Daily Mashriq

پاک بھارت تعلقات کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟

پاک بھارت تعلقات کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟

وزیراعظم عمران خان نے نریندر مودی کو انتخابی کامیابی اور دوسری بار وزیراعظم بننے پر مبارکباد کا ٹیلی فون کیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق دونوں کے درمیان پندرہ منٹ تک گفتگو ہوئی اور وزیراعظم عمران خان نے نریندر مودی سے دونوں ملکوں کے عوام کی فلاح اور بھلائی کیلئے مل جل کر کام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ عمران خان کے خیالات اور خواہشات کے جواب میں نریندر مودی نے کیا کہا؟ اس کی تفصیل سامنے نہیں آئی۔ ظاہر ہے رسمی کال کے جواب میں رسمی طور پر نریندر مودی نے بھی انہی جذبات واحساسات کا اظہار کیا ہوگا۔ بھارتی انتخابات سے پہلے ہی عمران خان نے اس امید کا اظہار کیا تھا کہ نریندر مودی کی کامیابی کی صورت میں بھارت کیساتھ معاملات طے کرنا آسان ہو ں گے۔ اس جملے اور خواہش کا ایک پس منظر بھی تھا، جس طرح عمران خان اور ملک کی ہیئت مقتدرہ کو اس وقت ایک پیج پر سمجھا جا رہا ہے اور یہ ایک واضح حقیقت بھی ہے۔ اس طرح نریندر مودی بھارت کے مذہبی عناصر اور قوم پرستوں اور اسی ناتے فوجی اسٹیبلشمنٹ کے پسندیدہ اور حمایت یافتہ ہیں۔ کانگریس کا حال اس لحاظ سے اچھا نہیں رہا، بالخصوص سونیا گاندھی کے کانگریس کی باگیں سنبھالنے کے بعد اس جماعت کی جھجک اور کمزوری میں اضافہ ہوگیا کیونکہ بھارتی انتہا پسند انہیں اب بھی ایک اطالوی اور غیر ہندوستان اور غیر ہندو خاتون ہی سمجھتے ہیں اور اس طرح وہ یہ تاثر دینے میں کامیاب رہے ہیں کہ بھارت کے مقدر کا مالک ومختار ایک غیرملکی خاتون کو نہیں بنایا جا سکتا۔ جب سے سونیا گاندھی اپنی کرسی راہول گاندھی کیلئے خالی کرکے تھوڑا پس منظر میں چلی گئی ہیں تو یہ غیرملکی کی پھبتی کسے جانے کا سلسلہ بھی کم ہوگیا ہے مگر اس حوالے سے ایک سخت گیر مائنڈ سیٹ وجود میں آچکا ہے۔ نریندر مودی کسی جھجک، غداری، سودے بازی کے الزام کے خوف سے بے نیاز ہو کر ’’بڑا فیصلہ‘‘ کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔ یہی سہولت اٹل بہاری واجپائی کو بھی حاصل تھی اور اسی سہولت کا فائدہ اُٹھا کر واجپائی نے چند قدم آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اب نریندر مودی انتخابی ضرورتوں سے فارغ ہو چکے ہیں اور اب انہیں اپنی دوسری بار کی کامیابی کو بامعنی بنانا ہے۔ عمران خان نے ٹیلی فون کرکے نریندر مودی کی طرف ایک سکہ اُچھال دیا ہے۔ گزشتہ دنوں وسط ایشیائی ریاست کرغزستان کے دارالحکومت میں منعقد ہونے والی شنگھائی ملکوں کی کانفرنس کے موقع پر پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج کے درمیان مختصر سی ملاقات، تصویر بنوانے اور چند ہلکے پھلکے جملوں کے تبادلے کی رپورٹ سامنے آئی ہے۔ تصویر میں دونوں وزرائے خارجہ ایک ساتھ بیٹھے ہیں اور یوں لگ رہا تھا کہ یہ تصویر برف پگھلنے کا تاثر دینے کی ضرورت کے تحت ہی بنوائی گئی تھی۔ ہلکے پھلکے جملوں کی تفصیل کے مطابق سشما سوراج نے شاہ محمود قریشی کو کہا تھا کہ اکثر آپ کڑوی باتیں کر جاتے ہیں اس لئے مٹھائی لائی ہوں تاکہ آپ میٹھی باتیں کریں۔ شاہ محمود قریشی نے بھارت کے روئیے میں مثبت تبدیلی کی امید کا اظہار کیا تو سشما سوراج نے کہا کہ ہم آپ سے اور آپ سے ہم بہتر روئیے کی امید رکھیں۔ رکن ممالک کے گروپ فوٹو بنوانے کے دوران سشما سوراج نے شاہ محمود قریشی کیساتھ کھڑا ہونے کی کوشش کی جس پر روسی وزیر خارجہ نے انہیں اس جگہ سے ہٹایا اور خود کھڑے ہوئے۔ پاکستان اور بھارت کے وزرائے خارجہ کے درمیان یہ ایک رسمی سی ملاقات اور فوٹو سیشن تھا جس کے پیچھے شنگھائی ملکوں کا دباؤ اور ترغیب بھی ہو سکتا ہے۔ سشما سوراج پاکستان اور بھارت کے درمیان شدید تناؤ میں تھوڑی کمی کر چکی تھیں کہ نریندر مودی نے نئی کابینہ میں ان کی جگہ بھارت کے سابق سفیر اور سابق سیکرٹری خارجہ ایس جے شنکر کو وزیر خارجہ بنا دیا۔ جے شنکر ایک کیریئر ڈپلومیٹ کے طور پر بھارت کی سخت گیر لابی کے پسندیدہ بتائے جاتے ہیں۔ چین کیساتھ بیلٹ اینڈ روڈ کی مخاصمت کے سفارتی حکمت کاروں میں شمار کئے جاتے ہیں۔ چینی قیادت کی کوشش اور خواہش یہی ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان موجود ڈیڈلاک ختم ہو جائے اور معاملات بہتری کی سمت میں چلنا شروع کر دیں۔ بالاکوٹ حملے کے بعد پاکستان نے بھارتی پروازوں کیلئے اپنی فضائی حدود بند کر دی تھی۔ اس وجہ سے پوری دنیا کی پروازیں متاثر ہو رہی تھیں۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان اب معاملات کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا مگر نریندر مودی کی دوبارہ جیت کے بعد غیریقینی اور خوف کے بادل گہرے ہوئے جا رہے ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان خوشگوار تعلقات کا لٹمس ٹیسٹ کشمیر ہے۔ جب تک کشمیر کی زمین پر مظالم کم نہیں ہوتے اور دونوں فریق کشمیر کی مرکزیت کے حامل مذاکرات شروع نہیں کرتے، مٹھائیوں کے تبادلے خیرسگالی کی ٹیلی فون اور پُرمزاح جملے امن کی تصویر میں حقیقت کا رنگ نہیں بھر سکیں گے۔ حریت کانفرنس کے سربراہ میرواعظ عمر فاروق نے اپنے روایتی مرکزجامع مسجد سری نگر میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نریندر مودی کے بھرپور مینڈیٹ کا تقاضا یہ ہے کہ وہ عمران خان کیساتھ ملکر آگے بڑھیں اور خدارا مسئلہ کشمیر کو حل کریں جس طرح مودی نے ایک سخت گیر کیریئر ڈپلومیٹ اور اپنی سفارت کاری کے حکمت کار جے شنکر کو وزیر خارجہ بنایا اسی طرح انہوں نے اپنی انتخابی اور فتوحات کے حکمت کار امیت شاہ کو وزارت داخلہ کا قلمدان سونپ دیا۔ امیت شاہ کی سوچ کا اندازہ راہول گاندھی کے بارے میں دئیے جانے والے ان ریمارکس سے ہوتا ہے کہ راہول کو سبز وائرس لاحق ہو گیا ہے۔ یہ راہول گاندھی کے مسلمانوں کی جانب جھکاؤ پر طنز کا ایک گہرا نشتر تھا۔

متعلقہ خبریں