Daily Mashriq


خاص ہے ترکیب میں۔۔۔

خاص ہے ترکیب میں۔۔۔

علامہ محمد اقبالؒ نے امت مسلمہ کے حوالے سے جو فرمایا تھا کہ ’’خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی‘‘ اس کا مطلب ومعنی بہت وسیع اور چودہ صدیوں پر محیط تھا اور اس کے باوجود کہ اس وقت امت بے چاری کہیں نظر ہی نہیں آرہی‘ پھر بھی کبھی کوئی نہ کوئی ایسی چنگاری چمک اٹھتی ہے کہ اقبال کے شیدائیوں کو امت اور اس کے حوالے سے آپ کے ملفوظات یاد آجاتے ہیں۔ لیکن اکثر اوقات تو پوری امت مسلمہ یعنی عالم اسلام کے معاملات وحالات دیکھتے ہوئے علامہ اقبال کے افکار بانداز دگر سامنے آجاتے ہیں۔

علامہ نے قوم رسول ہاشمیؐ کی ترکیب خاص کا جو نسخہ قوم کو دیا تھا وہ تو یہ تھا کہ سارے جہاں کی دیگر اقوام کے مقابلے میں اس کے عقائد‘ عبادات اور معاملات الگ نوعیت کے ہیں۔ لہٰذا اے مسلم حکمرانو! اپنی قوم یعنی امت مسلمہ کے معاملات سنبھالتے نمٹاتے مغربی اقوام پر قیاس نہ کیا کریں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ بیسویں صدی میں موجودہ عالم اسلام کی جو نئی تشکیل سامنے آئی اس میں سب سے بڑی خرابی یہی مضمر رہی کہ نہ ہمارے ہاں مغرب کی جمہوریت اور علوم وفنون پروان چڑھ سکے اور نہ ہی اپنی خاص ترکیب کے مطابق آگے بڑھ سکے۔ نتیجہ اس کا یوں سامنے آیا کہ آج امت مسلمہ کا کوئی ملک ایسا نہیں جہاں ایک نظام ہو اور وہاں کے عوام کسی نہ کسی حد تک مطمئن زندگی گزار رہے ہوں جس طرح مغرب (یورپ) کے اکثر ممالک میں ہوتا ہے۔ مسلمانوں کے ہاں گزشتہ ایک صدی سے کوئی ایسی حکومت نہ بن سکی جس کو صحیح معنوں میں عوام کی تائید‘ محبت اور پذیرائی حاصل ہو۔ مشرق وسطیٰ کے اہم عرب ممالک کے حالات پر نظر ڈالئے۔ مصر میں کنگ فاروق کے جانے کے بعد جنرل نجیب سے ہوتے ہوئے جمال عبدالناصر اور اخوان المسلمون کے درمیان نظریاتی وسیاسی اختلافات کے سبب جو نقصان ہوا اس کا سلسلہ جنرل سیسی اور محمد مرسی کی صورت میں اب بھی جاری ہے۔ شام‘ لیبیا‘ عراق‘ یمن جس طرح برباد ہوئے اور ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔ ان ملکوں میں خواتین‘ بچوں اور بوڑھوں کے حوالے سے جو المیے وقوع پذیر ہوئے انہیں سن پڑھ کرکہنا پڑتا ہے کہ واقعی ہماری ’’ترکیب خاص‘‘ ہے۔ افغانستان میں گزشتہ نصف بلکہ پوری صدی سے گریٹ گیم جاری ہے اور قوم ہاشمی کبھی اس کا حصہ بن جاتی ہے‘ کبھی استعمال ہو جاتی ہے اور کبھی تماشا دیکھ رہی ہوتی ہے۔ افغانستان کے پہلو میں دو اہم اسلامی ملک پاکستان اور ایران ہیں۔ دونوں کے درمیان کبھی بھی ایسے برادر ملکوں کے تعلقات استوار نہ ہوسکے کہ وہ کم ازکم تعلیم وثقافت اور تجارت ومعیشت میں ایک دوسرے کے پشتیبان بن سکیں۔ اس طرح سعودی عرب اور ایران میں صدیوں سے ایسی رقابت چلی آرہی ہے جس نے پوری امت کو متاثر کیا ہے۔ ان دو ملکوں کے درمیان مخاصمانہ تعلقات سے امت کے دشمن خوب خوب ناجائز فائدے اٹھاتے رہے ہیں۔

مملکت خداداد تو اس وقت جن مشکلات کا سامنا کر رہا ہے وہ شاید1971ء کے بعد کے سخت ترین حالات ہیں۔ ایک طرف وطن عزیز پیچیدہ سودی قرضوں میں جکڑا ہوا ہے دوسری طرف اپوزیشن کی دو بڑی سیاسی جماعتیں بیس بیس سال حکمرانی کے سبب کرپشن اور منی لانڈرنگ کے الزامات کے سبب نیب میں پیشیاں بھگت کر حکومت کو سخت ترین دھمکیاں دے رہی ہیں۔ تیسری طرف دہشتگردی کیخلاف جنگ اور بھارت میں مودی جیسے متعصب حکومت کا سامنا ہے اور ان سب پر مستزاد تازہ سانحہ پی ٹی ایم کا ہے۔ یہ واقعہ اتنا پیچیدہ ہے کہ ایک طرف حکومت وقت ہے دوسری طرف پی ٹی ایم جو اپنے دو منتخب ایم این ایز کا سہارا لیکر جامے اور آپے سے باہر ہو رہی ہے اور تیسری طرف ستم ظریفی ملاحظہ کیجئے کہ دو اہم اپوزیشن جماعتوں کی نوجوان قیادت ایک سانس میں پی ٹی ایم کیساتھ ہے اور دوسری سانس میں پاک افواج اور شہداء اور زخمیوں کی تعزیت وتیمارداری کا دم بھرتی ہے‘ گویا

ہر عہد میں یزید کے ساتھی ہوگئے

اور نام بھی ادب سے لیا ہے حسینؓ کا

حالانکہ اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ سینئر وبزرگ سیاسی شخصیات‘ علماء اور دانشور قرآن کریم کی رو سے مومنوں کے درمیان جھگڑے واختلافات کی صورت میں عدل وانصاف کیساتھ صلح کروا لیں۔ ہم میں سے کچھ لوگ تو ایسے بھی ہونے ضروری ہیں جو سیاسیات‘ دنیاوی مفادات‘ فرقہ ونظریہ اور تعصبات سے بالاتر ہو کر صرف اور صرف اسلام اور پاکستان اور عالم اسلام کے تحفظ اور ترقی کی بات کریں۔

لیکن شاید یہ بہت اونچی باتیں ہیں اور ہم یعنی امت مسلمہ اس وقت شدید قحط الرجال کے شکار ہیں۔ عیدلفطر کی آمد آمد ہے جو خوشیوں کا باعث ہے لیکن قوم رسول ہاشمیؐ کا تماشا دیکھتے جائیے کہ اس وقت سائنس وٹیکنالوجی کے وزیر‘ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین اور مفتی پوپلزئی کے درمیان ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم کے مصداق بنی ہوئی ہے۔ اللہ ہم سب پر رحم فرمائے۔ آمین

متعلقہ خبریں