Daily Mashriq

پالیسیوں میں تبدیلی لانے کا وقت

پالیسیوں میں تبدیلی لانے کا وقت

اگرچہ الزامات کی تحقیقات کے بعد کھودا پہاڑ نکلا چوہا والی ضرب المثل صادق آتی ہے اور بھارت خود اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ ان کی جانب سے لگائے گئے الزامات لغو تھے۔ اگر بھارتی الزامات میں حقیقت ہوتی تو بھارت جو لغویات پر آسمان سر پر اُٹھا لیتا ہے نجانے کن کن عالمی فورمز پر وہ اپنے سفارتکاری کے زور پر کیا کیا کر بیٹھتا۔ پلوامہ واقعے پر بھارت کا آسمان سر پر اُٹھانا اُلٹا انہی پر آسمان گرنے کا باعث ثابت ہوا اور آج بھارت جیسا طاقتور اور بڑا ملک اپنے زخم چاٹ رہا ہے۔ یہ بھارت کی جانب سے اپنی فضائیہ کی پوری طرح ناکامی کا عملی اعتراف ہے کہ بھارتی ایئرفورس کے اعلیٰ افسر چندر شیکھرن کو برطرف کر دیا گیا، نجانے درون خانہ کی تلملاہٹ میں اور کیا فیصلے ہوئے ہوں گے۔ ایک فیصلہ بہرحال یقینی لگتا ہے کہ بھارت اب اپنی دفاع پر پہلے سے بہت بڑھ کر اخراجات کرے گا اور خطے میں طاقت کے بگڑتے توازن کا مقابلہ کرنے کیلئے پاکستان پر بھی دباؤ پڑے گا۔ بھارت تو معاشی طور پر اس کا متحمل ہوسکتا ہے لیکن پاکستان اس وقت اپنی دفاع پر جو بجٹ خرچ کر رہا ہے اس سے زیادہ کی ہمارے خزانے میں سکت نہیں۔ پاکستان ایئرفورس کے شاہینوں نے بلاشبہ بساط سے بڑھ کر شوق شہادت سے لیکر جنگی مہارت تک کا بخوبی مظاہرہ کیا ہے اور بھارتی ایئرفورس کو چت کرکے قوم کا سر فخر سے بلند کردیا ہے۔ اس کاری ضرب کے بعد بھارت کی قیادت کو مزید احمقانہ پن سے باز رکھنے کیلئے بھارت کی طرف رخ کئے میزائلوں نے دشمن کو میزائل حملے کے منصوبے پر عملدرآمد کا موقع نہ دیا وگرنہ خدا نخواستہ بھارت نے تو ہمارے نو دس تنصیبات اور شہروں کو اپنے تئیں خطرات سے دوچار کر دیا تھا۔ یہ سارے حالات بھارت کیلئے ایک نیا تجربہ اور جنگی حکمت عملی اور آئندہ کیلئے سبق کا درجہ رکھتے ہیں۔ پاکستان میں سیاسی وعسکری قیادت کا ایک قرطاس پر ہونے اور اعتماد کے باعث بھی مودی کو چھٹی کا دودھ یاد دلانے میں آسانی ہوئی۔ یہ ساری صورتحال اپنی جگہ لیکن دوسری جانب خود پاکستان کیلئے بھی حالیہ وقت سخت اور کٹھن تھا۔ سوال یہ نہیں کہ پاکستان اور بھارت کی عسکری طاقت، جنگی صلاحیت، رقبہ اور معیشت کی کیا صورتحال اور تناسب ہے سوال یہ ہے کہ کیا جنگ میں دونوں ممالک میں سے کسی کی جیت ممکن تھی یقیناً نہیں۔ ہر دو جانب تباہی ہی ہوتی اور چند روز ہی جنگ ہوتی تو اس کے اثرات سے خطہ برصغیر تباہی وبربادی کا نشان بن چکا ہوتا۔ ان حالات کے ادراک کی ضرورت ہے اور اس کے مطابق اپنی اپنی پالیسیوں اور ایک دوسرے سے شکایات والزامات کی وجوہات کا تعین کر کے محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہماری قیادت کو اس امر کا نہ صرف ادراک ہوچکا ہے بلکہ ہم ان الزامات کو دھونے پر بھی آمادہ ہیں جو غلط فہمیوں اور الزام تراشیوں کا باعث بنتے ہیں اور نوبت جنگ وجدل کے دہانے پر کھڑے ہونے کی آتی ہے۔ ہمارے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان غیرریاستی عناصر کو ملک اور خطے کے امن کو خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہیں دے گا اور وہ شدت پسند گروہوں کیخلاف کارروائی کا ارادہ رکھتے ہیں۔ پاکستان کے وزیرخارجہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی حکومت کسی ملیشیا یا کسی جنگجو تنظیم کو ہتھیاروں کے استعمال اور ان کے ذریعے دہشتگردی کے پھیلاؤ کی اجازت نہیں دے گی۔ اگر کوئی گروپ ایسا کرتا ہے تو پاکستان کی حکومت ان کیخلاف کارروائی کا ارادہ رکھتی ہے۔ کشمیر کے علاقے پلوامہ میں دہشتگرد حملے کی ذمہ داری قبول کرنے والی تنظیم جیش محمد کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں وزیر خارجہ شاہ محمود نے کہا کہ ہر معاشرے میں شدت پسند عناصر ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کیا بھارت میں ایسے عناصر نہیں ہیں، گجرات میں جو کچھ ہواوہ کس نے کیا، کس کی ایما پر ہوا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ماضی میں نہیں جانا چاہتا لیکن اگر ماضی میں گئے تو پھر یہ بھی دیکھنا پڑے گا کہ پارلیمنٹ پر حملہ کیسے ہوا، پٹھان کوٹ اور اوڑی میں کیا ہوا، ایک لمبی داستان ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر ہمیں جیش محمد کی شدت پسندانہ کارروائیوں کے بارے میں شواہد دئیے گئے تو کارروائی ہوگی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ شاہ محمود قریشی نے بڑا واضح عندیہ دیا ہے اور یہ وزیراعظم عمران خان کے باربار کے اعلانات اور یقین دہانی کی پوری طرح تشریح ہے کہ پاکستان کی قیادت اب مزید شکوک وشبہات اور الزامات کی زد سے باہر آنا چاہتی ہے اور پاکستان ان عناصر سے خود کو اتنا دور رکھنے کا فیصلہ کرچکی ہے کہ بطور ریاست کوئی پاکستان پر اُنگلیاں نہ اُٹھا سکے۔ شاہ محمود قریشی نے بجاطور اس امر کا حوالہ دیا ہے کہ جن عناصر کی بناء پر پاکستان کو مطعون کیا جاتا ہے اس قسم کے عناصر بھارت سمیت دنیا کے تقریباً تمام ملکوں میں موجود ہیں جس کے باعث غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں اور مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ بہرحال یہ ایک مدبرانہ بیان اور حکومت کا سنجیدہ عندیہ ہے جس سے غلط فہمیوں کا ازالہ اور استحکام امن کی راہیں کھلیں گی۔

متعلقہ خبریں