مشرقیات

مشرقیات

اورنگزیب عالمگیرؒ کے زمانے میں ایک وقت ایسا آیا کہ علمائے دین کی بے وقعتی بڑھ گئی۔ اسلام نے امیر المومنین کا یہ کام قرار دیا ہے کہ وہ خود مسجد میں امامت کا فریضہ انجام دے۔ اس کا لازمی یہ نتیجہ ہوتا تھا کہ جب امیر المومنین مسجد میں آئیں گے تو امرا اور حکام بھی مسجد میں حاضر ہوں گے کیونکہ انہیں تو بادشاہ کی رضا مندی مقصود ہوتی ہے۔
اورنگزیب عالمگیرؒ چونکہ خود عالم تھے اور علم کی عظمت و محبت دل میں تھی اس لئے جب انہیں معلوم ہوا کہ اہل علم کی قدر و قیمت ختم ہورہی ہے تو انہوں نے اس کے لئے جو حکمت عملی اختیار کی وہ بہت عجیب تھی۔ مسجد میں امیر المومنین کی حاضری سے صرف وہی حکام مسجد میں آتے ہیں جو اس شہر‘ بلکہ اس علاقے میں موجود ہیں لیکن وہ امرا‘ جاگیر دار اور اہل منصب جو ملک کے دوسرے علاقوں میں رہتے ہیں ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا اس لئے عالمگیرؒ نے بہت سوچ سمجھ کر یہ طریقہ اختیار کیا کہ بجائے یہ حکم جاری کرنے کے کہ تمام لوگ علماء کی قدر کریں۔ حکم دیا کہ فلاں نواب جو دکن کے امیر ہیں ان سے کہا جائے کہ وہ ہمیں وضو کرائیں۔ یہ حکم والئی دکن کو ملا تو وہ بہت خوش ہوئے کہ انہیں بادشاہ نے بڑی عزت دی۔وہ وہاں وقت پر پہنچے چنانچہ وضو کا لوٹا لا کر وضو کرانا شروع کیا۔ عالمگیرؒ نے پوچھا: وضو میں میں فرض کتنے ہیں؟ انہوں نے کبھی یہ جاننے کی کوشش کی ہوتی تو جواب دیتے۔ وہ حیران تھے کہ کیا جواب دیں؟ پھر پوچھا: وضو کے واجبات کتنے ہیں؟ کچھ پتہ نہیں۔ پوچھا: سنتیں کتنی ہیں؟ جواب ندارد۔ عالمگیرؒ نے کہا: بڑے افسوس کی بات ہے کہ تم لاکھوں انسانوں کی رعیت کے حاکم ہو اور مسلمان ہو اور تمہیں وضو کے فرائض وغیرہ معلوم نہیں۔ شرم آنی چاہئے۔ آئندہ میں تمہیں ایسی حالت میں نہ دیکھوں۔
رمضان کا مہینہ تھا۔ ایک دسرے امیر کو اپنے ساتھ افطار کی دعوت دی۔ اس دن ان امیر صاحب کا روزہ نہیں تھا۔ عالمگیرؒ نے پوچھا: (مفسدات صوم( جن سے روزہ فاسد ہوتا ہے) کتنے ہیں؟ انہیں بھی کچھ پتہ نہیں تھا۔ کیا جواب دیتے؟ عالمگیرؒ نے ان امیر صاحب کی بھی خبر لی کہ تم امیر اور والئی ملک ہو‘ مسلمان ہو‘ لاکھوں آدمی تمہارے حکم پر چلتے ہیں۔ بڑی بے حسی کی بات ہے کہ تمہیں اتنا بھی پتہ نہیں کہ روزہ کن چیزوں سے فاسدہوتا ہے۔
غرض روزانہ کسی امیر اور والئی ملک کو بلاتے‘ کسی سے زکواۃ کا نصاب پوچھتے‘ کسی سے اس کے مصارف‘ کسی سے حج کے افعال اور مناسک معلوم کرتے اور کوتاہی پر سب کی خبر لی جاتی۔ یہ امرا واپس ہوئے تو اب انہیں مسائل معلوم کرنے کے لئے علماء کی تلاش ہوئی اور ان سے درخواست کی کہ ہمیں دین کا علم سکھانے کے لئے معلم کی ملازمت اختیار کریں۔ اس طرح معاشرے میں علماء کی قدر‘ وقعت میں بہت اضافہ ہوا۔
(خطبات حکیم الاسلام‘ ج 4 ص87)

اداریہ