Daily Mashriq

''نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن''

''نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن''

ہمارے سیاستدان حزب اقتدار اور اختلاف دونوں خوشیاں منا رہے ہیں کہ وطن عزیز میں دوسری دفعہ جمہوری حکومت نے اپنے پانچ سال مکمل کئے ہیں، گویا کہ اب جمہوری نظام کی جڑیں مضبوط ہورہی ہیں جبکہ حال یہ ہے کہ دونوں فریقوں کی خوشیوں میں فرق ہے۔ حزب اقتدار خوش ہے کہ ناسازگار حالات کے باوجود ہم نے ہر قسم کی قربانی دیتے ہوئے ''جمہوریت'' پر آنچ نہیں آنے دی اور باد مخالف کی تندی کے باوجود عوام پاکستان کے ریکارڈ فلاحی کام کئے۔ جس میں مختلف رنگوں کی ٹرینوں اور میٹرو کے علاوہ سڑکیں وغیرہ شامل ہیں جبکہ حزب مخالف کی ساری جماعتیں بالخصوص تحریک انصاف لوگوں کو یوم نجات منانے کیلئے شکرانے کا دوگانہ پڑھنے کی ترغیب دے رہی ہے۔

پاکستانی سیاست اور جمہوریت کی یہی خوبصورتی ہے کہ ہر مقتدر سیاسی جماعت اپنے دور قتدار میں کئے گئے ایرے غیرے اور عوام کی بنیادی ضروریات سے بہت کم تعلق رکھنے والے کاموں کیلئے عوام سے نہ صرف واہ واہ! کا مطالبہ وتقاضا کر تی ہے بلکہ متصل ایک اور باری دینے کی توقع، تمنا اور خواہش بھی رکھتی ہے۔ مسلم لیگ ن کی پانچ سالہ حکومت کے حوالے سے کوئی اُن سے پوچھے تو جواب آئے گا کہ اگر ہماری حکومت نہ آتی اور ہم ملک کو سنبھال نہ دیتے تو ہم سے پچھلی حکومت نے تو بس کباڑہ کر ہی لیا تھا، ملک تباہی کے دہانے پر کھڑا تھا اور ہم نے ہر قسم کی تکلیف، الزام اور دشنام برداشت کرتے ہوئے ملک کی خاطر قربانیاں دیں جبکہ حزب مخالف اور دیگر اپوزیشن کی جماعتیں بیک زبان، مسلم لیگ ن پر الزام لگاتی ہیں کہ پاکستان پر گزشتہ پانچ برسوں کے جمہوری دور اقتدار میں جو غیر ملکی قرضہ چڑھا وہ گزشتہ 70 برسوں میں لئے گئے مجموعی قرضوں سے زیادہ ہے اور یہ الزام تو بہت ہی خطرناک اور تشویش ناک ہے کہ ان لئے گئے قرضوں کا زیادہ تر حصہ کرپشن کی نذر ہوچکا ہے۔ پاکستان میں سیاسی جماعتوں کی حکومتوں کے دوران ایک دوسرے پر اس قسم کے سنگین الزامات عائد کئے جاتے رہے ہیں۔ ہر حکومت اپنے سے پہلی اور آنے والی دونوں حکومتوں کو لتاڑتی ہے اور اس کو جمہوریت کا نام دیا جاتا ہے۔ سیاسی جماعتوں کے جمہوری اقتدار کے دوران عوام لہولہان ہوتے ہیں۔ حزب اقتدار کیساتھ رہنے والے عوام اپنے قائدین اور ان کی حکومت کو ہر حال میں سپورٹ کرنے کی قسم کھائے ہوتے ہیں اور مخالفین اوراپوزیشن والے بالکل اس کے برعکس ان پر لعن طعن کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتے۔ جمہوریت کے ان ''مزوں'' کے سبب قوم کا بیڑہ غرق ہو کر گروپوں اور جماعتوں میں تقسیم ہو کر ایک دوسرے کو زچ کرنے اور نیچا دکھانے کیلئے اپنی توانائیاں صرف کرنے میں لگے ہوتے ہیں اور عوام کی بنیادی ضروریات کی طرف توجہ، قانون سازی اور فراہمی وسائل بھاڑ میں چلے جاتے ہیں۔ جمہوریت کے ان نخروں سے عوام اتنے تنگ آجاتے ہیں کہ ووٹ کا استعمال تک ترک کر دیتے ہیں۔ پاکستان میں اب ڈالے گئے ووٹوں کی اوسط شرح تقریباً 40فیصد ہے۔ باقی 60فیصد خاموش عوام ووٹ نہ ڈال کر اس نام نہاد جمہوریت کیخلاف احتجاج کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ جمہوری حکومتوں اور سیاسی جماعتوں کے درمیان دشمنی کی حد تک مخالفتوں کے سبب پاکستان میں وطن کی حفاظت وسالمیت کے نام پر مارشل لاء لگتے رہے اور عوام بے چارے اُمید افزا نگاہوں سے سکھ کا سانس لیتے ہوئے ''میرے عزیز ہم وطنو!'' والوں کا استقبال کرتے رہے لیکن چند برسوں کے اندر اندر جب سیاستدانوں کی طرف سے عوا م کو جمہوریت بحالی کی دعوت دی جاتی ہے تو نادان، سادہ، مجبور، مقہور، مظلوم، ان پڑھ، غریب اور ''ایک دفعہ پھر سہی'' کی اُمید پر جلسے جلوسوں، مظاہروں، دھرنوں اور احتجاجات میں شریک ہو کر اور قربانیاں دے کر انتخابات کروانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں لیکن پھر وہی بنی اسرائیل کا وادی تیہہ میں سفر کا سامان، کہ صبح سے شام تک سفر اور شام کے وقت اُسی جگہ جہاں سے چلے تھے اور آسیب کا سایہ اتنا گہرا ہوگیا ہے کہ عوام پوچھتے ہیں کہ ''جائیں تو جائیں کہاں۔۔۔ نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن۔۔۔

