ہمارے ہاتھوں جانور بھی محفوظ نہیں رہے

ہمارے ہاتھوں جانور بھی محفوظ نہیں رہے

پشاور میں چڑیا گھر کے افتتاح کے دن سے لے کر تاایندم بد نظمی‘ صفائی‘ نظم و ضبط اور خاص طور پر جانوروں کے تحفظ سے متعلق اقدامات نہ ہونے کی شکایات عام تھیں۔ نادیدہ لوگوں کے ہاتھوں زچ شیر اور ریچھ جیسے جانوروں کے دن کے اوقات میں غار میں چھپے بیٹھنے کی کہانی بھی اخبارات کی زینت بن چکی ہے۔ ان جانوروں کے زخمی ہونے‘ سانپوں کے حفاظتی شیشے کو توڑے جانے کے باعث ان کے کھلے عام پھرنے کی بھی اطلاعات تھیں۔ معلوم نہیں وہاں اور کیا کچھ ہوتا ہوگا۔ محولہ صورتحال سے اس امر کا اندازہ لگانا چنداں مشکل امر نہ تھا کہ چڑیا گھر کا نظام درہم برہم اور غیر محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ جن بندگان خدا سے جنگل کے جانور بھی محفوظ نہ ہوں وہاں اولاً چڑیا گھر کے قیام کی بجائے حوالات اور جیلخانہ جات کی تعداد بڑھانے کی ضرورت تھی لیکن اگر چڑیا گھر بنا ہی دیاگیا تھا تو پہلے ہی دن آنے والوں کی حرکتوں کو دیکھتے ہوئے جانوروں کی حفاظت کا پورا بندوبست کرنے پر توجہ دی جانی چاہئے تھی اور جانوروں کو ہراساں کرنے والوں کے خلاف موقع پر کارروائی ہونی چاہئے تھی جس کی متعلقہ انتظامیہ کی جانب سے ضرورت محسوس نہ ہونے کا ہی نتیجہ جانوروں کے زخمی ہونے ‘ بیمار ہونے ‘ ماحول سے اکتا جانے اور مر جانے کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ چڑیا گھر کی انتظامیہ ازروئے ضابطہ اس معاملے کو متعلقہ کنٹریکٹر پر تو ڈال سکتی ہے لیکن دوسری جانب خود اس نے اپنی ذمہ داری کس حد تک نبھائی اگر انصاف سے کام لیا جائے تو پھر ہرن کی موت کی ذمہ داری جانوروں کے تحفظ میں ناکام ہونے والوں پر ڈال دینی چاہئے۔ ہماری تجویز ہوگی کہ بے زبان جانوروں پر رحم کھا کر چڑیا گھر کو فوری طور پر بند کرکے اولاً جانوروں کا تحفظ یقینی بنایا جائے ان کا علاج معالجہ کیا جائے ان کے لئے ماحول کو ساز گار بنا دیا جائے۔ اس کے بعد ان کے تحفظ کے پورے انتظامات کے بعد چڑیا گھر کو کھول دیا جائے۔ سی سی ٹی وی کیمرے لگا کر شرپسندوں کا تعین کیا جائے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ چڑیا گھر میں چوکیداروں کے ساتھ ساتھ پولیس اہلکار بھی تعینات کئے جائیں۔
ہر مسئلے کا حل قانون سازی نہیں
خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے صوبے میں وال چاکنگ سے متعلق قانون کی تیاری سرکاری و نجی عمارتوں کی دیواروں پر بغیر اجازت لکھنے پر پابندی عائد کرنے کا اقدام بہت پہلے ہونا چاہئے تھا ۔ اسے بد قسمتی ہی کہا جانا چاہئے کہ ہمارے معاشرے میں ایسے معاملات کے حوالے سے بھی قانون سازی کرنا اور جرم و سزا دینا مجبوری بن گئی ہے جن کی سرے سے ضرورت نہیں ہونی چاہئے۔ ہمارے تئیں اخلاقیات اور تہذیب کے تقاضے پورے کئے جاتے تو اس کی ضرورت نہ پڑتی لیکن بہر حال ایسا نہ ہونے کے باعث قانون کا سہارا لینا مجبوری ہی کہلائے گی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس وقت بھی کسی کی دیوار خراب کرنے مخر ب اخلاق قسم کے اشتہارات لکھنے پر کارروائی کی ممانعت نہیں علاوہ ازیں اس طرح کے اشتہارات سے دیواروں کو صاف کرنے کے لئے کسی مسودہ قانون کی ضرورت نہیں ایسا کرنے کے لئے متعلقہ عملے سے کام لینا بھی ضروری نہیں بلکہ اس قسم کی چاکنگ کرنے والوں اور کروانے والوں سے ہی یہ کام بخوبی لیا جاسکتا ہے اور ایسے ہی کیا جانا چاہئے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ حکام کو نوشتہ دیوار کی بھی اطلاع دینے کے لئے عوام کو انعام دینے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔ بہتر ہوگا کہ قانون سازی ہی پر اکتفا کرنے کی روش پر نظر ثانی کی جائے۔

اداریہ