Daily Mashriq


کہانی میں نئے موڑ، نئی جہتیں

کہانی میں نئے موڑ، نئی جہتیں

ہم کہاں جا رہے ہیں؟ سیاسی رہنماؤں سے سوال اپنی جگہ مگر یہ جو پتھروں اور لاٹھیوں سے بعض لیڈروں کی تواضع کی جا رہی ہے اس سے کیا ہم خانہ جنگی کی سمت بڑھ رہے ہیں؟ سیاست کو اس نہج تک پہنچانے میں بہرحال ان سیاسی جماعتوں کا بھی اہم کردار ہے جو کئی عشروں سے سیاست کے نام پر کاروبار کر کے قومی دولت کی لوٹ کھسوٹ میں مصروف رہی ہیں۔ اتوار کے روز کراچی کے علاقے لیاری میں پیپلز پارٹی کے ایک لیڈرکے جلوس پر پتھراؤ کے علاوہ ملک کے دیگر علاقوں میں بھی مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے جلوسوں اور بعض لیڈروں کی رابطہ عوام مہم کے دوران ان کی گاڑیوں پر ڈنڈوں کی بارش اور لیڈروں کو جان بچانے کیلئے وہاں سے فرار پر مجبور کرنے سے عوام کا غصہ اپنی جگہ اور ان حالات سے اُبھرنے والے سوال اپنی جگہ، تاہم اس وقتی غصے کا جواز اس وقت ختم ہو جاتا ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ جنہیں ہمارے ہاں سیاسی زبان میں الیکٹیبلز یعنی جیتنے والے کہا جاتا ہے وہ ایک سیاسی جماعت سے نکل کر دوسری جماعت اور دوسری سے تیسری جماعت میں جاکر ایک بار پھر ٹکٹ لیکر پرانی شراب نئی بوتل کے ٹائٹل کیساتھ ہمارے سامنے آرہے ہیں، گویا سیاسی قائدین عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے میں ایک بار پھر کامیاب ہو چکے ہیں اور جذباتیت سے مرعوب لوگ اس بات پر خوش ہیں کہ اب کی بار انہوں نے زمام اقتدار کسی اور کے ہاتھوں تھما دینے کی سبیل کر لی ہے۔ مشہور ادیب آرتھر ملر کی کتاب ’ڈیتھ آف اے سیلز مین‘ میں ایک باپ بیٹے کے درمیان مکالمے میں نوجوان ہیپی لو مین کی زبان سے باپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ میرے اردگرد اس قدر دھوکہ اور فریب دکھائی دے رہا ہے کہ میں مسلسل اپنے آئیڈیلز کی وقعت کم کرنے پر مجبور ہوں۔ دراصل وہ یہ کہنا چاہتا ہے کہ مشکل یہ ہے کہ آدرش کی لو نیچی رکھنے سے اندھیرا دور نہیں ہوتا۔ اصل گیم ہماری سمجھ سے کہیں بہت اوپر ہے، ہمیں احساس ہی نہیں ہو رہا کہ جذباتیت سے مغلوب ہو کر جن نئے نعروں سے ہماری سماعتوں کو یرغمال بنایا جا رہا ہے جب سیاسی سرکس کے اندر جاری مختلف کرتبوں سے محظوظ ہوتے ہوئے کھیل کے آخری پڑاؤ پر پہنچ کر تالیاں بجاتے ہوئے ہم سرکس سے رخصت ہو ر ہے ہوں گے تو تب ہماری آنکھیں کھلیں گی اور ہمیں احساس ہوگا کہ بدلا تو کچھ بھی نہیں صرف ٹریڈ مارک کا ڈیزائن تبدیل ہو چکا ہے اور ہم خوشی سے بغلیں بجانے پر نہ سمجھتے ہوئے بھی آمادہ ہو چکے ہیں۔ بقول ناصر کاظمی

