Daily Mashriq


نواز شریف اور ان کی فیملی کیخلاف ایون فیلڈریفرنس کافیصلہ محفوظ

نواز شریف اور ان کی فیملی کیخلاف ایون فیلڈریفرنس کافیصلہ محفوظ

ویب ڈیسک:احتساب عدالت میں شریف فیملی کیخلاف ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ 6 جولائی کو سنایا جائے گا۔

ملزمان کے وکلاء اور نیب پراسکیوٹر کے حتمی دلائل مکمل کیے جانے کے بعد احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ محفوظ کر لیا ،احتساب عدالت میں ریفرنس کا فیصلہ6سنایا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت میں ملزمان کے وکلاء اور نیب پراسکیوٹر کے حتمی دلائل مکمل ہو نے پرسابق وزیرِاعظم نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر کیخلاف ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ محفوظ کر لیا گیا ،6 جولائی کو ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ سنایا جائے گا۔ خیال رہے کہ عدالت نے نواز شریف کیخلاف ایون فیلڈ ریفرنس کا ٹرائل 10 ماہ میں مکمل کیا۔

ایون فیلڈریفرنس میں نواز شریف، مریم نواز، حسن اور حسین نواز کے ساتھ کیپٹن ریٹائرڈ صفدر ملزم نامزد ہیں۔ عدالت نے عدم حاضری کی بنا پر حسن اور حسین نواز کو اشتہاری قرار دیدیا تھا۔

نیب کی طرف سے نواز شریف اور بچوں کیخلاف 8 ستمبر 2017ء کو عبوری ریفرنس دائر کیا، مزید شواہد سامنے آنے پر نیب نے 22 جنوری کو ضمنی ریفرنس دائر کیا۔

ایون فیلڈ ریفرنس میں مجموعی طور پر 18 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے جن میں پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء بھی شامل تھے۔ 19 اکتوبر 2017ء کو مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر پر براہ راست فرد جرم عائد کی گئی۔ نواز شریف کی عدم موجودگی کی بنا پر ان کے نمائندے ظافر خان کے ذریعے فردِ جرم عائد کی گئی۔

26 ستمبر کو نواز شریف پہلی بار احتساب عدالت کے روبرو پیش ہوئے جبکہ مریم نواز پہلی بار 9 اکتوبر کو احتساب عدالت کے روبرو پیش ہوئیں۔ ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری ہونے کے باعث کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو ائیرپورٹ سے گرفتار کر کے عدالت پیش کیا گیا۔

مسلسل عدم حاضری کی بنا پر عدالت نے 26 اکتوبر کو نواز شریف کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔ 3 نومبر کو پہلی بار نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر اکٹھے عدالت میں پیش ہوئے۔ 8 نومبر کو پیشی کے موقع پر نواز شریف پر براہ راست فرد جرم عائد کی گئی۔

11 جون 2018ء کو حتمی دلائل کی تاریخ سے ایک دن پہلے نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کیس سے الگ ہو گئے۔ نواز شریف کی طرف سے ایڈووکیٹ جہانگیر جدون نے وکالت نامہ جمع کرایا۔ 19 جون کو خواجہ حارث احتساب عدالت پہنچے اور دستبرداری کی درخواست واپس لے لی۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے سابق وزیرِاعظم نواز شریف کی تاحیات نااہلی کا فیصلہ بھی 28 جولائی 2017ء جمعہ کے روز ہی آیا تھا۔

متعلقہ خبریں