سرکاری اساتذہ کے ٹیوشن سنٹرز میں پڑھانے پر پابندی ضروری

03 جون 2018

پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی کی طرف سے نجی سکولوں کی طرح ٹیوشن سنٹرز کیلئے بھی ایس او پیز بنا کر ان کی درجہ بندی اور فیسوں کا تعین کرنے کا عندیہ خوش آئند امر ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ تعلیم کو تجارت بنا کر جس طرح سے والدین اور طلبہ کا معاشی استحصال کیا جا رہا ہے اور طلبہ کو نت نئے قسم کے چکر میں پھنسا کر سکولوں کے بعد ٹیوشن سنٹرز کو بھی لاکھوں روپے کمانے کا وسیلہ بنایا جا رہا ہے۔اس سے طالب علموں پر صرف معاشی بوجھ ہی نہیں پڑتا بلکہ وہ سکولوں اور ٹیوشن سنٹرز کے درمیان لڑھکتے لڑھکتے دھوبی کا کتا نہ گھر کا نہ گھاٹ کا کے مصداق بن گئے ہیں مگر چونکہ ایسا کرنا ان کی مجبوری اور وقت کا تقاضا بنا دیاگیا ہے اس لئے وہ صحت مند طریقے سے مقابلہ کرنے کی بجائے کاروباری نوعیت کے طور طریقے استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ اولاً ان مراکز کے تجارتی بنیادوں پر قیام کی اجازت ہی نہیں دی جانی چاہئے دوم یہ کہ اگر ان کو اجازت دینا ہی لازم ٹھہرتا ہے تو پھر ان میں دی جانے والی تعلیم اور سہولیات کے مطابق ان کی فیسیں مناسب مقرر کی جائیں۔ اگر صوبے میں سرکاری کالجوں کا معیار بڑھانا ہے تو پھر سرکاری کالجوں کے پروفیسروں پر نجی ٹیوشن سنٹرز میں پڑھانے پر مکمل پابندی عائد کرنی چاہئے۔ ان کو زیادہ سے زیادہ اپنے طور پر گروپ ٹیوشن پڑھانے کی اجازت ملنی چاہئے تاکہ طالب علموں کو ان کی رہنمائی میسر آئے اور معاشی طور پر بھی وہ اپنے علم و تجربے کا نفع اٹھا سکیں۔ تجارتی بنیادوں پر ان کو پڑھانے کی کسی طور اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ خودمختار تعلیمی اداروں کے اساتذہ پر بھی یہ پابندی لاگو ہونی چاہئے۔

مزیدخبریں