Daily Mashriq


پاک فوج سے سیکھئے

پاک فوج سے سیکھئے

اصغرخان کیس ہو، یا بینظیر قتل کیس ہو یا پھر ماڈل ٹاؤن کیس، یعنی کوئی بھی مقدمہ ہو، اگر وہ ہماری سول عدالتوں کا منہ دیکھ لے تو پھر اس کی قسمت میں لٹکتے چلے جانا لکھ دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ان عدالتوں میں اٹھارہ لاکھ سے زائد مقدمات اپنے فیصلوں کی راہ دیکھ رہے ہیں۔ مگر اب ذرا پاک فوج کی قابلِ رشک عدالتوں کی کارکردگی ملاحظہ ہو کہ فوج کے افسران چاہے کسی بھی رینک کے ہوں وہ بھی احتساب کے دائرے میں یکساں شامل ہیں۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی سربراہی میں قومی سلامتی کے ضامن ادارے کی اسی پالیسی پر عمل پیرا ہونے کا ایک بڑا ثبوت سامنے آیا ہے جس کے تحت جاسوسی کے مرتکب اعلیٰ افسران کو سزائے موت اور قید بامشقت کی سخت سزائیں سنائی گئی ہیں۔ سزا پانے والوں میں لیفٹیننٹ جنرل (ر) جاوید اقبال، جنرل (ر) راجہ رضوان اور حساس ادارے کا ملازم ڈاکٹر وسیم شامل ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل (ر) جاوید اقبال کو 14سال قید بامشقت جبکہ بریگیڈیئر (ر) راجہ رضوان اور حساس ادارے کے ملازم ڈاکٹر وسیم اکرم کو سزائے موت سنائی گئی ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق سزا پانے والے افراد پر جاسوسی، ملک کیساتھ غداری، حساس راز ومعلومات غیرملکی ایجنسیوں پر افشا کرنا اور قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کا الزام ثابت ہوا ہے اور ان افسران کیخلاف الگ الگ کیسز میں پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کیا گیا ہے۔ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کی گئی اس اہم خبر پر ملکی معاملات پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ احتساب وہی ہے جو نظر آئے، جو کہا گیا وہ کر دکھایا گیا۔حال ہی میں شمالی وزیرستان کے علاقہ خرقمر چیک پوسٹ پر ایک مسلح گروہ نے حملہ کر دیا جس سے 5اہلکار زخمی ہوگئے جبکہ جوابی فائرنگ سے 3حملہ آور ہلاک اور 10زخمی ہوئے۔ امید ر کھنی چاہئے کہ فوج اس کیس کو بلاوجہ لمبا لٹکنے نہیں دے گی۔ فوج کے محکمۂ تعلقات عامہ کے ڈی جی میجر جنرل آصف غفور کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ گروہ کے حملے کا مقصد دہشتگردوں کے مشتبہ سہولت کار کو چھڑوانے کیلئے دباؤ ڈالنا تھا۔ حملے کے دوران جوانوں نے اشتعال انگیزی کے سامنے انتہائی صبر وتحمل کا مظاہرہ کیا۔ رکن قومی اسمبلی علی وزیر کو 8ساتھیوں سمیت حراست میں لے لیا گیا جبکہ بعد میں رکن قومی اسمبلی، محسن داوڑ کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ زخمیوں کو طبی امداد کیلئے آرمی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ قبائلی علاقوں میں بعض شرپسندوں کی جانب سے سیکورٹی چیک پوسٹ پر حملے کا قابل مذمت واقعہ پہلی بار رونما ہوا ہے۔ اس واقعے کے پس منظر میں کارفرما قوتوں اور ماسٹر مائنڈ تک پہنچنا ناگزیر ہو چکا ہے تاکہ آئندہ ایسے شرانگیز واقعات کا اعادہ نہ ہو سکے ۔ ملنے والی اطلاعات کے مطابق کچھ مقامی قوتیں بیرونی آشیرباد پر ملکی سلامتی اور بقا کیلئے مسائل پیدا کررہی ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پی ٹی ایم کے معصوم کارکنوں کو احتیاط کی ضرورت ہے۔ چند افراد مذموم مقاصد کیلئے انہیں اکسا کر ریاستی اداروں کیخلاف استعمال کررہے ہیں۔ بہادر قبائلیوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔ دہائیوں پر مشتمل قومی جدوجہد کے ثمرات ضائع کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ پی ٹی ایم کے سپورٹرز اور ورکرز کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے۔ تا ہم پچھلے دنوں قبائلی عوام کے حقوق کیلئے مثبت پیش رفت کا آغاز ہوا۔ قبائلی عوام کو قربانیوں کے ثمرات ملنے کا وقت آیا تھا لیکن کچھ لوگ بین الاقوامی قوتوں کے آلہ کار بن گئے، ریاست کیخلاف مسلسل پروپیگنڈا کرکے لوگوں کو گمراہ کیا جارہا تھا، ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث افراد کو چھڑانے کی کوشش کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ قبائلی عوام ملک کی تعمیر وترقی میں ہر اول دستہ بنیں گے۔ عوام ان گروہوں سے لاتعلقی کا اظہار کرکے پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے اور حکومت کا ایکشن آئین اور قانون کے مطابق ہوگا۔ ان سرحدی علاقوں میں چند شرپسند عناصر کی جانب سے ریاست کیخلاف پراپیگنڈے کی خبریں ایک عرصے سے آرہی تھیں جس کا ذکر کچھ عرصہ قبل ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے بھی کیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ برائی کو شروع میں ہی دبا دیا جائے تو اسے پنپنے کا موقع نہیں ملتا، اگر اس سے صرف نظر کیا جائے تو برائی اس قدر طاقتور ہوجاتی ہے کہ نیکی کی قوتوں کی بقا خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ شمالی وزیرستان میں آپریشن کرکے دہشتگرد قوتوں کا خاتمہ کردیا گیا مگر وطن دشمن بیرونی قوتیں یہاں کچھ مقامی عناصر کی مدد سے حقوق کی آڑ میں وہی نظریاتی جنگ لڑ رہی ہیں جو مشرقی پاکستان میں لڑی گئی۔ وطن دشمن قوتیں جان چکی ہیں کہ وہ پاکستانی قوم کو میدان جنگ میں شکست نہیں دے سکتیں، اسے کمزور کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ حقوق اور نظریات کی بنا پر پھوٹ ڈال کر قوم کو تقسیم کیا اور ریاست کیخلاف اُبھارا جائے۔ ان قوتوں کو شکست دینے کیلئے مقامی علماء، اکابرین اور دانشور حلقوں کے تعاون سے بڑے محتاط انداز میں عسکری کارروائیوں کیساتھ ساتھ نظریاتی محاذ پر بھی آپریشن کی ضرورت ہے۔ عوام کو بنیادی ضروریات مہیا کرنا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ جب عوام کو ان کے حقوق نہیں ملتے تو شرپسند عناصر اس سے فائدہ اٹھانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ مختصر یہ کہ جہاں فوج اپنی بساط سے بڑھ کر اپنی ذمہ داریاں نہایت احسن طریقے سے نبھا رہی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں لے لینا چاہئے کہ سول حکومت سب کچھ فوج پہ چھوڑ کر خود بری الذمہ ہو جائے۔

متعلقہ خبریں