تربت مادر گرامی پر حاضری

تربت مادر گرامی پر حاضری

غیر حاضریاں کچھ زیادہ ہوگئیں۔ رزق سے بندھی ہجرتوں کا بوجھ اٹھائے آدمی کو جنم شہر سے بلاوے اور غمی و خوشی کی خبر پر سفر کرنا پڑتا ہے۔ پچھلے چند دن اپنے جنم شہر ملتان میں بسر کئے۔ برادر عزیز بیماری دل کے باعث ہسپتال پہنچ چکے تھے۔ چند مصروفیات اور بھی تھیں لکھنے کے لئے وقت نکالنے کے ارادے بنتے ٹوٹتے رہے۔ زندہ آدمی کے یہی مسائل ہیں۔ بھاگم بھاگ قسم کی مصروفیات کے دوران ارد گرد کے حالات اور خبروں سے فاصلے پر رہنا مجبوری ہوئی۔ پھر سے معمولات کا آغاز اس تحریر سے شروع‘ آدمی بھی کیسی بے اختیاری کا شکار رہتا ہے۔ پچھلے پندرہ سال میں جب بھی جنم شہر میں جانا ہوتا ہے واپسی کے سفر سے پہلے اپنی والدہ حضور کی تربت پر حاضری لازمی دیتا ہوں۔ مجھے یقین سا ہے کہ ماں قبر میں بھی ہو تو اولاد کو خالی ہاتھ و جھولی رخصت نہیں کرتی۔ ماں کی قبر تو اولاد کے دل میں ہوتی ہے۔ تربت تو بس ظاہری قیام کا ایک مقام ہے۔ یہاں بھی سانس پھسل رہے ہیں زندگی کی بند مٹھی سے۔ کس پہر بلا وا آجائے اور رخصتی‘ کسے خبر ہے۔ ادارے‘ خواہشیں‘ سامان سب دھرا رہ جائے گا۔ ہمیشہ رہنے کے لئے یہاں کون آیا ہے۔ ہر ذی نفس کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ یہی قانون قدرت ہے۔ انکار کی تاب ہے نہ مجال۔ جنم شہر کی مٹی سے بچھڑتے ہوئے آنکھوں میں اترنے والی نمی ہمیشہ چھپانے کی کوشش کرتا ہوں لیکن پھر بھی اس شہر میں تربت مادر گرامی وہ واحد جگہ ہے جہاں پھوٹ پھوٹ کر رو لیتا ہوں۔ حال دل بیان کرتا ہوں اور زمانے سے ملے رنج ممتا کے گوش گزار بھی۔ اماں حضور اپنے وقت کی بڑی عالمہ تھیں۔ کوئی پچپن چھپن برس ادھر بھولپن والے بچپن میں ان کے چند وعظ سنے تھے وہ اپنی تقریر کے اختتام پر دعا کرواتے ہوئے کہا کرتی تھیں ’’ میرے مالک جو ہم سے ناراض ہیں یا جن سے ہم ناراض ہوں سب کا شرم پردہ قائم رکھ‘ سب کی اولادوں کو اپنی رحمت و کرم کے سائے میں رکھ‘‘ بعد کے برسوں میں بہت سوچتا تھا کہ اماں یہ دعا کیوں مانگتی ہیں۔ یاد پڑتا ہے کہ ایک بار ان کی خدمت میں اس بارے سوال بھی کیا تھا۔ دست شفقت اور پھر پیشانی پر بوسہ دیتے ہوئے بولیں میرے لعل جب صاحب اولاد ہو جائو گے تو اس ماں کی دعا کا بھید پالوگے۔
اماں حضور کی تربت رزق سے بندھی ہجرتوں کا بوجھ اٹھائے اس مسافر بیٹے کے لئے دنیا کا وہ واحد مقام ہے جہاں بلا خوف و خطر سب کچھ کہہ ڈالتا ہوں۔ اماں جب زندہ تھیں تو ان کی گود میں سر رکھ کر زمانے کی شکایات کا دفتر کھول دیتا تھا اب ان کی تربت پر آنسوئوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے سارے رنج و الم بیان کر دیتا ہوں۔ اس بار بھی ہمیشہ کی طرح شکایات کا دفتر کھو ل لیا۔ مسافر بیٹے کی باتیں ختم ہوئیں تو یوں لگا جیسے اماں کہہ رہی ہوں میرے لعل اپنی فہم کے ساتھ جینے کا حق تو ادا کرنا پڑتا ہے۔ ماں صدقے جائے بس دھیان رکھنا تمہاری وجہ سے حضور اکرمؐ کے دربار میں ہم شرمندہ نہ ہوں۔ بہت عجیب لگتا ہے اپنے جنم شہر میں مسافروں کی طرح قیام کرنا رب کسی کو ایسے دن نہ دکھائے۔ والدین کی دنیا سے رخصتی پر بند ہوئے دروازے کب کھلتے ہیں۔ بہن بھائیوں دوستوں اور عزیزوں سے بھرے جنم شہر میں ماں کی ذات کے بنا کیسی ویرانی دکھتی ہے۔ مائیں بھی کیا نعمت ہیں‘ زندہ ہوں تو دست دعا اولاد کے لئے بلند ہی رہتے ہیں جہان فانی سے چلی بھی جائیں تو ان کی دعائوں کی ڈھال اولادوں کی حفاظت کرتی ہے۔ جب کبھی تربت مادر گرامی کا بوسہ لینے اور شکایات کا دفتر کھولنے کے لئے حاضری دیتا ہوں بے اختیار پنجابی کے صوفی شاعر شاہ حسینؒ کی یادیں دستک دینے لگتی ہیں۔ شاہ حسینؒ نے ہی تو کہا تھا ’’ مائے نی میں کینوں آکھاں درد و چھوڑے دا حال نی‘‘۔ اماں میں تجھ بن کس سے کہوں ان رنج و الم بارے جو زمانے نے مجھے دئیے؟۔
معلوم تاریخ پانچ سے چھ ہزار سال قدیم ملتان کے ذرہ ذرہ سے اس مسافر کو محبت ہے۔ اسی شہر میں شاہ شمسؒ‘ شاہ رکن عالمؒ‘ سیدی یوسف شاہ گردیزؒ‘ بہاء الحق زکریا ملتانیؒ‘ حضرت موسیٰ پاک شہیدؒ سمیت سینکڑوں اولیائے کرامؒ میٹھی نیند سو رہے ہیں۔ سفر حیات کے انگنت دوست مٹی کی چادر اوڑھے آرام کر رہے ہیں پر ان سب کی یادوں پر ماں کی یادیں اور باتیں حاوی ہیں۔ ماں جیسی ہستی اور نعمت دوسری کہاں۔ اس شہر میں جب کوئی سر راہ چلتے ہوئے روک کر دریافت کرتا ہے۔ آپ بی بی جی کے بیٹے ہیں ناں؟ تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔ نصف صدی کم تو نہیں ہوتی قرآن و حدیث کا وعظ کرنے کے لئے۔ خواتین کے اجتماعات میں وعظ کا سلسلہ نانی اماں نے شروع کیا تھا پھر خالہ اماں اور اماں جان نے اسے جاری رکھا اب بھی ہمشیرگان یہ حق ادا کرتی ہیں۔ لگ بھگ ڈیڑھ سو سال ہو چلا درس و تدریس کے اس سلسلے کو۔اماں اپنی سفید پوشی میں بھی غریب پرور تھیں گھر میں جو پکا وہ اہل خانہ سے پہلے محلہ کے مستحق گھروں میں ضرور پہنچا۔ اپنے بچپن میں میں نے انہیں ہمیشہ مصلے پر ہی بیٹھا دیکھا ان کا تخت پوش اور مصلہ اس وقت خالی ہوتے جب وہ کہیں وعظ کرنے گئی ہوتیں۔ گھر میں ہوتیں تو تخت پوش پر بچھے مصلے (جائے نماز) پر فروکش رہتیں۔ ان کی نیاز مند خواتین سارا دن اپنے مسئلے بیان کرتی دعائیں لیتیں۔ ڈیڑھ عشرہ ہوگیا انہیں دنیائے سرائے سے رخصت ہوئے مگر ملتانیوں کے خاندان انہیں اب بھی عقیدت و احترام سے یاد کرتے ہیں۔ ان کی تربت پر ہمیشہ ہی فاتحہ خوانی کے لئے کوئی نہ کوئی موجود ہوتا ہے۔ اماں جب زندہ تھیں تو رخصت کرتے ہوئے کہا کرتی تھیں‘ میرے لعل تجھے سیدہ پاک بتول سلام اللہ علیہا کے بابا جان حضرت محمدؐ کی امان میں دیا۔ اب بھی جب کبھی ان کی تربت پر حاضری دے کر اجازت طلب کرتا ہوں تو مجھے یہی لگتا ہے کہ وہ کہہ رہی ہیں جا میرے لعل مدنی آقاؐ کی امان میں دیا۔ سچ یہ ہے کہ اولاد کے لئے رحمت ہی رحمت ہوتی ہے ماں کی ذات۔ ابدی سچائی یہ ہے کہ ماں جیسا نہ کوئی ہوا‘ مائے نی میں کینوں اکھاں درد و چھوڑے دل حال۔