب انصاری ؓ تک پہنچ گیا اور شاہ تبع کا تعمیر کردہ محل بھی زمانے کے نشیب وفراز سے گزرتا ہوا تعمیر در تعمیر کے مراحل طے کرتا ہوا ، سیدنا ابو ایوب انصاری ؓ کے زیر تصرف آگیا ۔ چنانچہ جب خیرالخلائق سید الاولین وال آخرین محمد ؐ مدینہ منورہ میں تشریف لائے تو دونوں چیزیں آپ کی خدمت میں پیش کر دی گئیں ۔

(وفاء الوفا، ج 1،ص:33)

متعلقہ خبریں