سینیٹ انتخابات:قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں پولنگ کا عمل جاری

سینیٹ انتخابات:قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں پولنگ کا عمل جاری

ویب ڈیسک:سینیٹ میں ملک کے چاروں صوبوں، فاٹا اور وفاقی دارالحکومت کی 52 نشستوں پر پولنگ کا آغاز ہوگیا ہے جس کے لیے 131 امیدوار میدان میں ہیں۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ شیڈول کے مطابق قومی اسمبلی اور ملک کی چاروں اسمبلیوں میں سینیٹ کی 52 نشستوں پر پولنگ کا عمل جاری ہے۔ اراکین شام 4 بجے تک ووٹ ڈال سکیں گے۔ الیکشن کمیشن کے انتخابی عملے نے پارلیمنٹ ہاؤس میں قائم پولنگ اسٹیشن کا کنٹرول سنبھالاہوا ہے۔

سینیٹ انتخابات میں چاروں صوبوں کی 7، 7 جنرل نشستوں پر امیدواروں کا انتخاب کیا جارہا ہے، اسی طرح ہر صوبے سے خواتین اور ٹیکنوکریٹس کی 2، 2 نشستوں پر امیدواروں کا چناؤ ہورہاہے، سینیٹ میں اقلیتوں کی 2، فاٹا کی 4 اور اسلام آباد کی 2 نشستوں کے لئے بھی مختلف جماعتوں کے امیدوار آمنے سامنے ہیں، اسلام آباد کی ایک نشست جنرل اور دوسری ٹیکنوکریٹ کے لئے مختص ہے، متعلقہ اسمبلی کے ممبران ترجیحی بنیادوں پر خفیہ رائے شماری دیں گے جس امیدوار کو زیادہ ترجیحی ووٹ ملیں گے وہی سینیٹر بنےگا۔

بلوچستان میں جنرل نشست پر سینیٹر کے انتخاب کے لئے 9 جب کہ ٹیکنوکریٹ اور خاتون نشست کے لئے 33، 33 ووٹ درکار ہوں گے۔ خیبرپختونخوا سے جنرل نشست پر سینیٹر بننے کے لئے اٹھارہ ووٹ درکار ہوں گے، ٹیکنو کریٹ اور خاتون کی مخصوص سیٹ کے لیے 62، 62 ووٹوں کی ضرورت ہو گی۔ سندھ سے جنرل نشست کے لیے 24 جب کہ ٹیکنوکریٹ اور خاتون کی نشست کے لئے 84، 84 ووٹ درکار ہوں گے۔ 

پنجاب سے ایک جنرل نشست کے لئے 53 ووٹ ڈالے جائیں گے، خاتون اور ٹیکنوکریٹ کی نشست کیلئے امیدواروں کو 186، 186 ووٹوں کی ضرورت پڑے گی۔ فاٹا کی چار نشستوں کے لئے قومی اسمبلی میں موجود 11 ارکان ووٹ دیں گے، ہر رکن  چار امیدواروں کو ووٹ دے سکے گا، 5 یا اس سے زائد امیدواروں کو ووٹ دینے والے کا ووٹ مسترد کردیا جائے گا۔

دوسری جانب سینیٹ انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن نے ضابطہ اخلاق بھی جاری کررکھاہے، جس کے تحت قومی و صوبائی اسمبلی کے اراکین کو اسمبلی سیکرٹریٹ کا کارڈ ساتھ لانا ضروری ہے، پولنگ کے دوران پولنگ اسٹیشن کے باہر رینجرز اور ایف سی تعینات کی گئی ہے۔ تمام ووٹرایک ہی راستے سے پولنگ اسٹیشن جائیں گے اورکسی کے لیے کوئی خاص راستہ مختص نہیں ۔ پولنگ اسٹیشن میں موبائل فون لانے پرمکمل پابندی ہے، بیلٹ پیپر اورووٹ کی رازداری کو یقینی بنانا لازمی ہے، بیلٹ پیپرپولنگ اسٹیشن سے باہرلے جانے پرمکمل پابندی ہے، بیلٹ پیپرکو خراب کرنے، جعلی بیلٹ پیپراستعمال کرنے کیخلاف کارروائی کی جائے گی۔

ضابطہ اخلاق کے مطابق پولنگ کے دوران ریٹرننگ افسرکو مجسٹریٹ درجہ اول کے تحت اختیارات حاصل ہیں، کسی بھی قسم کی بے قاعدگی یا بدنظمی پرآراوانتخابی عمل معطل کرسکتے ہیں، ریٹرننگ افسرکو سمری ٹرائل کرکے فوری سزا سنانے کا حق حاصل ہے، وہ غیرمتعلقہ شخص کو بیلٹ پیپردینے پر فوری سزا سنا سکتاہے، اس کے علاوہ ریٹرننگ افسرکو بیلٹ پیپر منسوخ کرنے کا اختیار بھی حاصل ہے۔ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پرایک لاکھ روپے تک جرمانہ اور6 ماہ سے 2 سال تک قید کی سزا بھی ہوسکتی ہے، الیکشن کمیشن مجازہے کہ جرمانہ اور قید کی سزا ایک ساتھ سنا سکے۔

متعلقہ خبریں