Daily Mashriq

قصہ ایک افطار پارٹی کا

قصہ ایک افطار پارٹی کا

کل ہمیں ایک افطارپارٹی میں شرکت کا موقع ملا، زمینی نشست تھی، ایک درمیانے سائز کے کمرے میں دس بارہ لوگ بیٹھے ایک دوسرے سے تبادلۂ خیال کر رہے تھے، ایسے موقعوں پر ہم زبان سے زیادہ کانوں سے کام لیتے ہیں، اس سے ایک تو علم میں اضافہ ہوتا ہے کوئی پڑھا لکھا شخص کسی خاص موضوع پر لب کشائی کر رہا ہوتا ہے تو بہت سی نئی باتیں سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ دوسرا یہ کہ دوسروں کی غلطیوں سے سیکھنے کا خوب موقع ملتا ہے۔ کھانا بڑا پُرتکلف تھا، صاحب خانہ نے بڑا اہتمام کیا تھا، سب نے خوب پیٹ بھر کر کھایا۔ ایک صاحب نے کولڈ ڈرنک پینے سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ میرا پرہیز ہے میں صرف ٹھنڈا پانی پیوں گا، پھر کھانے کے بعد سویٹ ڈش کی باری آئی تو انہوں نے وہ بھی نہیں لی، تو ان سے ایک صاحب کہنے لگے کہ آپ میٹھا کیوں نہیں کھاتے وہ مسکرا کر چپ ہوگئے کیونکہ وہ پہلے ایک مرتبہ کہہ چکے تھے کہ ان کا میٹھے سے پرہیز ہے، تھوڑی دیر بعد میٹھا قہوہ آیا تو انہوں نے وہ بھی نہیں پیا، وہ صاحب پھر کہنے لگے جناب آپ نے پیپسی بھی نہیں پی، سویٹ ڈش بھی نہیں لی اور اب قہوے سے بھی پرہیز ہے آپ کو شوگر تو نہیں ہے؟ کیا آپ نے شوگر کا ٹیسٹ کروایا ہے؟ ہم دل میں سوچ رہے تھے کہ اگر انہوں نے ہر میٹھی چیز کھانے سے پرہیز کیا ہے تو یقینا انہیں شوگر کا مسئلہ لاحق ہوا ہوگا اب انہیں بار بار یہ کہہ کر احساس کمتری میں مبتلا کرنا ضروری ہے کہ جناب آپ کو شوگر جیسا مہلک مرض لاحق ہوگیا ہے، ذاتی سوالات پوچھنا بڑی معیوب بات ہے لیکن وہ صاحب اس سے بے خبر تھے، ابھی ہم انہی خیالات میں غلطاں تھے کہ اس صاحب نے ایک اور پھلجھڑی چھوڑتے ہوئے کہا کہ شوگر کی بیماری ٹینشن سے ہو جاتی ہے۔ شوگر کے بیمار نے ان کی طرف بیچارگی سے دیکھتے ہوئے کہا، جناب بلڈپریشر بھی تو ٹینشن سے ہی ہوتا ہے بلکہ ہر بیماری کے پیچھے اسی ٹینشن کا ہاتھ ہوتا ہے اور آج کل ٹینشن کسے نہیں ہے، روزبروز بڑھتی ہوئی مہنگائی، امن وامان کی مخدوش صورتحال، اگرچہ رمضان المبارک میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ کم کردیا گیا ہے مگر یہ اپنی جھلکیاں تو دکھاتی رہتی ہے اس کی وجہ سے مشینیں بند ہوجاتی ہیں۔ ایک صاحب کہنے لگے کہ جناب گھر میں داخل ہوتے وقت بندہ اطلاعی گھنٹی پر انگلی رکھتا ہے تو اسے دروازہ کھلتا ہے اور پھر گھر میں داخل ہونے کے بعد وہ کونسا کام ہے جو بغیر بجلی کے ممکن ہے،، کمپیوٹر اسی وقت آن ہوگا جب بجلی ہوگی، کپڑے استری کرنے ہیں تو بجلی کی ضرورت ہے، کپڑے دھونے ہیں تو کپڑوں کی مشین بجلی سے چلتی ہے، اوون میں کوئی چیز گرم کریں تو بجلی کی ضرورت ہے غرضیکہ کونسا ایسا کام ہے جو بجلی کے بغیر ہوتا ہو اور بجلی ہے کہ بے وفا محبوب کی طرح ہر وقت داغ مفارقت دے جاتی ہے۔ کبھی کبھی یہ خیال بھی آتا ہے کہ کہیں عوام کی توجہ دوسرے مسائل سے ہٹانے کیلئے ان کیساتھ لوڈشیڈنگ لوڈشیڈنگ تو نہیں کھیلی جارہی؟ بجلی کی کمی کی وجہ سے ہمارے کارخانے رکے ہوئے ہیں اور ہماری معیشت کو اربوں روپے روز کا نقصان ہو رہا ہے۔ سرمایہ کار سرمایہ کاری کریں تو کیسے؟ وہ اپنا سرمایہ لگانے سے پہلے ایک ہزار پہلوؤں پر غور کرتے ہیں تب کہیں جا کر سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ امن وامان کی مخدوش صورتحال کے پیش نظر بھی ہماری تجارت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔ مقامات آہ وفغاں تو بے شمار ہیں کوئی کس کس دکھ کو روئے جو آج وطن عزیز میں زندگی کی گاڑی کھینچ رہا ہے اور وہ قومی یا صوبائی اسمبلی کا رکن بھی نہیں ہے، ایک آدھ کارخانے کا مالک بھی نہیں ہے، صاحب جائیداد بھی نہیں ہے یعنی کرائے کے گھر میں رہتا ہے، کھاتا پیتا خوشحال تاجر بھی نہیں ہے بڑے گریڈ کا سرکاری افسر بھی نہیں ہے، سیاستدانوں کیساتھ کسی بھی قسم کا کوئی تعلق نہیں رکھتا کہ ان سے پارٹی کے نام پر چھوٹے موٹے فوائد حاصل کرتا تو پھر ایسے شخص کی ہمارے معاشرے میں خوب مٹی پلید ہوتی ہے۔ اسے ہم انتہائی آسان الفاظ میں سفید پوش آدمی کہہ سکتے ہیں۔ ہم واپس اسی محفل میں جانا چاہتے ہیں لیکن قلم بار بار بہک جاتا ہے۔ کھانے کے بعد گپ شپ کا دور چلتا ہے حالات حاضرہ کے حوالے سے بات چیت کی جاتی ہے۔ ہم کھانے سے فارغ ہوئے تو ادھر ادھر کی باتیں ہونے لگیں گفتگو کا سب سے اچھا طریقہ تو یہی ہے کہ اپنی بھی کہئے اور دوسروں کی بھی سنئے۔ ہم نے ایک صاحب کو دیکھا کہ ان کا کوئی گھر بند نہیں تھا وہ ہر موضوع پر بلا تکان بولتے چلے جاتے۔ اگر کوئی صاحب ہمت کر کے بات شروع کرتا بھی تو یہ ایک لمحے میں اس کے منہ کی بات اچک کر پھر شروع ہوجاتے وہ ساری محفل کو بور کر رہے تھے لیکن حرام ہے جو انہیں اس بات کا ذرا سا بھی احساس ہو، ہم سے ایک دو مرتبہ تیزی سے بدلتے ہوئے حالات کے بارے میں پوچھا گیا، ایک صاحب بی آر ٹی کے حوالے سے کچھ کہنا چاہتے تھے لیکن اس باتونی شخص کی موجودی میں وہاں کسی کیلئے بھی بات کرنا ممکن نہیں تھا، ہماری زنبیل میں بھی چند اہم خبریں تھیں لیکن ہم نے خاموشی ہی میں عافیت سمجھی۔ آج کل ٹاک شوز کا زمانہ ہے لوگ ٹاک شوز دیکھ دیکھ کر سیاستدان بنتے جارہے ہیں، وطن عزیز میں جو سیاست کا حال ہے اس سے سب واقف ہیں، بریکنگ نیوز کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے، معلومات کا سیلاب ہے جو سب کو سیراب کر رہا ہے! گھر واپس لوٹتے وقت ہم سوچ رہے تھے کہ ہم سب کو کیسے اُلجھا دیا گیا ہے ایک نہ ختم ہونے والا پتلی تماشا ہے، ناچتی گاتی پتلیاں تو سب کو نظر آرہی ہیں لیکن جس ہاتھ میں ان پتلیوں کی ڈور ہے وہ سب کی نگاہوں سے اوجھل ہے!

متعلقہ خبریں