Daily Mashriq

نقصان تو ہمار اہی ہے

نقصان تو ہمار اہی ہے

جانے کیوں یہ لوگ ہماری کم عقلی کا مذاق اڑاتے محسوس ہوتے ہیں جب یہ کہتے ہیں کہ اللہ نے موقع دیا تو ہر شہر کو سنواریں گے ۔ نئے میگا پراجیکٹس لائیں گے ۔ ان کی باتوں کے استہزائیہرنگ ہمارے دلوں کو سیاہ کیے دیتے ہیں کیا ہم اتنا بھی نہیں سمجھ سکتے کہ ان کے میگا پراجکیٹس نے پاکستا ن کا ، پاکستان کے عوام کا ، پاکستان کی آب وہوا کا کیاحال کر دیا ہے ۔ کیا ہمیں اتنا بھی معلوم نہیں کہ اربوں کے میگا پراجکیٹس کی بات تو کی جاتی ہے لیکن ڈیم بنانے کی بات نہیں کی جاتی کیونکہ انہیں ابھی تک ڈیم بنانے کے نتیجے میں حاصل ہوسکنے والے کک بیکس کا پوری طرح اندازہ نہیں ۔ یہ ملک ان کے لیے منڈی ہے ۔ ان کے کاروبار کی بڑھوتری کے لئے مدد گار منڈی ، ان کے مفادات سے وفادارمنڈی ۔ یہ اپنے اپنے گھروں کو لوٹ چکے ہیں لیکن خواب میں بھی اس ملک کو لوٹنے کے طریقے سوچتے ہیں ۔ اس ملک کی آب وہوا سے انہیں کیا غرض ۔ یہ اس ملک میں کوئلے سے بجلی بنانے کے کارخانے لگانے کے بھی مجرم ہیں اور کوئلے کی ترسیل کے لیے ملکی وسائل کو استعمال کرنے کے بھی مجرم ۔ یہ سڑکیں بنانے میں درختوں کی جان لینے کے بھی مجرم ہیں ، تحقیق نہ کرنے کے بھی مجرم کہ پوری دنیا میں گاڑیوں کی تعداد کا تخمینہ لگانے کے بعد سڑک کی تعمیر کا منصوبہ بنایا جاتا ہے اور یہاں اپنے مفادات کے سکوں کی بوریوں کا تخمینہ لگا کر سڑک کی تعمیر کا اعلان کر دیا جاتا ہے ۔ یہ ارض پاک وہ کمال ملک ہے جہاں سڑکوں ، پلوں اوررہیڈز کے میگا پراجیکٹس تو موجود ہیں لیکن ٹرانسپورٹ پالیسی کا کوئی وجود نہیں ۔ اوریہ لوگ ہی ہمارے اصل مجرم ہیں جو اب بھی دانت نکو سے ہمارے مضحکہ اڑاتے دکھائی دیتے ہیں کہ حکومت میں آئے تو پھر میگا پراجیکٹس لے کر آئینگے ۔ ان میگا پراجکیٹس میں ڈیم شامل ہو ہی نہیں سکتے کیونکہ تعمیر کرنے کی مدت ایک سیاسی جمہوری حکومت کی مدت سے کہیں زیادہ ہوتی ہے ۔ صرف یہی نہیں ، ڈیم بنانے سے ملک اور قوم کا بھلا بھی ہوتا ہے ۔ جن لوگوں کی دوستیاں اور صنعتیں سرحد پار بھی موجود ہوں ، وہ لوگ اس ملک کے دوست کہاں ہوسکتے ہیں ۔ یہ کبھی مودی کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے بے چین ہیں ،کبھی مودی ان کی گھر کی ذاتی تقریب میں شرکت کے لیے بنا اجازت پاکستان تشریف لاتے ہیں ۔ کبھی جندال کو خفیہ ملاقات کی دعوت دی جاتی ہے۔ لندن پوسٹ میں 26دسمبر2015ء کو شائع ہوئے ڈاکٹر شاہد قریشی کے ایک کالم کے مطابق بھارت میں نواز شریف کے دوست جندال لوہے کے کاروبار کے بادشاہ ہیں اور دراصل افغانستان میں نیٹو کے سکریپ تک رہنمائی چاہتے ہیں۔ اس کارروائی میں بابر غوری کی مدد' اسحاق ڈار کے ذریعے ان کے شامل حال رہی۔ نواز شریف کی جمنانگر ریفائنری کے حوالے سے کردار بھی مشکوک رہا۔ اس آرٹیکل کے مطابق نواز شریف اور نریندر مودی کے آپس کے تعلقات کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے دونوں نے اپنے مشترکہ دشمن کا تعین کرلیا ہے۔ اے این پی سے میاں نواز شریف کے تعلقات بھی کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ اے این پی کے کردار کے حوالے سے بھی کوئی بات کسی پردے میں نہیں۔ ان کا تعارف مکمل کرنے کے لئے تو جمعہ خان صوفی کی کتاب '' فریب نا تمام'' ہی کافی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو کالا باغ ڈیم کے حوالے سے مسلسل مخالفت کرتے ہیں اور انتہائی سخت موقف رکھتے ہیں۔ 1940ء میں پاکستان کے قیام سے پہلے انگریز انجینئرز نے کالا باغ ڈیم کے لئے جگہ منتخب کی تھی اس وقت اس جگہ کو بہترین تصور کیاگیا تھا اور ہم لوگ آج بھی جانتے ہیں کہ و ہ اپنے کام سے انتہائی وفادار لوگ تھے۔ پاکستان کے قیام کے بعد سے اے این پی نے کالا باغ ڈیم کو ایک مسئلہ بنا لیا۔ اور یہ مسلسل کی مخالفت کے ایجنڈے پرکام کر رہے ہیں۔ میں اکثر سوچتی ہوں کہ حقائق سامنے ہوتے ہوئے بھی آخر ہم کیسے درست فیصلے نہیں کرسکتے۔ کیسے ہمیں یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ یہ ہنستے مسکراتے سیاستدان ہماری حماقتوں پر ہنستے ہیں۔ ان کے لہجوں کا تمسخر ہماری یادداشت کی کمزوری کا تمسخر ہے۔ یہ ہم پر ہنستے ہیں کہ ہم ان کے ہاتھوں تباہ ہو رہے ہیں۔ ہمارے بچوں کے مستقبل ان کے پروں تلے مسلے جا رہے ہیں لیکن ہم ان کے جھوٹ کو سچ ماننا چاہتے ہیں۔ ہم ان کی باتوں پر یقین کرنا چاہتے ہیں حالانکہ ہمیں اس بات کا مکمل یقین ہے کہ یہ سچ نہیں بولتے۔ ہم انہی کو ووٹ دینا چاہتے ہیں اور ان کے ناموں پر مہر لگاتے وقت ایک لمحے کو بھی ہمارے ہاتھ نہیں کانپتے کہ در اصل تو ہم نے اپنے مستقبل پر سیاہی کی مہر اپنے ہاتھوں سے لگائی ہے۔ ایک حکومت سے ہم فارغ ہو چکے اور دوسری کی جانب سفر کا آغاز کرچکے۔ کچھ باتیں فیصلہ کرتے ہوئے یاد رکھ لی جائیں تو اچھا ہے ورنہ نقصان تو ہمارا ہی ہے۔

متعلقہ خبریں