Daily Mashriq

لاہور ہائی کورٹ نے نیب کو 11 جون تک حمزہ شہباز کی گرفتاری سے روک دیا

لاہور ہائی کورٹ نے نیب کو 11 جون تک حمزہ شہباز کی گرفتاری سے روک دیا

لاہور ہائی کورٹ نے قومی احتساب بیورو (نیب) کو پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے نائب صدر حمزہ شہباز کو 11 جون تک گرفتاری سے روک دیا۔

جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے حمزہ شہباز کی عبوری ضمانتوں میں توسیع سے متعلق درخواست کی سماعت کی۔

واضح رہے کہ رواں برس 18 فروری کو نیب نے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز کے خلاف رمضان شوگر ملز کیس میں نیا ریفرنس دائر کیا تھا۔

سماعت کے دوران اپنے دلائل دیتے ہوئے حمزہ شہباز کے وکیل نے کہا کہ نیب نے حمزہ شہباز کو 3 کیسز میں کال اپ نوٹس جاری کیے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ کیا حمزہ شہباز عدالت میں موجود ہیں، جس پر ان کے وکیل نے نشاندہی کی کہ حمزہ شہباز روسٹرم پر موجود ہیں۔

حمزہ شہباز کے وکیل نے بتایا کہ عدالت نے نیب کو حکم دیا تھا کہ وہ گرفتاری سے 10 روز قبل انہیں آگاہ کرے۔

جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دیے کہ یہ عدالتیں سب کے لیے بنی ہیں تاکہ عوام کو ریلیف دیا سکے، کیس کو ملتوی نہیں کیا جائے گا جو بھی فیصلہ ہوگا آج ہی قانون کے مطابق ہوگا۔

عدالت نے نیب کی ٹیم کی تیاری مکمل نہ ہونے پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ اگر آج کیس شروع کریں تو ایسا نہ ہو کہ یہ مکمل ہی نہ ہو۔

نیب کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ رمضان شوگر ملز کیس میں ملزم حمزہ شہباز کے وارنٹ گرفتاری جاری نہیں ہوئے، جس پر جسٹس مظاہر علی اکبر نے ریمارکس دیے کہ ملزم کا جو ریکارڈ ہے اس کے مطابق آج ہی فیصلہ ہوگا۔

حمزہ شہباز کے وکیل نے عدالت سے درخواست کی کہ کیس کی سماعت کو عید الفطر کی چھٹیوں کے بعد مقرر کردیا جائے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ حمزہ شہباز عام آدمی کی طرح تفتیش میں شامل کیوں نہیں ہوتے جس پر ان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل تواتر کے ساتھ تفتیش میں شامل ہورہے ہیں۔

عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد حمزہ شہباز کی عبوری ضمانتوں میں 11 جون تک کی توسیع کرتے ہوئے نیب کو انہیں گرفتاری سے روک دیا۔

نیب حکام نے 5 اپریل کو آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس اور منی لانڈرنگ میں حمزہ شہباز کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مارا تاہم ان کے حامیوں نے زبردست مزاحمت دکھائی جس کی وجہ سے گرفتاری عمل میں نہیں آسکی.

اسی حوالے سے نیب کی ٹیم 6 اپریل کو ایک مرتبہ پھر حمزہ شہباز کی گرفتاری کے لیے لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں ان کے گھر پہنچی جہاں انہوں نے گھر کا 4 گھنٹوں تک محاصرہ کیا ، تاہم گرفتاری کیے بغیر واپس روانہ ہوگئی.

پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر نے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور عبوری ضمانت کی درخواست دی سے جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے نیب کو گرفتاری سے روک دیا.

متعلقہ خبریں