Daily Mashriq

امریکا، ایران سے غیر مشروط مذاکرات کے لیے تیار ہے، پومپیو

امریکا، ایران سے غیر مشروط مذاکرات کے لیے تیار ہے، پومپیو

امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو کا کہنا ہے کہ کشیدگی میں کمی لانے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ ایران سے غیر مشروط بات چیت کے لیے تیار ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے پی کی رپورٹ کے مطابق مائیک پومپیو کا کہنا ہے کہ 'اس کے باوجود امریکا ایران کے مشرق وسطیٰ میں رویے پر دباؤ میں کمی نہیں کرے گا'۔

مائیک پومپیو نے امریکا کی جانب سے ایران پر لگائے گئے الزامات کو دہرایا اور کہا کہ ایران خطے کو غیر مستحکم کرنا چاہتا ہے تاہم انہوں نے بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے امکانات ظاہر کیے ہیں۔

مائیک پومپیو نے سوئٹزرلینڈ کے دورے کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 'ہم بات چیت کے لیے تیار ہیں تاہم یہ غیر مشروط ہونی چاہیے، ہم ان کے ساتھ بیٹھنے کو تیار ہیں لیکن ایران اور اس کی پاسداران انقلاب فورسز کے غلط اقدامات کے خلاف امریکا اپنی کوششوں سے پیچھے نہیں ہٹے گا'۔

دورے کے دوران مائیک پومپیو کی سوئٹزرلینڈ کے وزیر خارجہ اگنازیو کاسس سے ملاقات میں ایران کے ساتھ جاری کشیدگی بھی زیر بحث آئی۔

واضح رہے کہ سوئٹزرلینڈ اس سے قبل بھی دونوں ممالک میں کشیدگی میں کمی لانے کے لیے کردار ادا کرچکا ہے۔

اگنازیو کاسس کا کہنا تھا کہ 'صورتحال بہت خراب ہے، ہم سب کچھ جانتے ہیں، دونوں ممالک کو ہر بات کا علم ہے، سوئٹزرلینڈ کی خواہش ہے کہ کشیدگی میں کمی ہو، دونوں جانب سے دباؤ میں اضافہ ہورہا ہے اور حالات قابل فکر ہیں تاہم ہم اس وقت تک کچھ نہیں کرسکتے جب تک ہمیں دونوں جانب سے کہا نہ جائے'۔

ان کا کہنا تھا کہ سوئٹزرلینڈ ثالثی کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے تاہم سمجھوتہ کرانے کے لیے تیار نہیں اور اس کے لیے دونوں جانب سے اجازت درکار ہوگی'۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ کے آغاز میں امریکا نے ایران پر اسٹیل اور کان کنی کی صنعت پر پابندی عائد کردی تھی۔

مذکورہ پابندی کے نتیجے میں ایران سے لوہا، اسٹیل، المونیم اور تانبا خریدنے یا تجارت کرنے والے کو بھی سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اس سے قبل وائٹ ہاؤس نے تمام ممالک پر ایران سے تیل خریدنے پر پابندی عائد کی تھی جو اس کی آمدن کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔

امریکا کی جانب سے پابندی کا فیصلہ ایسا وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران نے جوہری معاہدے کے بعض نکات پر حاصل تجارتی استثنیٰ میں توسیع نہ کرنے پر 60 دن کی مہلت دی تھی۔

ایران نے کہا تھا کہ اگر معاہدے کے دیگر فریق ممالک (جرمنی، برطانیہ، روس، چین اور فرانس) جوہری معاہدے پر جاری بحران ختم کرانے میں ناکام ہوتے ہیں تو وہ یورینیم کی افزودگی دوبارہ شروع کردے گا۔

جس پر معاہدے کے تمام فریقین نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران جوہری معاہدے کی پاسداری جاری رکھے۔

جرمن چانسلر کے ترجمان اسٹیفن سیبارٹ نے کہا تھا کہ ’ہم بطور یورپی، جرمن ہونے کے ناطے مکمل طور پر اپنا کردار ادا کریں گے اور ایران سے بھی مکمل عملدرآمد کی توقع کریں گے‘۔

واضح رہے کہ عالمی عدالت کی جانب سے امریکا کو ایران پر عائد اقتصادی پابندیاں ختم کرنے کا حکم سامنے آنے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ نے تہران کے ساتھ 1955 کا معاہدہ منسوخ کردیا تھا۔

ایران کے ساتھ معاہدہ سابق صدر براک اوباما کے دور میں کیا گیا تھا تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار میں آنے کے بعد مئی 2018 میں خود کو اس ڈیل سے علیحدہ کرلیا تھا۔

متعلقہ خبریں