اب ایک بار پھر جولائی میں انتخابات ہوں گے۔ اللہ کرے کہ خیریت کیساتھ پایہ تکمیل تک پہنچیں۔۔ لیکن وہاں پہنچنے سے پہلے صوبائی حکومتوں کے تحلیل ہونے کے باوجود نگران وزرائے اعلیٰ کا نہ ہونا اور صوبائی حکومتوں کا بغیر حکمران کے چلنا اور عیدالفطر کے بعد جلسوں جلوسوں میں ایک دوسرے پرگولہ باریاں اور عوام کو سبز باغ دکھانے کی مہم چلانا دیکھنے سے تعلق رکھتا ہوگا۔ اس جمہوری پراسس پر اربوں خرچ ہوں گے اور نتیجہ لٹکی ہوئی پارلیمنٹ، کہ کوئی ایک جماعت بھی اپنی ''شاندار'' کارکردگی کے بل بوتے پر اس قابل نہیں کہ حکومت بنانے کی جیت حاصل کر سکے۔۔ اور پھر جوڑ توڑ ہوگی اور سیاست میں کوئی بات حرف آخر نہیں اور کوئی مستقل دوست، دشمن اور مخالف نہیں، عوام سیاستدانوں کے اقتدار کیلئے جوڑ توڑ دیکھتے ہوئے ٹک ٹک دیدم کی کیفیت سے سُن ہو رہے ہونگے۔ ہم اسی کھیل میں مشغول ہوں گے اور امریکہ افغانستان میں پاکستان مائنس امن فارمولے پر کام کر رہا ہوگا۔ بھارت کشن گنگا ڈیم کی تعمیر تیز کر رہا ہوگا اور ہم ڈیموں کے بغیر بوند بوند کیلئے ترسنے کے مراحل کے قریب ہوتے رہیں گے۔ تف ہے ایسی جمہوریت پہ جو تعلیم، صحت، پانی جیسے عوام کے بنیادی مسائل حل نہ کر سکے۔ انتخابات اور جمہوریت کروڑ پتیوں کا کھیل ہے، کھیلتے رہیں جب تک عوام باشعور ہو کر بیدار نہ ہو جائیں، اگر عوام تعلیم یافتہ ہو کر باشعور اور باضمیر ہو جائیں تو واللہ! ایک آدھ کی استثنیٰ کیساتھ کوئی بھی اس قابل نہیں کہ وطن عزیز کی باوقار ومعزز پارلیمنٹ میں بیٹھ کر بائیس کروڑ عوام کی نمائندگی کر سکے۔ اللہ پاکستان کی حفاظت فرمائے۔ امین

متعلقہ خبریں