نئے پیالے سہی تیرے دور میں ساقی

یہ دور میری شراب کہن کو ترسے گا

اس وقت اگرچہ ہمیں اس مے نوش کی طرح یہ احساس تو ضرور ہوگا جس نے مختلف شرابوں کے چکھنے اور ان کی صحیح قدر وقیمت بتاتے ہوئے شرط جیت لی تھی مگر جب آخر میں اسے صرف پانی دیا گیا تو اس نے ہار مانتے ہوئے کہا تھا۔ واقعی یہ برانڈ میں پہلی بار چکھ رہا ہوں اور اپنی ہار مانتا ہوں لیکن اتنی بات ضرور کروںگا کہ یہ برانڈ چلنے کا نہیں اور مارکیٹ میں بری طرح ناکام رہے گا۔ آج کی سیاست کیلئے جو سکرپٹ پہلے سے تحریر کیا گیا تھا، اس میں بھی کئی ٹوسٹ (Twist) آرہے ہیں اور سکرپٹ کی کامیابی کیلئے باربار اس میں تبدیلی کی جا رہی ہے کیونکہ ابتدائی سکرپٹ کے مطابق کہانی کا جو انجام سوچا گیا تھا لگتا ہے حالات میں وہ ممکنہ تبدیلیاں آنے میں کئی موڑ ناکامی سے دوچار ہو چکے ہیں۔ اب کی بار سیاست کے صحرا میں بہ امر مجبوری جہاں کھلاڑیوں کو اپنے گروپ سے وفاداریاں ختم کرنے پر مجبور کئے جانے کے باوجود مطلوبہ نتائج تک پہنچنا ناممکن نظر آیا تو صحرا میں جیپوں کی سفاری چلا دی گئی ہے اور عین وقت پر سفاری ریس میں پرانے کھلاڑیوں کو جیپ پر سوار کرنے کی حکمت عملی اختیار کر کے کہانی میں نیا ٹوسٹ لانے کی سعی کی گئی، اس سے اگرچہ اب یہ توقعات ضرور لگائی جا رہی ہیں کہ تماشائی کہانی میں نیاپن محسوس کر کے کھیل میں پہلے سے زیادہ دلچسپی لینے پر مجبور ہو جائیں گے، ممکن ہے کہ کہانی کو نیا رخ دینے والوں کی سوچ درست ثابت ہو جائے اور سفاری ریس میں حصہ لینے والے وکٹری سٹینڈ پر پہنچ کر کھیل رچانے والوں کی توقعات پر پورا اُتر سکیں، تاہم ابھی تو ریس لگانے والوں کو مزید 22روز کا سفر طے کرنا ہے اور اتنے لمبے بلکہ طویل اور صبرآزما کھیل کا حصہ بنتے ہوئے مزید کئی موڑ ایسے آسکتے ہیں جہاں صحرا کی وسعتوں میں کئی اندیکھے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔سکرپٹ لکھنے والوں نے شاید یہ سوچا ہو کہ اب جو سفاری ریس شروع کرائی گئی ہے اس میں مخالفین کچھوے کی چال چلتے ہوئے ان کے جیپ خرگوشوں سے نہیں جیت سکتے مگر کہانی کا انجام تو کچھوے کی جیت پر منتج ہوتا ہے۔ بہرحال نئی حکمت عملی کے تحت تو جس کو اُمید دلا کر کہانی میں لایا گیا تھا اس کی اُمیدوں پر بھی جیپ کے ٹائر چلانے کی کہانیاں گردش میں ہیں کیونکہ کہا جاتا ہے کہ سکرپٹ لکھنے والوں نے اس سے جو اُمیدیں باندھ رکھی تھیں ان پر طرح طرح کے سوال اُٹھتے دکھائی دیئے، ایک آئیڈیا شاید یہ بھی تھا کہ کھیل کو سٹیج کرنے کی مدت میں تھوڑا سا توقف کیا جائے تاکہ جس کردار کو کہانی سے مکمل طور پر خارج کرنا مقصود ہے اس سے جان چھڑا لی جائے مگر وہ کردار اتنا ڈھیٹ تھا کہ کہانی اس کے بناء انجام تک پہنچ ہی نہیں پا رہی تھی حالانکہ اس کے بازو کاٹنے بلکہ پر نوچنے میں کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھی گئی مگر ایسا لگتا ہے کہ اس کا مزاج لسوڑے کی مانند تھا جو ایک دفعہ چپک جائے تو مشکل ہی سے جان چھوڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کہانی کا مسودہ بار بار تبدیل کرنا پڑا اور اب بھی نہ جانے مزید کتنے ٹوسٹ لا کر نئی جہتوں سے آشنا کیا جائے۔

تخلیق کا جب اس نے فسانہ لکھا

ہر چیز کا کیا ہوگا ٹھکانہ لکھا

پتھر کے مقدر میں لکھا بھاری پن

اور میرے مقدر میں اُٹھانا لکھا

متعلقہ خبریں