مسلمان حکمرانوں کی بے حسی

مسلمان حکمرانوں کی بے حسی

ملک شام کی سرحدیں پانچ ممالک عراق، اسرائیل، اُردن، لبنان اور ترکی سے ملتی ہیں۔ شام کی اہمیت صرف قدرتی وسائل کی وجہ سے نہیں بلکہ جُغرافیائی محل وقوع بھی بڑا عنصر ہے۔ اس کی سر حدیں تیل پیدا کرنے والے خلیجی ممالک کے علاوہ بر اعظم افریقہ کے ساتھ بھی ملتی ہیں۔ اگر ہم شام کی موجودہ صورتحال پر غور کریں تو شام میں اندرونی دہشت گردوںکے ساتھ 8 بین الاقوامی کردار اور ادا کا ر بھی شامل ہیں جو شام میں حالات کو مزید سنگین بنا رہے ہیں۔ ان کرداروں میں امریکہ، روس، ایران، سعودی عرب،قطر، تُرکی ، فرانس اور بر طانیہ شامل ہیں۔ بد قسمتی سے اس لڑائی میں اب تک 5 لاکھ لوگ ما رے گئے ، ، لاکھوں زخمی ہوئے ، 12 ملین لوگ اپنے گھروں سے بے دخل ہوچکے ہیں۔ جب 2011 میں تیو نس اور مصر میں اس وقت کی حکومتوں کے خلاف امریکہ اور یو رپی ممالک کے ایماء پر اٹھائی گئی بغا وتیں عرب سپرنگ کی شکل میں کامیابی سے ہم کنار ہوئیں تو شامی عوام میں بھی مطلق العنانی سے نجات حاصل کرنے کی خاطر جمہوریت کے لئے میدان میں کود پڑے ۔ مسلمان ممالک میں نا اہل حکمرانوں اور نا قص حکمرانی کی وجہ سے بے روز گاری ، بد عنوانی، غربت‘ ریاستی بد عنوانی ، سیاسی اظہار رائے پر پا بندی اور ریا ستی جبر و تشدد کا بازار گرم رہتاہے ۔ انکے اندرو نی مسائل اور اختلافات سے فائدہ اُٹھا کر امریکہ اور اتحادی ان ممالک کے لوگوں کوحکومتوں اور حکمرانوں کے خلاف بھڑ کاتے ہیں ۔ شام میں اس قسم کی صورت حال سے فائدہ اُٹھاکر امریکہ اور اتحادی ممالک و ہاں مزید افرا تفری پیدا کرکے کسی نہ کسی طریقے سے حکومت ، حکومتی اداروں اور قدرتی وسائل پر قبضہ کرکے اپنی مرضی کی حکومت قائم کرنے کی سازشوں میں مصروف ہیں۔ شام کی جنگ میں اندرونی اور بیرونی دونوں عنا صر کار فرما ہیں۔ جہاں تک اس جنگ میں امریکہ کا تعلق ہے تو شام کی جنگ میں وہ اتحادیوں کی سرپرستی کر رہا ہے ۔ یہی اتحادی، آئی ایس یعنی اسلامی ریاست نامی ایک تنظیم کے خلاف بر سر پیکار ہیں۔ اسلامی ریاست نامی تنظیم2014ء میں ایک بین الاقوامی جہاد کی شکل میں اُس وقت معروض وجود میں آئی۔ جب اس نے شام اور عراق کے ایک بڑے علاقے پر قبضہ کیا ۔بڑے پیمانے پر لوگوں کو بے دردی سے قتل کیا ۔ اسلامی ریاست کے اس گروہ نے دنیا کے تمام مسلمانوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس کے قائد ابو بکر کی بیعت کریں۔ ۔ امریکہ اور اتحادیوں نے اسلامی ریاست کے جنگجوں کے خلاف بے شمار ہوائی حملے کئے ہیں ۔ امریکہ شام میں روشن خیال با غیوں کو بشار الاسد حکومت کو گرانے کے لئے تربیت بھی دے رہا ہے۔ جہاں تک روس کا تعلق ہے وہ اسد حکومت کی حمایت میں اسلامک سٹیٹ کے مو رچوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔تجزیہ نگا روں کا خیال ہے کہ روس شام میں دوست اور دشمن کی تمیز کئے بغیرلوگوں کو ما ر ہا ہے۔