Daily Mashriq


او آئی سی اجلاس‘ عمران خان کا خطاب

او آئی سی اجلاس‘ عمران خان کا خطاب

مکہ المکرمہ میں منعقدہ او آئی سی سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کشمیریوں اور فلسطینیوں کی جدوجہد آزادی کو دہشتگردی سے نہیں جوڑا جاسکتا جبکہ او آئی سی فلسطین اور کشمیر کے مظلوم عوام کا ساتھ دے۔ کشمیر میں مسلمانوں پر مظالم کی لہر بڑھتی جارہی ہے۔ کشمیری آزادی کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ او آئی سی مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرائے‘ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کا حل ناگزیر ہے‘ کشمیری عوام آزادی کے حصول کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں‘ انہیں استصواب رائے کا حق ملنا چاہئے۔ او آئی سی مسلمانوں پر جاری مظالم کیخلاف آواز اُٹھائے‘ اسی طرح بیت المقدس فلسطینیوں کا دارالحکومت ہے اور گولان کو فلسطین کا حصہ ہونا چاہئے۔ عمران خان نے کہا کہ دہشتگردی کو اسلام سے الگ کرنا ہوگا کیونکہ اسلام کا دہشتگردی سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ تامل ٹائیگرز کے حملوں کو مذہب سے منسوب نہیں کیا گیا۔ اسلام کیخلاف گستاخانہ مواد کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ مغربی ممالک کو مسلمانوں کے جذبات کا احترام کرنا چاہئے‘ ان ممالک کو آگاہ کرنا چاہئے کہ توہین رسالت سے مسلمانوں کے جذبات کس قدر مجروح ہوتے ہیں‘ نیوزی لینڈ کے واقعے نے ثابت کیا کہ دہشتگردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا‘ کوئی مسلمان دہشتگردی میں ملوث ہو تو اسلامی دہشتگردی کا نام دیا جاتا ہے۔ نائن الیون سے پہلے زیادہ تر خودکش حملے تامل ٹائیگرز کرتے تھے ان کے حملوں کا کسی نے ہندو مذہب سے تعلق نہیں جوڑا۔ دہشتگردی کو اسلام سے علیحدہ کرنا ہوگا۔ فلسطینیوں اور کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو دہشتگردی سے نہیں جوڑا جاسکتا۔ اسرائیل نے دہشتگردی کو معصوم فلسطینیوں کیخلاف استعمال کیا۔ توہین رسالت کے واقعات ہماری ناکامی ہیں‘ یہودیوں نے دنیا کو بتایا ہے کہ ہولوکاسٹ کی غلط توجیح سے انہیں دکھ ہوا ہے‘ مسلم قیادت بھی دنیا کو مسلمانوں کے جذبات کا احترام کرنے کیلئے قائل کرے۔ ادھر سعودی عرب میں ہونے والے او آئی سی اجلاس کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ فلسطین مسلم امہ کا بنیادی مسئلہ ہے۔ عالمی قراردادوں کے مطابق فلسطین سے اسرائیلی قبضہ ختم کرایا جائے۔ مقبوضہ بیت المقدس فلسطینیوں کا دارالحکومت ہے‘ آزاد خودمختار ریاست میں زندگی بسر کرنا فلسطینیوں کا حق ہے۔ او آئی سی نے عالمی برادری سے خطے میں امن وسلامتی برقرار رکھنے کیلئے کردار ادا کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کو شہریت‘ مذہب یا کسی علاقے سے جوڑا نہیں جاسکتا۔ اعلامیے میں مذہب اور رنگ ونسل کی بنیاد پر امتیازی سلوک کی مذمت کرتے ہوئے نفرت اور امتیازی سلوک کے خاتمے کیلئے برداشت‘ احترام‘ بات چیت اور تعاون پر زور دیا گیا۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں ہونے والی انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کی تحقیقات اور کشمیر پر بھارت کے جبری قبضے کیلئے فوجی کارروائیوں کی مذمت‘ بوسنیا کے مسلمانوں کی بحالی اور قیادت کے درمیان پائے جانے والے اختلافات دور کرنے پر زور دیا گیا۔ برما کے مظلوم مسلمانوں کی مدد جاری رکھنے اور روہنگیا مسلمان پناہ گزینوں کی ملک واپسی کیلئے موثر کوششوں سے اتفاق کیا گیا۔ اعلامئے میں کہا گیا ہے کہ مسئلہ فلسطین اور القدس کے معاملات کو مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ اجلاس میں پاکستان اور بھارت پر زور دیا گیا کہ وہ تنازعہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قرارد ادوں کی روشنی میں مل بیٹھ کر حل کریں۔ اجلاس نے اقوام متحدہ‘ علاقائی اور بین الاقوامی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ 15مارچ کو اسلامو فوبیا کیخلاف بین الاقوامی دن کے طور پر منائیں۔ جہاں تک او آئی سی سر براہ اجلاس کا تعلق ہے‘ ایسا لگتا ہے کہ بالآخر طویل مدت تک منقار زیر پر رہنے والی اس تنظیم نے ریت میں دئیے ہوئے سر کو نکال کر اب تک شتر مرغ جیسے کردار کو تج دیا ہے اور اسے بھی ہوش آہی گیا ہے کہ دنیا کے مسلمانوں کیساتھ غیرمسلم طاقتیں امتیازی سلوک روا رکھے ہوئے ہیں وگرنہ فلسطین اور کشمیر جیسے سلگتے ہوئے مسائل کو اس تنظیم نے بھلا دیا تھا‘ توہین رسالت کے حوالے سے مسلمان ممالک ما سوائے دو چار ملکوں کے‘ ایک طویل اور مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے تھے یا پھر نیم دلانہ سی بیان بازی کے ذریعے اپنے ہونے کا احساس دلا دیتے تھے جس کی وجہ سے بعض مغربی باشندے اپنی شیطانی حرکتوں سے مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے کا عمل تسلسل کیساتھ جاری رکھے ہوئے تھے اور اس کیلئے جواز دہشتگردی میں مسلمانوں کو ملوث ہونے کے الزامات سامنے لا کر توہین رسالت کو اس کا ردعمل بتاتے تھے۔ یہاں بھی دراصل یہ مغربی ممالک دوغلی پالیسی کا شکار تھے کہ دنیا میں کہیں بھی دہشتگردی کے کسی واقعہ کو تو اسلام سے جوڑ کر منفی پروپیگنڈہ کرتے تھے مگر جب اسی قسم کے واقعات مغربی دنیا میں کسی غیرمسلم سفید چمڑی والے سے یا کسی گروہ سے سرزد ہوتے تو اس کیلئے مجرموں کو نفسیاتی مریض کہہ کر واقعے کی شدت کو کم کرنے اور اسے حملہ آور (حملہ آوروں) کے ذاتی کردار سے جوڑ کر ( غیر اسلامی دہشتگردی) کو خارج ازامکان قرار دیا جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے نہ صرف توہین رسالت کے حوالے سے اہل مغرب کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کی کوشش کی ہے بلکہ فلسطین اور کشمیریوں کے جدوجہد آزادی کو دہشتگردی سے جوڑنے کے عمل کو غلط قرار دیکر ان پر ہونے والے مظالم کی جانب عالمی برادری کی توجہ دلا دی ہے۔ تاہم جہاں تک ہولو کاسٹ اور توہین رسالت کے درمیان فرق کا تعلق ہے تو ہو لو کاسٹ ( جس پر ایک عرصے سے سوال بھی اٹھائے جا رہے ہیں) چونکہ یہودیوں کا بیانیہ ہے جو اس وقت دنیا کی بڑی معیشتوں پر قبضہ جمائے بیٹھے ہیں اور کوئی بھی ان کے بیانئے سے اختلاف نہیں کرتا، تو یہ عالمی اداروں کے توسط سے ان کا گلا دبانے کی کوشش کرتے ہیں‘ اس ضمن میں دنیا کی بڑی طاقت امریکہ تک میں کسی کو یہودیوں کے بیانئے سے سرمو انحراف کی جرأت نہیں ہوسکتی جبکہ مسلمان اس لئے ناکام ہیں کہ ان میں عدم اتفاق بہت زیادہ ہے اور پھر بیشتر مسلمان ممالک یہودیوں کے مالیاتی اداروں کے قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں یا پھر جو ممالک دولت سے مالامال ہیں ان کی دولت بھی مغربی ممالک کے بینکوں میں پڑی ہے جو یہودیوں ہی کی ملکیت ہیں اس لئے وہ ان کی مرضی کیخلاف ایک لفط تک نہیں بول سکتے‘ اس صورتحال سے باہر آنے کیلئے مسلمانوں کو نہ صرف اپنے باہمی اختلافات ختم کرنا ہوں گے بلکہ ایک نیا معاشی نظام بھی مرتب کرنا ہوگا جہاں یہ ایک دوسرے کیساتھ تعاون کرکے ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکتے ہیں اور اس کے بعد ہی دنیا ان کی بات کو غور سے سننے پر مجبور ہوگی۔

متعلقہ خبریں