Daily Mashriq

الوداع ایف سی آر

الوداع ایف سی آر

سلطنت مغلیہ میں چونکہ پورے برصغیر میں سرداری نظام رائج تھا اس لئے ہر صوبہ یا علاقہ کی بااثر شخصیات یا مقامی سپہ سالار مغل امپائر کے دست وبازو ہوتے جو سلطنت کیخلاف کسی قسم کی بغاوت یاحکم عدولی پر حاضر ہوکر لشکرکشی کرتے جس کے بدلے انہیں القابات، خطابات، جاگیریں اور مناصب دئیے جاتے۔ وہ بھی بلاچوں وچراں اپنے آقاؤں کو خوش کرنے کی خاطر اپنے قوم وقبیلوں کی خوب خون ریزی کرتے۔ پھر برصغیر میں انگریز کے قبضہ کے بعد اگر وہ ایک طرف کسی حد تک اپنے اپنے سرداروں سے کام لیتے لیکن ساتھ ہی نت نئے اور ظالمانہ قوانین کے بل بوتے پر بھی مخالفین کو قابو کرتے جس طرح کہ اُنہوں نے برٹش انڈیا میں 1867ء کوMurderous Outrage Regulation کے نام سے ایک قانون بنایا تاکہ سخت جرائم جیسے قتل مقاتلے پر قابو پانے کیلئے گورنمنٹ کے پاس اضافی اختیار ہو۔ اگرچہ اسے مرڈرس کا نام تو دیا گیا مگر حقیقت میں اسے بغاوت اور سیاسی مخالفین سے نبرد آزما ہونے کیلئے بنایا گیا تھا۔ اس میں پہلی بار 1873ء اور دوسری بار 1877ء میں (غازی ایکٹ) کی تجدید کی گئی تاکہ سرحدی پشتون اضلاع میں مؤثر انداز میں استعمال کیا جاسکے۔ ڈیورنڈ لائن کے وقت اس قانون کو ناکافی قرار دیا گیا اسلئے 1901ء کو Murderous Outrage Regulation موجودہ Frontier Crime Regulation کی شکل میں پیش کیا گیا۔ جس کا واحد مقصد موجودہ خیبر پختونخوا' صوبہ بلوچستان، پاٹا اور فاٹا کے پختونوں کو سامراج خلاف کارروائیوں سے باز رکھا جاسکے۔ ''تاریخ صوبہ سرحد'' کے مطابق اس وقت صوبہ سرحد میں اس قانون کا سب سے پہلا سیاسی شکار اخبار ''فرنٹیرایڈوکیٹ'' کے مالک پنڈت امیر چند بموال تھے جن کو لاہور میں کانگریس کی میٹنگ سے واپسی پر 1907ء کو خیرآباد کے ریلوے سٹیشن سے گرفتار کیا گیا تھا۔ایف سی آر کے تحت مذکورہ علاقوں کے مکینوں سے اپیل، وکیل اور دلیل کا بنیادی حق چھین لیا گیا تھا خواہ ان کیساتھ کتنا ہی غیرانسانی رویہ کیوں نہ روا رکھا جاتا مگر مذکورہ بالا تین بنیادی حقوق وہ استعمال نہیں کر سکتے تھے۔ اس طرح دفعہ21کے تحت اجتماعی ذمہ داری کے تحت ملزم کا کوئی بھی دور کا رشتہ دار یا اس کے قریب کا کوئی شخص بھی گرفتار کیا جاسکتا تھا۔ مقامی انتظامیہ/پولیٹکل ایجنٹ اور اس کا اسسٹنٹ انتظامیہ اور عدلیہ کے لامتناہی غیرذمہ دارانہ اختیارات رکھتے تھے۔ کسی مشکوک ملزم کی چھان بین کیلئے عمائدین کا جرگہ تو بنایا جاسکتا تھا مگر اس کی سفارشات کو نظرانداز کرکے مقامی انتظامیہ/پولیٹکل ایجنٹ من مانا فیصلہ کر سکتا تھا۔ اسی طرح کسی علاقے میںجرم ہونے کی صورت میں پورا علاقہ تلافی کرنے کا پابند ہوتا خواہ ملزم یا مجرم کہیں کا بھی ہوتا۔ یہ تمام تر ایسے قوانین ہوا کرتے تھے جو آئین کے آرٹیکل8کے 28 (بنیادی انسانی حقوق) سے متصادم تھے اور جن کیخلاف ایک عام پاکستانی کی طرح متاثرہ فرد کورٹ تک بھی نہیں جاسکتا تھا۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ آئین کے آرٹیکل147 کے تحت عوامی نمائندگان یا قومی اسمبلی فاٹاکے بارے میں بے دست وپا تھے۔ افسوسناک امر یہ تھا کہ اپنوں نے جس غلط اور غاصبانہ طریقہ سے اس قانون کو قبائلیوں پر استعمال کیا غیروں(انگریزوں) نے بھی اس حد تک بے رحمانہ استعمال نہیں کیا ہوگا۔ 1979ء کو بلوچستان ہائی کورٹ (شریعت کورٹ بنچ) نے ایف سی آر کو ایک استحصالی اور غیر اسلامی قانون قرار دیا جس کی پیروی کرتے ہوئے 29جولائی 2002ء کو لاہور ہائی کورٹ نے بھی اسے غیرقانونی قرار دیا۔ 12اگست 2011ء کو اس وقت کے صدر پاکستان آصف علی زرداری نے اپنے خصوصی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے دو صدارتی حکمناموں پر دستخط کرتے ہوئے ایف سی آر میں اصلاحات کا سلسلہ شروع کیا۔ جس کے نتیجے میں نہ صرف پولیٹیکل پارٹیز آرڈر 2002ء کا دائرہ فاٹا تک بڑھا دیا گیا (کیونکہ اس سے پہلے فاٹا میں غیرسیاسی انتخابات ہوا کرتے تھے) بلکہ پولیٹیکل ایجنٹ کی من مانیوں کو بھی کم کر دیا۔ کسی بھی ملزم کو 24گھنٹوں کے اندر اندر متعلقہ مختار کے سامنے پیش کرنے اور کوئی کیس مخصوص مدت میںفیصلہ کرنے کے رولز متعارف کئے گئے۔ پولیٹیکل ایجنٹ کے فیصلوں کیخلاف اپیل کیلئے ہائی کورٹ کے ہم پلہ تین رکنی فاٹا ٹربیونل کا قیام عمل میں لایا گیا، جیلوں کے معائنہ کا طریقہ کار وضع کیا گیا، پولیٹیکل ایجنٹ کے صوابدیدی فنڈ کو پہلی بار آڈیٹرجنرل کے زیرکر دیا گیا۔ اسی طرح خواتین، 16سال سے کم عمر والے بچوں اور 65سال سے زیادہ عمر کے قبائلیوں کو اجتماعی ذمہ داری کے تحت گرفتار نہ کرنے کا قانون بھی صدارتی آرڈر کا حصہ بنایا گیا۔ اس کے علاوہ 2011ء کے صدارتی آرڈر کے تحت حکومت کو عوامی جائیداد بغیر عوض کے قبضہ کرنے سے بھی روک دیا گیا۔سابق وزیراعظم پاکستان نوازشریف کی طرف سے مشیر خارجہ سرتاج عزیز کی سربراہی میں، نومبر2015 میں بنائی گئی چھ رکنی ریفارمزکمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں آخرکار 24مئی 2018ء کو قومی اسمبلی کے 229ممبران نے فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے حق میں فیصلہ دیا اس طرح فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرکے ایف سی آر جیسے مذموم، غیرانسانی اور غیراسلامی قانون سے قبائلیوں کو چھٹکارا دلا دیا گیا۔

متعلقہ خبریں