Daily Mashriq

نگران در نگران وزیر اعظم

نگران در نگران وزیر اعظم

شاہد خاقان عباسی اپنی وزارت کے دن پورے کرکے ایوان اقتدار سے رخصت ہوگئے۔ انہیں گارڈ آف آنر دے کر رخصت کیا گیا اور وہ اپنے عہدے کی مدت پوری ہونے کے آخری لمحے تک کام کرتے رہے۔ جاتے جاتے انہوں نے پٹرولیم مصنوعات میں آٹھ روپے کا اضافہ کر دیا۔ شاہد خاقان عباسی کی ایوان وزیراعظم سے رخصتی کیساتھ ہی اس ایوان میں جسٹس ناصر الملک نے تین ماہ کیلئے قدم رنجہ فرمایا۔ جسٹس ناصر الملک تین ماہ میں ملک میں انتخابات کے انتظام وانصرام کی نگرانی کریں گے اور وہ کس طرح ایوانوں سے رخصت ہوں گے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ ناصر الملک تو مسلمہ اور اعلانیہ بلکہ آئینی نگران وزیراعظم ہیں مگر ان کے پیش رو شاہد خاقان عباسی نے بھی اپنا دور اقتدار ایک نگران کے طور پر ہی گزارا۔ یوں اس آمد ورفت کو نگران درنگران کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ رخصت ہونے والے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا تعلق شمالی پاکستان کے معروف سیاحتی اور پہاڑی علاقے مری سے تھا اور وہ ایک سیاسی بھونچال اور حادثے کے نتیجے میں اس منصب تک پہنچ سکے تھے۔

میاںنوازشریف کی پانامہ کیس میں نااہلی نے کئی لوگوں کے ایوان اقتدار میں پہنچنے کے امکانات پیدا کئے تھے۔ ان میں میاں نوازشریف کے کئی دست راست اور مسلم لیگ ن کے کئی نامی گرامی لیڈر بھی شامل تھے۔ ان میں خودنمائی کے خوگر اور خوش گفتار اور میڈیا میں ہمہ وقت زندہ رہنے والے کئی راہنما بھی شامل تھے مگر قرعہ فال حیرت انگیز طور پر ایک مرنجان مرنج شخص شاہد خاقان عباسی کے نام نکلا۔ جن کی وزارت عظمیٰ کی کرسی تک پہنچنے کی طرح سیاست میں آمد بھی حادثاتی ہے۔ ان کے والد خاقان عباسی جنرل ضیاء الحق کے زیر اثر محمد خان جونیجو حکومت کے وزیر تھے جب اوجڑی کیمپ میں دھماکے ہوئے اور انہی دھماکوں میں وفاقی وزیر خاقان عباسی بھی جاں بحق ہوئے۔ خاقان عباسی کیساتھ ایک بیٹا جسے ان کا ممکنہ جانشین سمجھا جاتا تھا شدید زخمی ہو کر کومہ میں چلا گیا۔ اس حادثے نے شاہد خاقان عباسی کے سیاست میں داخلے کی راہ ہموار کی اور وہ ایک حادثے کے نتیجے میں سیاست میں سرگرم ہوتے چلے گئے۔ انہوں نے ہر الیکشن جیت کر ریکارڈ قائم کیا۔