روس نے چین کی مدد سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک قرارداد کو ویٹو کیا جس میں شام پر پابندیوں کا مطالبہ کیا گیا تھا۔امریکہ بشا ر الاسد کو شام کی تمام مشکلات کا ذمہ دار سمجھتا ہے۔جہاں تک ایران کا تعلق ہے تو ایران شام میں بشار الاسد اور شیعہ فرقہ کی حمایت کرتا ہے۔ایران شام کی بشارا لاسد حکومت اور اس کو فنڈز ، اسلحہ اور دوسری قسم کی بھرپور امداد دے رہا ہے۔جب شام میں اسد حکومت کی باگ ڈور کمزور ہو گئی تو ایران نے لبنان سے حزب اللہ گروہ کو شام میں بشارالاسد کی مدد کے لئے بھیجا۔ایران نے شام میں اپنا فوجی ایڈ وائزر بھی بھیجا ۔ ایران کا مقصد شیعہ کاز کی حمایت کرنا ہے۔جہاں تک سعودی عرب کا تعلق ہے تو سعودی عرب شا م میں امریکہ کی شامی حکومت اور اسد کے خلاف کارروائی سے خوش نہیں اور سعودی عرب شام میں سُنی مسلک کے لوگوں کی بھر پور امداد کر رہاہے۔سعودی عرب ایران کو اس جنگ کی سب سے بڑی وجہ سمجھتا ہے۔ جہاں تک قطر کا تعلق ہے توقطر سعودی عرب کی طرح شام کے با غیوں کو امداد دے رہا ہے۔ مگر اس شش و پنج میں ہے کہ کس گروہ کی مالی اور فوجی مدد کی جائے۔قطر نے اُن تمام افواہوں کو رد کیا جس میں کہا گیا تھا کہ قطر القاعدہ کی مدد کر رہا ہے ۔ قطر کے بارے میں یہ بھی رائے ہے کہ یہ شام کے ایک ایسے گروہ کی مدد کر رہا ہے جو اسلامی ریاست بنانے کے لئے کو شاں ہے۔جہاں تک تُرکی کا تعلق ہے تُرکی امریکہ کی سربراہی میں اسلامی ریاست بنانے والے گروہ کے خلاف کارروائی کو اچھا نہیں سمجھتا۔تُرکی نے امریکی اتحادی فوج کے جہازوں کو بیس دینے اور شام کے خلاف کارروائی کرنے سے انکار کیا۔اس وقت تُرکی ائیر فورس نے کُر دوں کے خلاف کا رروائی کی۔ جہاں تک فرانس کا تعلق ہے توفرانس پہلا یو رپی ملک تھا جس نے عراق میں اسلامی ریاست یعنی آ ئی ایس کے خلاف ہوائی حملے کئے۔جہاں تک بر طانیہ کا تعلق ہے تو بر طانیہ کی پارلیمنٹ شام کے خلاف فوجی کار روائی سے منع کیا مگر عراق میں آئی ایس کو نشانہ بنانے کی ہدایت کی۔مگر بعد میں برطانیہ نے شام میں ڈرون حملے کئے جس میں شام کے دو با شندے ہلاک ہوئے۔ شام میں امن کے لئے مذاکرات کے دور جون 2012 میں ، 2017 میں اور آخرمیں 2018 میں ہوئے۔مسلمانوں کی آپس میں چپقلش نا چاقی ،جدید علوم میں پسماندگی سے فائدہ اُٹھا کر امریکہ اور اتحادی مسلمانوں کے خلاف بر سر پیکار ہیں۔ بد قسمتی سے مسلمان ممالک ایک دوسرے کو کمزور کرنے کیلئے ایک دوسرے کے خلاف مشت و گریبان ہیں۔خواہ مسلمان ہو ںیا غیر مسلم ، سب نے شام کو ایک مقتل بنا یا ہوا ہے۔ افسوس اور ندامت کا مقام ہے کہ مسلمان نا اہل حکمران عیاشیوں میں ڈوبے ہوئے ہیں اور وہاں شامی بچوں اور عورتوں پر ظلم ہو رہا ہے۔

اداریہ