Daily Mashriq


ضعیف الاعتقاد سیاستدان

ضعیف الاعتقاد سیاستدان

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی کچھ روز پہلے رات کو اپنی اہلیہ بشریٰ بی بی کے ہمراہ پاکپتن میں بابا فرید گنج شکر کی درگاہ پر حاضری کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک ہنگامہ کھڑا ہو گیا جو تاحال سرد نہیں ہوا۔ ایک طرف مخالفین ہیں جو اس عمل کو مذہبی نقطہ نظر سے تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں تو دوسری جانب تحریک انصاف کے حامی اس کے دفاع میں مصروف ہیں۔ بحث اس بات پر ہے کہ انہوں نے درگاہ کی چوکھٹ پر ماتھا ٹیکا۔ ہوا یوں کہ درگاہ پر حاضری کے موقع پر کسی نے ویڈیو بنا لی جو پہلے تو الیکٹرانک میڈیا پر چلی، پھر دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔ایک صاحب نے ٹویٹر پر لکھا: کسی کے مذہبی عقائد میرا مسئلہ نہیں ہیں لیکن عمران خان کی جانب سے ایک درگاہ پر سجدہ پریشان کن ہے۔اس کے جواب میں ایک صاحب نے لکھا کہ یہ عمران خان کے عقائد کا معاملہ ہے اور مجھے یا کسی اور کو ان کے بارے میں رائے قائم کرنے کا حق نہیں ہے۔ عمران خان اور ان کی اہلیہ نے محض درگاہ پر چادر چڑھائی اور سجادہ نشین عظمت سعید چشتی سے ملاقات کی۔ایک ٹویٹ اس طرح سے تھی کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ ویڈیو کلپ اپنی وضاحت آپ کر رہا ہے۔ کئی دوسرے لوگوں نے فیس بک اور ٹویٹر پر عمران خان کے عمل کی مختلف توجیہات پیش کی ہیں۔ اس سلسلے میں ان کی اور بشریٰ بی بی کے درگاہ میں حاضری کی ویڈیو کے ایک ایک فریم کا تجزیہ ہو رہا ہے۔ کچھ لوگ وضاحت پیش کر رہے ہیں کہ عمران خان نے ماتھا فرش پر نہیں ٹیکا، صرف چوکھٹ کو چوم کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ ایک صاحب نے لکھا یہ سجدہ نہیں تھا، عمران خان نے صرف درگاہ کے فرش کو بوسہ دیا ہے۔ بہرصورت، کسی کے مذہبی عقائد سے آپ کو کیا مسئلہ ہے؟ عمران خان کا مذہب ان کا ذاتی معاملہ ہے۔عمران خان پر ہونے والے اعتراض کے جواب میں ایک صارف نے بلاول بھٹو زرداری کی ایک تصویر لگائی جس میں وہ کسی ہندو دیوتا کی مورتی پر پانی چھڑک رہے ہیں۔ وہ تصویر تب کی ہے جب بلاول بھٹو زرداری اقلیتی ہندو برادری کی دیوالی تقریبات میں شریک ہوئے تھے۔ایک صاحب نے لکھا: ایک بار ایک صحافی نے قائداعظم محمد علی جناح سے کہا: ’مسٹر جناح، میں آپ کو ووٹ نہیں دوں گا کیونکہ آپ شیعہ ہیں۔ یہ سن کر قائد بے اختیار مسکرا دئیے اور بولے، ’’گاندھی کو دے دو، وہ سنی ہے!‘‘عمران خان کا روحانی طاقت پر اعتقاد نیا نہیں۔ اپنی2011 میں شائع ہونے والی کتاب پاکستان، اے پرسنل ہسٹری میں لکھتے ہیں کہ بہت پہلے ساہیوال کے ایک پیر جی نے کہا تھا کہ نہ صرف میں مشہور ہوں گا بلکہ والدہ کا نام بھی روشن کروں گا۔ ایک جگہ لکھتے ہیں کہ جب میں نے کرکٹ سے پہلی بار ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تو لاہور کے نزدیک ایک سرحدی گاؤں میں رہنے والے ایک بزرگ بابا جھلا نے کہا کہ تو ابھی نہیں گیا، تو انشااللہ ابھی گیم میں ہے۔ کتاب میں ایک اور بزرگ میاں بشیر صاحب کا بھی ذکر ہے۔ اگر وہ نہ ہوتے تو شاید میں لیمب بوتھم ہرجانہ کیس میں کنگال ہو چکا ہوتا۔آصف زرداری بھلے پاکستانی سیاست کے اُستاد مشہور ہوں مگر ان کے روحانی اُستاد گوجرانوالہ کے پیر اعجاز شاہ تھے۔ پانچ سال ایوان صدر میں بوریا نشین رہے۔ سوئس اکاؤنٹس کیس کے دور میں پیر صاحب نے ایک برس مدینہ میں چلہ کشی کی اور یوسف رضا گیلانی کی قربانی کے بعد لوٹے (حالانکہ گیلانی صاحب بھی سجادہ نشین ہیں)۔ پیر اعجاز شاہ کے ہی حکم پر ایوان صدر میں روزانہ ایک بکرے کی قربانی ہوتی تھی۔ بہت سے ملکی وغیر ملکی دوروں میں بھی پیر صاحب صدر کیساتھ ہوتے تھے۔ یہ فیصلہ بھی پیر صاحب ہی کرتے تھے کہ آصف زرداری کو کب پانی کے کنارے اور کب پہاڑی علاقے میں رہنا ہے۔ جب آصف زرداری نے صدارت سے سبکدوشی کے بعد اپنے پیر اعجاز شاہ سے التفات کم کیا تو پیر صاحب نے عمران خان سے قریب ہونے کی کوشش کی اور ایک دو بار وزیراعظم بننے کی بھی نوید سنائی مگر شاید روحانی معاملہ زیادہ آگے نہیں بڑھ پایا اور عمران خان نے اپنی روحانی گرہ پاکپتن سے باندھے رکھی۔محترمہ بینظیر بھٹو کا اگرچہ کوئی مستقل پیر تو نہیں تھا مگر انہیں بہت سے بزرگوں سے عقیدت تھی۔ ایک بزرگ رحمت اللہ عرف دیوانہ بابا عرف چھڑی بابا آف دھنکہ شریف آف مانسہرہ تو بی بی کو نواز شریف سے ترکے میں ملے۔ دیوانہ بابا کے پاس بہت سی سیاسی ہستیاں جاتی تھیں۔ ان کے بارے میں مشہور تھا کہ جس کو وہ غضب ناک ہو کر اپنی چھڑی مارتے اس کی مراد بر آتی۔ میاں صاحب نے چھڑی بابا کے گاؤںکو بطور خاص بجلی پہنچائی اور بینظیر بھٹو نے ان کے آستانے تک سڑک بنوائی۔ضیاء الحق تو بذات خود پیرِ کامل تھے اور مرشد ان کا تکیہ کلام بھی تھا جو کم ازکم جنرل فیض علی چشتی کے کسی کام نہ آیا۔ مگر ایبٹ آباد کے ایک بزرگ بابا غلام النصیر چلاسی کے پاس ضیاء الحق بہ عقیدت حاضری دیتے تھے۔ دیگر عقیدت مندوں میں اعجاز الحق، حمید گل، سردار مہتاب خان عباسی اور سردار فاروق لغاری بھی شامل تھے۔ نیز مولانا فضل الرحمان کو بھی ان سے خاصی عقیدت ہے بلکہ مولانا صاحب میانوالی میں کندیاں شریف کے خواجہ خان محمد کے ہاں بھی حاضری دیتے رہے ہیں حالانکہ مولانا خود بھی صاحب حلقہ اور صاحب دین ودنیا ہیں۔ذوالفقار علی بھٹو کا کوئی مرشد تھا، اس کی گواہی نہیں ملتی۔ البتہ بھٹو صاحب شہباز قلندر کے معتقد تھے اور اکثر سیہون حاضری دیتے تھے۔ انہوں نے ہی قلندر کے مزار پر سونے کے پانی کا دروازہ بھی لگوایا اور سیاست میں دما دم مست قلندر کی اصطلاح متعارف کروائی۔یہ ایک دلچسپ بات ہے کہ جنہیں کروڑوں عوام مرکزِ امید سمجھتے ہیں ان کا اپنا مرکزِ امید کہیں اور ہوتا ہے۔ اقتدار کے پجاری، چند روز کی چکا چوند کیلئے کہیں ماتھا ٹیکتے ہیں تو کہیں ڈنڈے کھاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ فلاں پیر یا بابا کی وجہ سے اقتدار ملا حالانکہ اقتدار اور اختیار صرف اللہ کی دین ہے، وہ شہنشاہوں کا شہنشاہ زمین پر جسے چاہے بادشاہت دے اور جسے چاہے محروم کر دے۔ عزت بھی اسی کے ہاتھ میں ہے اور ذلت بھی۔ جسے چاہے عزت سے نواز دے اور جسے چاہے ذلت اس کا مقدر کر دے۔

متعلقہ خبریں