پانامہ کیس کے فیصلے کے بعد بالکل اسی حادثاتی سٹائل میں شاہد خاقان عباسی بہت سے نامی گرامی حکمران گھرانوں کے وابستگان کو پیچھے دھکیل کر وزیراعظم بن گئے۔ ان کی وزارت عظمیٰ کا دور درحقیقت میاں نوازشریف کے دور کا تسلسل ہی تھا۔ کہنے کو شاہد خاقان وزیراعظم تھے مگر فیصلہ سازی کا مرکز بدستور جاتی امراء اور اس کے مکین میاں نوازشریف ہی رہے۔ خود شاہد خاقان عباسی برملا کہتے رہے کہ اصل وزیراعظم نوازشریف ہی ہیں۔ اس طرح ان کی حیثیت نمائشی ہی رہی۔ شاہد خاقان عباسی کیلئے وزارت عظمیٰ پل صراط کا سفر تھا۔ ایک طرف پارٹی کے قائد میاں نوازشریف تھے جو آمادہ جنگ تھے اور اپنی نااہلی کے فیصلے پر منقار زیرپا تھے اور ردعمل میں سب کچھ بھسم کر دینا چاہتے تھے تو دوسری طرف ملک کی ہیئت مقتدرہ تھی جو وزیراعظم کے آئینی عہدے کے ذریعے من پسند فیصلے چاہتی تھی۔ سیاسی فضا کو نارمل رکھنا اور کسی اتھل پتھل کو روکے رکھنا چاہتی تھی۔ شاہد خاقان عباسی نے کمال مہارت سے یہ مشکل ترین ''ڈبل رول'' ادا کیا۔ انہوں نے دم سادھ کر پل صراط کا سفر طے کر لیا۔ ضرورت پڑی تو میاں نوازشریف کے موقف کی پوری قوت سے بات کی اور پھر ضرورت پیش آئی تو اداروں کے احترام کی بات بھی بالیقین کر دی۔ اس حکمت عملی نے انہیں کسی نئی مشکل میں پھنسنے سے بچائے رکھا۔ شاہد خاقان ملکی سیاست پر کوئی انمٹ نقش قائم کئے بغیر ہوا کے جھونکے کی طرح آئے اور گزر گئے۔ ان کا دور اقتدار کسی حادثے کا شکار نہیں ہوا یہی ان کی کامیابی ہے وگر نہ شیخ رشید جیسے شکاری قطر گیس معاہدے کا جال پھینک کر ان کی تاک میں بیٹھے رہے۔ شاہد خاقان کی رخصتی کے بعد جسٹس ناصر الملک ایوان وزیراعظم میں داخل ہوگئے ہیں مگر شاہد خاقان عباسی کی طرح ان کا دور اقتدار بھی محدود یعنی تین ماہ پر محیط ہوگا۔ نگران وزیراعظم کی سیاسی اور روایتی وابستگی پیپلزپارٹی سے رہی ہے اور اسی وابستگی کی بنیاد پر وہ خیبر پختونخوا کے ایڈووکیٹ جنرل بھی رہے ہیں مگر انہیں ذاتی حیثیت میں ایک شریف اور نفیس انسان مانا اور جانا جاتا ہے۔ وہ اپنے تین ماہ ایوان اقتدار میں کس طرح گزارتے ہیں یہ ان کا امتحان ہے۔ نگران وزیراعظم کو بھی صاف وشفاف انتخابات کے سخت چیلنج کا سامنا ہے۔ ملکی سیاسی فضا بری طرح مکدر اور آلودہ ہو چکی ہے۔ سیاسی جماعتوں میں اختلافات دشمنی کی حدوں کو چھو رہے ہیں اور سوشل میڈیا اس مکدر سیاسی فضا پر مزید تیل چھڑک کر آگ بھڑکانے کی قدرت رکھتا ہے۔ خود الیکشن کمیشن کی طرف سے انتخابات کو سبوتاژ کرنے کیلئے بیرونی طاقتوں کی سازشوں کے خدشات ظاہر کئے جا چکے ہیں۔ ایسے میں جانے والے وزیراعظم کی جان مسائل اور مشکلات سے چھوٹ گئی مگر ان کی جگہ آنے والے نگران وزیراعظم نے چیلنجز کی دلدل میں قدم رکھ دیا ہے۔یقینا یہ تین ماہ ان کے لیے سخت آزمائش کے ہوں گے جس میں سے کامیابی سے نکلنے کے لیے ان کو بڑی ہمت اور فراست کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

متعلقہ خبریں