Daily Mashriq


دانستہ غلطیاں

دانستہ غلطیاں

پاکستان کے سیاست دان اور عوام دونوں نرالے اور عجیب ہیں۔ دونوںکی عقل اور شعور کی سطح پست ہے۔ اور اگر پاکستان میں کسی کے پاس تھو ڑی بُہت عقل اور شعور ہے تو اسکے پاس اختیار نہیں ۔ کیونکہ ہمارے ملک کے بلدیاتی نظام، صوبائی اورقومی اسمبلیوں اور سینیٹ میں صرف وہی لوگ جا سکتے ہیں جنکے پاس جائز اور ناجائز طریقوں سے کمائے گئے وسائل ہوں۔غریب تو وہاں تک جا نہیں سکتے۔ قا رئین اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ حال ہی میںنواز شریف اور اُنکے وزیر قانون زاہد حامد اور تقریباً تمام پا رٹیوں کے ایم این ایز اور قانون دانوں نے قومی اسمبلی میں حلف نامہ قانون میں ترمیم کی کوشش کی۔ یہ بل منظور ہوچکا تھا ، مگر عین اسی اثنا میں جماعت اسلامی کے صا حبزادہ طارق اللہ اور شیخ رشید احمد نے واویلا شروع کیا اور اللہ کے فضل و کرم سے یہ قانون بننے سے رہ گیا۔ بعد میں مسلم لیگ اور ان کی ہم خیال جماعتیں یہ تاویلیں اور دلائل دیتی رہیں کہ یہ کلیریکل غلطی تھی۔یہاں تک کہ محمود خان اچکزئی اور جمعیت العلمائے اسلام کے مولانا فضل الرحمان نواز شریف اور ان کی کابینہ کے فیصلے کو سپورٹ کرتے رہے۔اور آخر تک قوم کو قائل کر تے رہے کہ ایسی کوئی بات نہیں ۔ اور ریڈیو، ٹی وی اور ابلاغ عامہ کے دوسرے اداروں سے کہہ رہے تھے کہ ناموس رسالتﷺ سے متعلق ایسے کسی بل پیش کرنے کی کوشش نہیں کی جا رہی ہے اور یہ سارا جھوٹ ہے۔مگر بعد میں جب عوام کا دبائو بڑ ھ گیا تو حکومت کو مجبو راً یہ بل واپس لینا پڑا ۔اسی طرح ڈان لیکس بھی نواز شریف اور اُنکی بیٹی مریم نواز کی ایک سازش تھی جس کا مقصد فوج کو بد نام اور دنیا کی نظروں میں ذلیل اور رسوا کرنا تھا۔ اور ابھی حال ہی میں نواز شریف نے روز نامہ ڈان کو یہ بھی انٹرویو دیا کہ ممبئی اور دہلی پارلیمنٹ دھماکوں میں پاکستان ملوث ہے۔نواز شریف کے مطابق یہ حملہ پاکستان سے ہوا تھا۔ حالانکہ اس سلسلے میں عالمی مصنفین نے آٹھ سے زیادہ کتابیں لکھی ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ یہ حملے بھارت نے خود کئے تھے۔ اسکے علاوہ بھارت کے ایک سینئر ملٹری آفیسر نے عدالت میں بیان بھی دیا تھا کہ یہ حملے بھارت نے کچھ مطلوبہ مقاصد کو حا صل کرنے کے لئے کئے تھے۔مگر انتہائی افسوس کی بات ہے کہ بھارت ، امریکہ اور اسرائیل کو خوش کرنے کے لئے نواز شریف کیا کیا کوشش نہیں کر رہے ہیں۔میرے خیال میں دنیا کی تا ریخ میں شاید کوئی ایسا حکمران ہوگا جو اپنے ملک کے خلاف بول رہا ہوگا۔دراصل اس قسم کی باتوں کا مقصد امریکہ اسرائیل اور دوسری عالمی طاقتوں کو خوش کرکے اپنے اقتدار کو طول دینا تھا۔ حکمران کبھی کلمہ طیبہ ، کبھی نماز اور کبھی نماز جنازہ غلط پڑھتے ہیں۔گزشتہ روز پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان اور اُنکی اہلیہ بُشریٰ مانیکا نے شکر گنج میں مزار پر نہ صرف حا ضری دی بلکہ سوشل میڈیا پر جاری ویڈیوکے مطابق سجدہ بھی کیا۔بعد میں عمران خان نے ایک ٹی وی پروگرام میں انٹر ویو دیتے ہوئے کہا کہ میں نے سجدہ نہیں کیا بلکہ تعظیمی بو سہ دیا تھا۔بعد میں ، میں نے سوشل میڈیا پر ڈاکٹر اسرار احمد، مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی، مولانا تقی عثمانی، ڈاکٹر طاہر القادری ، عالمی مبلغ طا رق جمیل ، مولانا شاہ احمد نورانی اور اسکے علاوہ دیگر کئی علمائے کرام کی تقریروں اور خطبات کی کلپنگ یعنی ٹوٹے دیکھے جس میں صاف طور پر علمائے کرام فرمارہے ہیں کہ کسی غیر اللہ کو سجدہ کفر ہے ۔ سجدہ صرف اللہ تعالیٰ کے حضور کیا جاتا ہے ۔ بوسہ لینا بھی حرام اور تعظیماًجھکنا بھی حرام ہے۔اگر ہم غور کرلیں تو نوازشریف اور عمران خان کے ان تمام کرتوتوں کا مقصد غیروں کی نظر وں میں اچھا بننا ہے اور وہ یہ سوچ رہے ہیں کہ اگر ہم اس قسم کے کرتوت کریں گے تو اقتدار کی دہلیز تک جلدی پہنچ جائیں گے۔ ویسے یہ بات میری سمجھ سے باہر ہے کہ اقتدار تک پہنچنے کے لئے ہمارے یہ لیڈر کیا کیا جتن کرتے ہیں اور کیا کیا راہیں اختیار کرتے ہیں۔اب دیکھنا یہ ہوگا کہ پاکستان کے عوام عام انتخابات میں ان لیڈروں اور انکے پا رٹیوں کے امیدواروں کے ساتھ کیا سلوک کریں گے۔ مگر یہ نہایت افسوس کی بات ہے کہ پاکستانی قوم بُہت بھلکڑ ہے اور الیکشن تک عوام یہ سب بھول چکے ہونگے۔ میں پاکستان کی تمام سیاسی پا رٹیوں کے لیڈران سے استدعا کرتا ہوں کہ اللہ پر بھروسہ کریں جو کچھ اللہ تعالیٰ نے آپ کے قسمت میں لکھا ہے وہی آپکو ملے گا ۔ خدارا دین کا کچھ نہ کچھ مطالعہ کریں تاکہ آپکو پتہ چلے کہ کیا سچ اور حق اور کیا غلط ہے۔دین اور اسلامی تعلیمات کا مذاق نہ اُڑائیں۔

متعلقہ خبریں