ایک تجزیہ (۲)

ایک تجزیہ (۲)

ذکر امریکہ اور برطانیہ کا جاری تھا جن کی تقلید میں ہم نے کیا کیا پاپڑ نہیں بیلے اور میں آپ سے ذکر کر رہی تھی کہ برطانیہ کی تقلید میں کچھ ہم امریکہ کے پیروکار ہوئے اور کچھ ہم بظاہر جناب لیاقت علی خان کو اس کا ذمہ دار گردانتے رہے کہ وہ ہمیں امریکہ کی جھولی میں ڈال آئے۔ وقت گزر جائے اور وہ شخص بھی سامنے موجود نہ ہو تو تنقید کرنے کی تو کیا ہی بات ہے۔ لیکن آج تک کسی تاریخی تجزئیے میں اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا۔
کجھ شہر دے لوگ وی ظالم سن
کجھ سانوں مرن دا شوق وی سی
تقلید تو ہمارے مزاجوں کا حصہ رہی ہے اور یہ ہمارے مزاج کا اس قدر حصہ ہے کہ ہمارے مزاج کا ایک بہت بڑا حصہ تشکیل دیتی ہے، سو ہم امریکہ کی تقلید میں چل پڑے، اس وقت ہمارے جذبے جواں تھے۔ ملک میں، ملک سے محبت کرنے والوں کی بہتات تھی، سو پاکستان کا مول اس طرح لگا کرتا تھا۔ صدر ایوب کے جانے پر جان ایف کینیڈی ان کا پرتپاک خیر مقدم کرتے، لیکن آہستہ آہستہ امریکیوں نے ہماری مرضی سے ہمارے معاملات اور کرداروں کے اندر سیندھ لگائی، ہمارا کردار بگڑتا چلا گیا۔ وہ ہم پر حاوی ہوتے چلے گئے اور ہماری قدر ان کی نظر میں کم ہوتی چلی گئی اور اب یہ عالم ہے کہ ہمارے سابقہ وزیراعظم اپنے ایک نجی دورے پر امریکہ تشریف لے گئے تو انہیں جامہ تلاشی سے گزرنا پڑا۔ بہرحال میں سمجھتی ہوں کہ امریکہ کے بے شمار مفادات اس جغرافیے سے وابستہ ہیں جس میں پاکستان واقع ہے۔ تبھی بے شمار گلے شکوؤں اور ہر قسم کی قیادت کی تبدیلی کے باوجود، پاکستان کبھی امریکہ کی دلچسپی کھو نہیں سکا۔ پاکستان کو وقتاً فوقتاً یہ ضرور بتایا گیا کہ امریکہ پاکستانیوں کے مزاج سے خوفزدہ ہے کیونکہ پاکستانیوں میں مستقل مزاجی نہیں لیکن میں سمجھتی ہوں کہ دراصل پاکستانیوں کا غیرمستقل مزاج ہونا امریکہ کے فائدے میں تھا، اسی لئے اس بات کا خصوصی اظہار کیا گیا۔ پاکستانی حسب توقع ایسی رٹ پر قائم رہے اور مزید غیرمستقل مزاج ہوتے چلے گئے۔ ادھر حکمرانوں کے بارے میں امریکی پالیسی بالکل الگ ہوا کرتی ہے۔ وہ انہیں ترقی کے وہ خواب دکھاتے ہیں جس میں ان کے مفادات کی مکمل پذیرائی ہو بلکہ ان کے مالی مفادات میں بہتری اور اثبات پیدا کرنے کے نت نئے طریقے سامنے آئیں۔ پاکستان میں اس وقت جو حالات دکھائی دیتے ہیں ان میں کئی کرداروں کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ پاکستان میں امریکی مفادات اسی طرح پوری قوت کیساتھ قدم جمائے ہوئے ہیں۔ امریکہ کے تعلقات بھارت سے کتنے بھی اچھے ہوں پاکستان کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ اسی طرح چین چونکہ بین الاقوامی منظرنامے پر ایک عالمی طاقت کے طور پر اُبھر رہا ہے، اس کیلئے اس خطے میں امریکی مفادات کو اپنے قابو میں رکھنا بہت اہم ہے۔ امریکہ بھی سمجھتا ہے کہ پاکستان اور چین کے معاملات میں دوستی کے عنصر سے زیادہ یہ بات اہم ہے۔ ملکوں میں دوستی ہمیشہ مفادات کے مشترک ہونے سے ہوتی ہے۔ عوام تو نہایت معصومیت سے بس حکومتوں کے ایجنڈے اپنایا کرتے ہیں۔ سی پیک امریکہ کیلئے قابل قبول نہیں اور چین کیلئے اپنی عالمی حیثیت منوانے کے ضمن میں بہت اہم ہے۔ اس سی پیک کی بدولت چین اپنے آپ کو امریکہ کی طاقت کی گرفت سے آزاد کروانا چاہتا ہے کیونکہ آسٹریلیا کے پانیوں میں موجود امریکی سمندری بحری بیڑے کی گرفت چینی نقل وحرکت پرباقی ہی نہیں رہتی۔ سی پیک سڑک بن جانے کے بعد چین مشرق وسطیٰ سے جو تیل خریدتا ہے، اس راستے سے درآمد کر سکتا ہے جس سے نہ صرف اسے اس درآمد کی مالیت میں خاطر خواہ فرق پڑے گا بلکہ دونوں ملکوں کے درمیان جنگ کی صورت میں اس درآمد کو اس بحری بیڑے سے جو خطرہ تھا وہ بھی ختم ہو جائے گا۔ پاکستان انہی مفادات کی جنگ کے درمیان پس رہا ہے چونکہ ذاتی طور پر کمزور ہے اور اس میں کریڈٹ بھی خود پاکستان کی حکومت کو جاتا ہے۔ اسلئے پاکستان سی پیک میں بھی اچھی سودے بازی نہ کر سکا۔ یہی وجہ تھی کہ ہم نے سی پیک کیلئے چین سے قرضہ لیا حالانکہ اگر ہم مناسب طور سے بات چیت کرنے اور سودے بازی کے اہل ہوتے تو یہ سب ہم نے تقریباً مفت میں کروا لیا ہوتا۔ امریکہ کی جانب سے پریشانی سہنے کا ارادہ تو ہم یوں بھی کر چکے تھے۔ کم ازکم اپنے مفادکا ہی خیال کر لیتے۔ بہرحال اس صورتحال کے باعث پاکستان بہت سے معاملات کا سامنا کر رہا ہے جن سے عہدہ برآء ہونے کی صلاحیت وہ خود میںکم پاتا ہے۔ امریکہ کے مفادات، چین کے مفادات اور ان مفادات کا آپس میں تناؤ، کتنی ہی باتیں ایسی ہیں جو ہمارے لئے معاملات کو بگاڑ رہی ہیں لیکن نااہل قیادت کے باعث پاکستان اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ ایسے میں حکومت کسی کی بھی ہو، شاید ہمارے حالات پر اس کا اثر بہت کم ہوگا۔ عام آدمی تو انہیں قرضوں کا بوجھ اٹھائے گا جو کبھی عالمی بینک اور آئی ایم ایف سے لئے گئے تھے اور اب چینی بینکوں سے لئے گئے ہیں۔ میاں صاحبان میں سے کوئی ہو یا عمران خان یا کوئی اور نام۔ یہ منظر تو ویسے ہی رہے گا اور فیصلے اسی کے مطابق ہونگے۔

اداریہ