Daily Mashriq

فیصلے منتخب نمائندوں کو کرنا چاہئیں

فیصلے منتخب نمائندوں کو کرنا چاہئیں

وفاقی وزیر فواد چودھری حقیقی معنوں میں تحریک انصاف کے فواد ہیں لیکن ان کی اسی خوبی پر پارٹی نے ان کو افہام میں جا ڈالا، ویسے وہ جنرل پرویز مشرف اور بعدازاں آصف زرداری کیلئے بھی حزب اختلاف پر خوب بھڑکتے پھڑکتے تھے مگر تحریک انصاف کیلئے تو اس معاملے میں ایک عظیم مفخم ثابت ہوئے مگر کیا کیا جائے کہ پاکستان میں سیاست سخت گیر ہوتی ہے اور سیاستدان اسی بناء پر پتھر دل ثابت ہوتے ہیں۔ فواد چودھری بھی ایک منجھے سیاستدان ہیں چنانچہ جس حکومت میں رہے اس کے لیڈر کیلئے ساون برکھا بن جاتے اور جوں اپنے لیڈر کا چہرہ بدل لیتے تو اس کیلئے واثق ہو جاتے مگر اس مرتبہ رنگ بدلا بدلا سا ہو رہا ہے۔ گزشتہ روز ایک ٹی وی انٹرویو میں ان کا رنگ ایسا لگا کہ وہ بھی ووٹ کو عزت دو تحریک کا حصہ بن گئے ہیں یا بنتے جا رہے ہیں، پہلے ان کا لب ولہجہ سیاسی مخالفین کیلئے بڑا ہی شقی ہوا کرتا تھا مگر اس انٹرویو میں اپنی ہی پارٹی کیلئے ثقیل ثابت ہو رہا تھا۔ اللہ خیر کرے، موصوف وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری نے اپنی سیاسی زندگی میں پہلی مرتبہ کھری باتیں کی ہیں۔ اس سے قبل وہ کہتے رہے جو پارٹی کی خواہش رہا کرتی تھی اس مرتبہ وہ خود بولے ہیں اور خوب بولے ہیں مثلاً آپ نے فرمایا ہے کہ اہم فیصلے ہو جاتے لیکن پتہ ہی نہیں چلتا، گویا ان کا مطلب ہے کہ فیصلوں کے بارے میں بھی پتہ نہیں چلتا کہ کب ہوئے اور کس نے کئے۔ فواد چودھری کی جگہ مسند نشین ہونے والی غیر منتخب شخصیت فردوس عاشق اعوان نے ان کی اُلجھن جواب آں غزل میں اس طرح دور کردی کہ موصوف لیبارٹری میں مصروف رہتے ہیں اس لئے ان کو پتہ نہیں چلتا کہ کیا ہو رہا ہے۔ لیبارٹری میں ان کے الجھاؤ کا انداز سوشل میڈیا سے ہو رہا ہے کہ وہ تجربات سائنس میں کس طرح گم ہو چکے ہیں کہ سیاست ہی سے گھم ہوکر رہ گئے ہیں، چودھری صاحب میڈیا کا خاصہ تجربہ رکھتے ہیں چنانچہ انہوں نے ایک اور کھری یہ کہہ دی کہ ان کی سابقہ وزارت میں غیرمنتخب افراد نے مداخلت کی اور جب ایک وقت میں پانچ لوگ ایک کمرے میں کام کریں گے تو وہی ہوگا کہ جو ہوا ہے، اس بارے میں موصوف نے ان پانچ کے نام ایک ایک کرکے گنوائے جو واقعی غیرمنتخب لوگ ہیں۔ چودھری صاحب کی اس بات سے اتفاق ہے کیونکہ ایسے بہت سارے غیرمنتخب افراد تحریک انصاف کی حکومت کے چبوترے پر گھس بیٹھے ہیں، ٹیکنوکریٹ کی اسناد پر اپنی اپنی ورکشاپ کھول رکھی ہیں اور اپنی اپنی کلکاریاں مار رہے ہیں کیونکہ وہ عوام کو جواب دہ نہیں ہیں۔ منتخب افراد براہ راست عوام کے نمائندے ہیں اور خود کو احتساب سے مبرا نہیں جانتے چنانچہ اس ماحول میں منتخب اور غیرمنتخب کے مابین کھچاؤ ایک لازمی امر ہے، تاریخ بھی اس امر کی گواہ ہے کہ غیرمنتخب حکام کا متمع نظر صرف اور صرف اپنے آقا کی خوشنودی ہوتی ہے کیونکہ جس مقام پر اس کو عظمت حاصل ہوئی وہ باس کی نظرکرم کا عطیہ ہی ہے جیسے کہ سپریم کورٹ کے ایک معزز اور سینئر جج قاضی فائز عیسٰی کے ریفرنس کے بارے میں ہے کہ یہ پتہ ہی نہیں چل رہا کہ اس کا ماسٹر مائنڈ کون ہے یہ یکایک فیصلہ اور کیس کی تیاری کہاں اور کیسے ہوگئی، کوئی بول رہا ہے کہ وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم ماسٹر مائنڈ ہیں۔ تبصرہ نگار جوا باً کہہ رہے ہیں کہ فروغ نسیم نے جو تردید کی ہے کہ وہ ماسٹر مائنڈ نہیں ہیں، قابل قبول ہے کیونکہ وہ صاحب مائنڈ تو ہو سکتے ہیں ماسٹر ہرگز نہیں ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خود محترم قاضی عیسٰی کو اس ریفرنس کے بارے میں مکمل طور پر معلومات نہیں ہیں، ان کو پہلی مرتبہ میڈیا لیکس کے ذریعے پتہ چلا جس پر انہوں نے صدر مملکت کو چھٹی بھیجی کہ میڈیا میں ان کے بارے میں سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس کا بیانیہ ہو رہا ہے جو کردارکشی کے مترادف ہے۔ ان کو ایسے مبینہ ریفرنس کی نقول فراہم کی جائیں کہ ان کے بارے میں کیا ریفرنس ہے، ابھی تک صدر مملکت کی جانب سے کوئی جواب نہیں مل پایا ہے تاہم ریفرنس کے بارے میں یہ اطلاعات ہیںکہ وہ داخل کونسل کر دیا گیا ہے اور اس کی ابتدائی سماعت کے سلسلے میں اٹارنی جنرل سے چودہ جون کو جواب مانگا گیا ہے، قاضی عیسیٰ کیخلاف کیوں ریفرنس تیار کیا گیا اس بارے میں کئی ابہام ہیں اور زیادہ تر اس کو ان کے بے باک فیصلوں کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ خاص طور پر فیض آباد دھرنے کا نوٹس لینے اور وہاں ہونے والے واقعات کے بارے میں عدالتی فیصلے کو پیش نظر رکھا جا رہا ہے۔ ریفرنس کے بارے میں اطلاعات موصول ہوئے ہیں، وکلاء برادری میں ایک ہلچل پیدا ہوئی ہے اور اب یہ سرگرمی بھی نظر آرہی ہے کہ وکلاء برادری میں زکی وذکی الطبع منصف حمایت توڑ دی جائے اس تمام کے باوجود بات اپنی جگہ قائم ہے کہ اس کارکردگی کی پشت بانی کس کی ہے۔ بہرحال منتخب اور غیرمنتخب نمائندوں کی حکومت کے فیصلوں کی بناء پر یہ اندازہ ہو رہا ہے کہ عید کے بعد ملک میں سیاسی طور پر اور غیر سیاسی طور پر خوب گرماگرمی رہے گی اور ویسے بھی ہاڑ کا مہینہ ہے جس میں آسمان بھی آگ برساتا ہے، قاضی فائز عیسیٰ محض ایک معزز جج ہی نہیں ہیں ایک تاریخ بھی ہیں، انہوں نے نہ صرف بے باکانہ فیصلے دیئے جو خود بولتے ہیں کہ وہ فیصلے ہیں، لیکن اس کے علاوہ وہ پاکستان کی تخلیق کا اہم کردار بھی ہیں۔ قاضی فائز عیسیٰ کے والد محترم قائداعظم کے قریبی ساتھی ہی نہیں ان کے جدوجہد پاکستان میں ہم رکاب بھی تھے اور قاضی فائز اپنے والد کے اس تحریک میں ہم قدم رہے، قاضی عیسٰی کی کاوشوں سے خان قلات نے ریاست قلات کو پاکستان میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ایسے حالات میں فواد چودھری کا درد بھرا شکوہ وزن رکھتا ہے کہ فیصلے منتخب لوگوں کو کرنے چاہئیں ناکہ غیرمنتخب افراد کو، ان کا یہ بھی ایک الزام ہی ہے کہ غیر منتخب لوگوں کی وجہ سے وزارتیں تبدیل ہوئیں ہیں۔ اپنے انٹرویو میں وزیر موصوف نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا پارٹی ان لوگوں کے حوالے کردیں جو کونسلر بھی نہیں رہے۔ گویا چودھری صاحب بھی اس نظرئیے پر پہنچ گئے ہیں کہ ووٹ کو عزت دی جائے۔

متعلقہ خبریں