Daily Mashriq

ایف بی آر اہلکاروں کی تعیناتی بلاجواز یا درست

ایف بی آر اہلکاروں کی تعیناتی بلاجواز یا درست

پشاور کے بڑے بڑے سٹوروں اور کاروباری مراکز میں ایف بی آر کے ٹیموں کی تعیناتی میں عدم اعتماد کا پہلو تو بہرحال نکلتا ہے لیکن ایف بی آر کے اس اقدام کو کسی طور بھی ہراساں کرنے کا اقدام قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر اہلکاروں کی تقرری کے بغیر رضاکارانہ طور پر ٹیکس کی ادائیگی ہو جائے تو نہ صرف معترضین کا اعتراض دور ہوگا بلکہ ایف بی آر کو عملہ رکھ کر ان کی تنخواہوں کی ادائیگی کا بار بھی نہیں اُٹھانا پڑے گا۔ بلاشبہ رکھوالی کرکے ٹیکس وصولی کوئی احسن طریقہ نہیں، مہذب دنیا میں اس کی مخالفت کرنا غلط نہیں لیکن دوسر ی جانب اگر ہم میں سے ہر کوئی اپنے اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھے تو کوئی بھی رضاکارانہ طور پر اور قومی جذبے کے تحت ٹیکس ادائیگی پر تیار نہیں ہوتا۔ جن سٹوروں پر عملہ تعینات کیا گیا ہے ان کی ملی بھگت کے امکانات بھی ناممکن نہیں، گویا سارا معاملہ ہی دیانتداری اور بددیانتی کا ہے۔ بددیانتی ہمارے معاشرے کا وہ ناسور بن گیا ہے جو ملک کو گھن کی طرح چاٹ رہی ہے۔ ہمارے ادارے کمزور ہو رہے ہیں، سرکاری خزانے میں خاطرخواہ محصولات نہیں آرہی ہیں۔ جن سٹوروں پر عملہ تعینات کیا گیا ہے مہینے کے آخر میں اس کا ایک تقابلی جائزہ گزشتہ ماہ کے رضاکارانہ ٹیکس ادائیگی سے ہو جائے تو اس امر کا اندازہ ہو جائے گا کہ یہ تجربہ لاحاصل' مہنگا اور بلاجواز تھا یا اس کا کچھ فائدہ بھی ہوا۔ بڑے بڑے سٹورز میں اشیاء کی خرید وفروخت کا الیکٹرانک اندراج ہوتا ہے اور باقاعدہ رسیدیں دی جاتی ہیں۔ اگر اس نظام میں ٹیکس چوری اور چھپانے کی کوشش نہ ہو تو ایف بی آر کے عملے کی تعیناتی کی ضرورت نہیں بہرحال تجرباتی بنیادوں پر ہی سہی نو تعینات اہلکاروں سے تعاون کیا جائے اور مہینے دو مہینے کے اندر اگر دستاویزات اور شواہد کی بنیاد پر جو سٹورز گزشتہ ریکارڈ کے قریب قریب کم وبیش یا کچھ کم ٹیکس کی ادائیگی ثابت کریں تو ان اہلکاروں کو ہٹا دیا جائے اور اگر نمایاں فرق آئے تو پھر ان اہلکاروں کو ہٹانے کے مطالبے کا کوئی جواز نہیں۔

تجاویز نہیں عملدرآمد کی ضرورت

حیات آباد فیز فائیو کیلئے پولیس کی جانب سے سرکاری ملازمین کی رہائش گاہوں کیلئے نئے سیکورٹی پلان کی تشکیل کے مطابق دو نئے چیک پوسٹ بنائے جائیںگے۔ اگرچہ گزشتہ روز کے واقعے میں عدم احتیاط کا بھی عنصر شامل ہے لیکن اگر دیکھا جائے تو باقی واقعات میں ایسا نہیں' عدم احتیاط کا معاملہ اپنی جگہ اتنے حساس علاقے میں اس قسم کی واردات، حملے کے سہولت کاروں کا فرار اور قبل ازیں کے واقعات میں ملوث ملزمان کی عدم گرفتاری جیسے معاملات ایسے نہیں جس سے صرف نظر کیا جاسکے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ صرف سرکاری ملازمین کی کالونی ہی کیلئے سیکورٹی کا خصوصی بندوبست نہیں ہونا چاہئے بلکہ پورے حیات آباد میں سیکورٹی کے انتظامات پر نظرثانی ہونی چاہئے خاص طور حیات آباد میں چار دیواری کے مسمار حصوں کی ازسرنو تعمیر اور ان کی حفاظت کا معقول بندوبست ہونا چاہئے۔ جہاں تک دو سڑکوں کی بندش کا سوال ہے اس کی بالکل گنجائش نہیں بلکہ یہ ہائیکورٹ کے بند سڑکیں کھولنے کے حکم کی بھی خلاف ورزی ہوگی۔ سیکورٹی کیلئے آمد ورفت کو بند کرنے کا طریقۂ کار اختیار کرنا بھونڈا طریقہ ہوگا۔ حملے کی منصوبہ بندی کرنے والے سڑک بند دیکھ کر واپس نہیں جاتے بلکہ اس کے مطابق منصوبہ بندی کرتے ہیں' سڑکوں کی بندش کی بجائے اگر سیکورٹی کے اس مروجہ اصول پر عملدرآمد کیا جائے کہ کسی ایک راستے کو آمد ورفت کیلئے مخصوص کرکے اس پر آنے جانے کو معمول بنانے کی بجائے مختلف راستوں کا استعمال کیا جائے اور ممکن ہو تو آمد ورفت کے وقت میں بھی تبدیلی کی جائے۔ پولیس کے گشت کے علاوہ حیات آباد میں سیکورٹی پر جو اخراجات اٹھتے ہیں اس پر بھی ایک نظر ڈالنے کی ضرورت ہے اور ناکامیوں وخامیوں کا جائزہ لیکر ان کو دور کیا جانا چاہئے۔ علاوہ ازیں حیات آباد میں سیف حیات آباد اور پولیس کے درمیان ہم آہنگی بھی اہم ہے جبکہ معمول کے گشت اور خصوصی گشت پر مامور عملے کو بھی متحرک کرنے کی ضرورت ہے۔ کافی عرصے سے حیات آباد میں این او سی چیک کرنے کا عمل نہیں ہوا اسے انجام دینے میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہئے تاکہ حیات آباد کو محفوظ علاقہ بنایا جاسکے۔

بھینسوں کے باڑے آخر ہٹائے کیوں نہیں جاتے

صوبائی دارالحکومت کے مختلف علاقوں میں بھینسوں کے باڑوں کی موجودگی پر شہریوں کی تشویش بجا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ تحریری وزبانی طور پر متعدد مرتبہ متعلقہ اداروں کو آگاہ کر چکے ہیں مگر متعلقہ حکام سب اچھا ہے کی رپورٹ بھجوا دیتے ہیں۔ توقع کی جانی چاہئے کہ اس دیرینہ مسئلے کو پہلے کی طرح نظرانداز کرنے کی بجائے سنجیدہ اقدامات کے ذریعے بھینس کالونیوں کاخاتمہ کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں