Daily Mashriq

اے این پی کی سرتاج خان کے قاتلوں کی گرفتاری کیلئے 10روز کی ڈیڈ لائن

اے این پی کی سرتاج خان کے قاتلوں کی گرفتاری کیلئے 10روز کی ڈیڈ لائن

پشاور (نامہ نگار) عوامی نیشنل پارٹی نے اے این پی سٹی ڈسٹرکٹ پشاور کے صدر سرتاج خان کے قتل پر شدید احتجاج کرتے ہوئے قاتلوں کی گرفتاری کیلئے صوبائی حکومت کو دس روز کی ڈیڈلائن دے دی ہے اور خبردار کیا ہے کہ 12جولائی تک قاتل گرفتار نہ ہوئے تو اے این پی دوبارہ بھرپور قوت کے ساتھ میدان میں نکلے گی اور اپنے شہیدوں کے خون کا پورا حساب لے گی،پارٹی رہنمائوں کا کہنا تھا کہ مزید خونریزی برداشت نہیں کریں گے آئندہ اے این پی کے کسی کارکن کو نقصان پہنچا تو وزیر اعلی، آئی جی پولیس اور متعلقہ افسران کیخلاف قتل کا مقدمہ درج کرایا جائے گا۔عوامی نیشنل پارٹی نے گزشتہ روز صوبائی اسمبلی کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا مظاہرے کی قیادت اے این پی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین، صوبائی صدر ایمل ولی خان،صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک اور سینئر رہنما حاجی غلام احمد بلور نے کی ۔ احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے میاں افتخار حسین نے کہا کہ سرتاج خان کا بہیمانہ قتل اے این پی کی ٹارگٹ کلنگ کے سلسلے کی کڑی ہے،باجوڑ، پشاور اور سوات میں اے این پی کے رہنماؤں پر فائرنگ ریاستی اداروں اور حکومت کی ناکامی ہے، ہر بار الیکشن سے قبل اے این پی کو دیوار سے لگانے کیلئے ایسا ماحول پیدا کر دیا جاتا ہے،انہوں نے کہا کہ اس بار قبائلی اضلاع میں الیکشن سے قبل ایک بار پھر دہشت گردوں کو اے این پی کے قتل عام کا لائسنس جاری کیا گیا ہے جو ہمارے لئے اب کسی طور قابل برداشت نہیں، انہوں نے کہا کہ اے این پی کو ٹارگٹ کرنے کے واقعات تسلسل سے جاری ہیں جبکہ ریاست اور حکومت تحفظ فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے، نازک وقت میں ریاستی اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ دہشت گردوں اورسہولت کاروں کے خلاف فوری ایکشن لے کر اے این پی کے رہنماوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ایمل ولی خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ مارنے والے یاد رکھیں جب تک اے این پی کا ایک کارکن بھی زندہ ہے باچا خان کی سوچ و فکر کو ختم نہیں کیا جا سکتا، انہوں نے کہا کہ تشدد کو کاروبار بنانے والے گزشتہ109سال سے ہمارا گلہ گھونٹنے کی مذموم کوششوں میں مصروف ہیں لیکن ہماری آواز کو کوئی نہیں دبا سکا ایمل ولی خان نے سرتاج خان کے اہل خانہ کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ سانحے کی تحقیقات سی ٹی ڈی کے ذریعے کرائی جائے۔سردار حسین بابک نے کہا کہ کہ بین الاقوامی دنیا صوبے کے حالات پر گہری نظر رکھے اور دیکھے کہ کس طرح یہاں حکومت دہشت گردوں کو سپورٹ کر کے اے این پی کے خلاف استعمال کر رہی ہے،کالعدم تنظیمیں حکومتی اشیرباد سے شہر میں سرگرم عمل ہیں اور چندے اکٹھے کر کے نوجوانوں کو ورغلا رہی ہیں۔حاجی غلام احمد بلور نے اپنے خطاب میں سرتاج خان سمیت تمام شہداکے ناحق خون کی مذمت کی اور کہا کہ سرتاج خان کا قتل پختونوں کے خلاف سازشوں کا حصہ ہے اور اے این پی کو دیوار سے لگانے کیلئے دہشت گردوں کو استعمال کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں