Daily Mashriq


عوام کو تلقین

عوام کو تلقین

مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ حکومت موجودہ حالات میں مراعات دینے کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ بجلی اور گیس کی قیمتیں بڑھانا مجبوری ہے‘ ٹیکسوں کا بوجھ کچھ عرصے کیلئے برداشت کرنا ہوگا۔ تاجروں اور صنعتکاروں کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مشیر خزانہ نے کہا کہ حکومت موجودہ حالات میں مراعات دینے کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ کوئی بھی سیکٹر ٹیکس دینے کو تیار نہیں‘ بجلی اور گیس کی قیمتیں بڑھانا مجبوری ہے اس سے پہلے تاجروں اور صنعتکاروں نے معیشت کے حوالے سے مشیر خزانہ کو تجاویز دیں اور ملک کی معاشی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔ مشیر خزانہ نے کہا کہ کوشش کریں گے کہ صنعتکاروں اور تاجروں کی تجاویز پر عمل کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو معاشی مسائل سے نجات دلانے کیلئے مشکل فیصلے کئے جا رہے ہیں۔ قرضوں کا بوجھ عوام پر کم ازکم رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔ امر واقعہ یہ ہے کہ جب ہم گزشتہ20/15 سال کے دوران مختلف حکومتوں کے وزرائے خزانہ یا مشیروں کے بجٹ کے موقع پر اسی قسم کی تقاریب میں کی جانے والی تقریروں کا جائزہ لیتے ہیں تو الفاظ میں معمولی رد وبدل کے علاوہ تقاریر کے متن میں کوئی فرق دکھائی نہیں دیتا اور اسی قسم کے سٹیریو ٹائپ بیانات سے عوام کیلئے مہنگائی میں اضافے اور ٹیکسوں کے بوجھ کی اطلاعات ان تقاریر کا حصہ دکھائی دیتا ہے جس سے اندازہ لگانے میں دشواری نہیں ہوتی کہ عوام کو سبزباغ دکھانے والوں کے خیالات ایک جیسے ہی ہوتے ہیں۔ غریب اور بے بس عوام کی مجبوری یہی ہے کہ وہ یہ ملک چھوڑ کر جانے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے۔ اس لئے طوعاً وکرہاً انہیں ہر حکومت کے دئیے ہوئے مہنگائی کے تحفوں کی شکل میں نت نئے ٹیکس برداشت کرنے ہی پڑتے ہیں اور حکمران اقتدار میں آنے سے پہلے ان کیساتھ اچھے دن لانے کے حوالے سے جو وعدے کرتے ہیں وہ سراب بن کر انہیں مزید مشکلات میں مبتلا کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ عالمی مالیاتی اداروں سے قرض پہ قرض اُٹھانے کے بعد ان کی کڑی شرائط کے آگے حکومتیں جس طرح سر جھکانے پر مجبور ہوتی ہیں ان کے نتیجے میں عوام کو کب مسائل سے نجات مل سکے گی اس کے بارے میں صرف اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں مگر حکمران اپنے وعدوں کی تکمیل میں ناکامی کے بعد عوام سے اپنے غلط فیصلوں پر معافی تک مانگنے کو تیار نہیں ہوتے۔ عوام پر مسلسل مہنگائی مسلط کرنے کا یہ سفر کہاں جاکر رکے گا کوئی بھی نہیں جانتا تاہم مشیر خزانہ کی اس بات سے اتفاق کئے بناء کوئی چارہ نہیں ہے کہ کوئی بھی سیکٹر ٹیکس دینے کو تیار نہیں جو قابل تشویش امر اس لئے ہے کہ ایسی صورت میں حکومت کے پاس عوام سے ان ڈائریکٹ ٹیکس وصول کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں جو ظاہر ہے ٹیکسوں میں اضافہ سے ہی ممکن ہے یعنی یوٹیلٹی بلز بڑھانے اور دیگر شعبوں میں بلاواسطہ ٹیکسوں کی بھرمار کرکے ٹیکس وصول کئے جائیں۔ اس کے باوجود یہ دعوے کہ عوام پر قرضوں کا بوجھ کم ازکم رکھنے کی کوشش کی جائے گی سوائے مذاق کے اور کیا ہوسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں