Daily Mashriq

شکوک کے باوجود انتخابات کے بروقت انعقاد کا یقین

شکوک کے باوجود انتخابات کے بروقت انعقاد کا یقین

عام انتخابات کی تیاریاں فی الوقت اس بناء پر روک دی گئی ہیں کہ لاہور ہائیکورٹ نے پارلیمنٹ کے تیار کردہ کاغذات نامزدگی آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کو نئے کاغذات نامزدگی تیار کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے اپنے حکم نامے میں پارلیمنٹ کے تیار کردہ کاغذات نامزدگی فارم کو آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کو نئے کاغذات نامزدگی تیار کرنے کا حکم دیا ہے اور حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ نئے کاغذات نامزدگی میں آئین کے آرٹیکل62 اور63 کے تقاضے دوبارہ شامل کئے جائیں۔ کاغذات نامزدگی میں غیر ملکی آمدن، زیرکفالت افراد کی تفصیلات چھپانے کا اقدام، مقدمات کا ریکارڈ، ٹیکس ڈیفالٹ چھپانے کا اقدام، قرضہ نادہندگی، دوہری شہریت، یوٹیلٹی ڈیفالٹ، پاسپورٹس چھپانے کا اقدام اور کاغذات نامزدگی میں مجرمانہ سرگرمیاں چھپانے کا اقدام بھی کالعدم کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب اس فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کیلئے کاغذات نامزدگی کا اجرا روک دیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اب نیا نامزدگی فارم تیار کیا جائیگا۔ حکام کے مطابق اب عدالتی حکم کی روشنی میں نیا فارم تیار ہوگا اور کاغذاتِ نامزدگی فارم کے اجرا اور وصولی کی تاریخوں میں رد وبدل پر بھی غور ہوگا۔ حکومت نے الیکشن کمیشن کے اعتراضات رد کرتے ہوئے نیا کاغذات نامزدگی فارم تیار کیا تھا جس میں قرضوں، مقدمات، دوہری شہریت، تین سالہ ٹیکس کی معلومات، تعلیم، پیشہ اور ڈیفالٹر کے کالم ختم کر دیئے گئے تھے۔ عدالت نے فارم میں کی گئی تمام تبدیلیوں کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ محولہ صورتحال سے انتخابات میں تاخیر کا امکان ضرور دکھائی دیتا ہے لیکن دوسری جانب چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے واضح کیا ہے کہ کسی کوغلط فہمی نہیں ہونی چاہئے، انتخابات25 جولائی کو ہوں گے اور انتخابات میں تاخیر نہیں ہونے دیں گے۔ نگران وزیراعظم جسٹس (ر) ناصر الملک نے بھی انتخابات کے بروقت اور شفاف ہونے کو اپنی واحد ترجیح قرار دے کر یقین دہانی کرائی ہے کہ انتخابات وقت پر اور منصفانہ ہوں گے مگر اس کے باوجود انتخابات کے بروقت انعقاد کے حوالے سے سابق وزیراعظم نواز شریف اور ممتاز قانون دان بیرسٹر اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ کچھ لوگ الیکشن ملتوی کرانے پر تلے ہوئے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کوئی سسٹم انتخابات کو التواء میں ڈال رہا ہے۔ جہاں تک کاغذات نامزدگی میں پارلیمان کے رد وبدل کا سوال ہے اس کے مطالعے سے بخوبی یہ بات سامنے آتی ہے کہ پارلیمنٹرینز کی اس ضمن میں نیت ٹھیک نہیں تھی اور وہ متفقہ طور پر آنے والے انتخابات میں آرٹیکل62'63 کے علاوہ بہت سے دیگر ایسے معاملات جس کا تعلق مالی اور اخلاقی شفافیت سے تھا اس حوالے سے وہ تفصیلات دینے کیلئے تیار نہیں تھے جس کیخلاف ایک ماہر قانون کی جانب سے عدالت سے رجوع کرنے پر جو فیصلہ سامنے آیا اس سے وقتی طور پر آج سے شروع ہونے والا انتخابی عمل رک گیا ہے اور اس کے طول پکڑنے کا امکان ہے جس سے انتخابات کے التواء کے امکانات کا اظہار بلاوجہ نہیں لیکن دوسری جانب جس طرح سے سیاستدان چاہتے ہیں کہ وہ اپنی مرضی کے کاغذات نامزدگی پر کرکے انتخابات لڑیں اس کی بھی کسی طور حمایت نہیں کی جاسکتی۔ اگر دیکھا جائے تو یہ ایک ایسا موقع ہوتا ہے جب بااثر عناصر کو قانون سے گزرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس مرحلے پر جس قدر باریک بینی کیساتھ ان کے جملہ معاملات بشمول ٹیکس وغیرہ کا جائزہ لیا جائے اور باریک سے باریک چھلنی سے گزارا جائے اتنا ہی ملک وقوم کے حق میں بہتر ہوگا۔ ایسا کرنا اسلئے بھی ضروری ہے کہ بعد میں معاملات کی کجی سامنے آنے پر اولاً تو کارروائی میں کافی سے زیادہ عرصہ لگ جاتا ہے جبکہ دوسری جانب ضمنی انتخابات پر بھاری اخراجات آتے ہیں اسلئے انتخابات کا التواء نہ کرتے ہوئے تفصیلی کاغذات نامزدگی پر کروانے کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے تاکہ اس چھاننی سے چھن کر موزوں افراد ہی انتخاب لڑ سکیں اور شفافیت کے تقاضے پورے ہوں۔ جہاں تک سیاستدانوں کی جانب سے انتخابات کے التواء کے شکوک وشبہات کا اظہار ہے ایسا کرنا فطری امر اس لئے ہے کہ پہلے ہی سے بعض عناصر کی طرف سے انتخابات کے انعقاد میں تاخیر کی کافی سے زیادہ راہ ہموار کی جا چکی ہے اور ان عناصر کی طرف سے ہر قیمت پر الیکشن کے التواء کی مساعی صاف ظاہر ہے۔ وطن عزیز میں جہاں ایک طرف راست طریقے سے انتخابی عمل جاری ہے وہاں دوسری جانب بعض عناصر کی اب بھی کوشش دکھائی دیتی ہے کہ کسی طرح انتخابات ملتوی کرکے جمہوری عمل میں رخنہ ڈال کر مقاصد حاصل کئے جائیں لیکن ہر بار کے شناوروں کے اس مرتبہ ڈوبنے کا خطرہ زیادہ دکھائی دیتا ہے جو وطن عزیز میں جمہوری اداروں اور سیاسی جماعتوں کے سنجیدہ کردار کا ایک اور ثبوت ہوگا۔ اس سب کے باوجود ہمیں یقین ہے کہ عام انتخابات مقررہ وقت پر اور شیڈول کے مطابق ہوں گے۔ الیکشن کمیشن اور نگران حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہی یہ ہے کہ انتخابات کو بروقت اور صاف وشفاف انداز میں ہونے کو یقینی بنائے۔ عام انتخابات کا بروقت اور شفاف انتخاب اور جمہوری طریقے سے منتقلی اقتدار وطن عزیز میں جمہوریت کے استحکام کیلئے ایک اور سنگ میل ہوگا جسے یقینی بنانا ہم سب کا قومی فریضہ ہے۔ مقام اطمینان یہ ہے کہ چیف جسٹس ثاقب نثار نے قبل ازیں مختلف مواقع پر اور اب بھی واضح طور پر پیغام دیا ہے کہ عام انتخابات مقررہ وقت پر آئین کے مطابق صاف اور شفاف ہوں گے اور کسی بھی قیمت پر انتخابات کے التواء کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اتفاق سے نگران وزیراعظم خود بھی چیف جسٹس کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں اور قائمقام چیف الیکشن کمشنر بھی رہنے کا تجربہ ہے۔ انہوں نے بھی صریح الفاظ میں انتخابات کے بروقت اور شفاف انعقاد کی یقین دہانی کرائی ہے۔ انہوں نے یہاں تک عندیہ دیا ہے کہ اگر خدانخواستہ ایسا نہ ہوا تو وہ 25جولائی کے بعد کام نہیں کریں گے۔ چیف الیکشن کمشنر بھی ریٹائرڈ جسٹس ہیں۔ یوں معاملہ اعلیٰ عدلیہ اور اعلیٰ عدلیہ کے سابق اعلیٰ نمائندوں ہی کے درمیان ہے جن سے قوم یہ امید رکھنے میں حق بجانب ہے کہ ان کی موجودگی اور نگرانی میں تمام تر خدشات اور دباؤ کے باوجود عام انتخابات کا انعقاد ہر قیمت پر مقرہ تاریخ پر ہی یقینی بنا لیا جائے گا۔ کاغذات نامزدگی میں تبدیلی اور تفصیلات شامل کرنے کا کام جتنا جلد نمٹایا جائے گا انتخابات میں تاخیر کے حوالے سے غیر یقینی کی صورتحال کا اتنا جلد خاتمہ ہوگا اور قوم ایک اور جمہوری عمل کی طرف یکسوئی کیساتھ بڑھے گی۔

متعلقہ خبریں