Daily Mashriq

مودی سے محتاط رہنے کی ضرورت

مودی سے محتاط رہنے کی ضرورت

ابھی نندن' درانداز بھارتی جنگی طیارے کے پائلٹ' کو رہا کر کے بھارت کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ یہ اقدام امن کی خاطر کیا گیا ہے۔ نہ صرف پاکستان اور بھارت میں امن کی خاطر بلکہ عالمی امن کی خاطر کیونکہ پاکستان اور بھارت میں اگر جنگ ہوتی ہے تو یہ محدود نہیں رہ سکتی۔ وزیراعظم عمران خان کے الفاظ کو دہرانے کی ضرورت نہیں کہ جنگ شروع کرنا آسان ہے لیکن اسے روکنا نہ ان کے ہاتھ میں ہوگا اور نہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے ہاتھ میں۔ یہ ایک حقیقت ہے جسے ساری دنیا جانتی ہے اس لئے دنیا بھر سے پاکستان کے اس اقدام کو سراہا جا رہا ہے لیکن بھارتی پراپیگنڈے کی طرف دیکھا جائے تو بھارت کی حکومت اس حقیقت سے ناآشنا نظر آتی ہے' اس حقیقت کے باوجود جنگ پر آمادہ نظر آتی ہے یا وہ کم ازکم بھارتی عوام پر بی جے پی حکومت کی دھاک بٹھانے کیلئے کوئی بڑی سرجیکل سٹرائیک کرکے دکھانا چاہتی ہے کیونکہ ان کا بالاکوٹ پر حملہ کر کے 350 ''آتنک وادیوں'' کو موت کے گھاٹ اُتارنے کا ڈرامہ فلاپ ہو چکا ہے۔ نریندر مودی ہر قیمت پر انتخابات میں کامیابی چاہتے ہیں۔ انہوں نے بھارتی عوام سے ترقی کا جو وعدہ کیا تھا وہ نظر نہیں آتی۔ دو کروڑ ملازمتوں کا جو وعدہ کیا تھا وہ بھی فلاپ ہو چکا ہے۔ ان کی حکومت کیخلاف ہزاروں کروڑ روپے کی کرپشن کے الزامات بھارتی میڈیا منظرِعام پر لا چکا ہے۔ اب ان کے پاس صرف پاکستان دشمنی کا کارڈ رہ گیا ہے۔پلوامہ واقعہ سے پہلے ہی بھارت کے متعدد سیاسی لیڈر جن میں مقبوضہ کشمیر کے بھارت نواز لیڈر بھی شامل ہیں یہ انتباہ کر چکے تھے کہ کشمیر بھارت کے ہاتھ سے نکل رہا ہے کیونکہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج انسانیت کیخلاف جو مظالم ڈھا رہی ہے ان کا نتیجہ یہی ہو سکتا ہے لیکن نریندر مودی نے ہوشمندی کا راستہ اختیار کرنے کی بجائے ایک طرف بالاکوٹ پر سرجیکل سٹرائیک کا ڈرامہ رچایا اور دوسری طرف مزید دس ہزار فوج 24گھنٹے کے نوٹس پر مقبوضہ کشمیر میں بھیجی اور وہاں مظالم میں شدت پیدا کرنے کا حکم دیا۔ جماعت اسلامی پر پابندی لگائی اور اس کے سینکڑوں کارکنوں کو گرفتار کیا' گھرگھر تلاشی کی مہم اور روزانہ چند کشمیری نوجوانوںکو قتل کرنے کی مہم کو تیزتر کیا۔ اس پس منظر میں پاکستان میںکچھ مبصر کہہ رہے ہیں کہ ابھی نندن کو ابھی رہا نہیں کیا جانا چاہئے تھا ۔ لیکن ابھی نندن کو امن کی پاسداری کی علامت کے طور پر اس وقت رہا کیا گیا ہے جب ایک طرف بھارت میں کچھ لوگ 350 ''آتنک وادیوں'' کی ہلاکت پر نریندر مودی حکومت سے جواب طلب کر رہے ہیں' دوسری طرف پاکستان بھارتی طیارے کو مار گرانے اور اس کے پائلٹ کو گرفتار کرکے یہ ثابت کر چکا ہے کہ پاکستان کے پاس کسی جارحیت کو ناکام بنانے کا عزم بھی ہے' صلاحیت بھی ہے اور استعداد بھی ہے۔ اس وقت ابھی نندن کی رہائی کو کمزوری کی علامت نہیں سمجھا جا سکتا' اس کی رہائی کیلئے بھارت کی طرف سے درخواست بھی آچکی تھی اور بین الاقوامی سیاسی قیادت بھی کشیدگی ختم کرنے کیلئے پاکستان اور بھارت سے رابطے کر رہی تھی۔ ایک رات ایسی بھی گزری ہے جب دونوں طرف سے میزائل محض بٹن دبائے جانے کیلئے تیار تھے۔ اس وقت بین الاقوامی برادری کی خواہش پر ابھی نند کی رہائی پاکستان کی طرف سے امن کی خواہش کی اور بین الاقوامی کمیونٹی کے احترام کی علامت تھی۔ یہ بروقت فیصلہ تھا۔ اس نے بھارت کی جنگ بازی کی سرشت کو بین الاقوامی کمیونٹی پرآشکار ہی کیا ہے۔ پاکستان کی طرف سے اپنی دفاعی صلاحیت اور اہلیت کا ثبوت دیتے ہوئے امن کی خاطر مذاکرات کی پیشکش کی گئی ہے۔ پلوامہ حملہ کی تحقیقات کی جو (بھارت کی طرف سے ثبوت فراہم کرنے پر) پیشکش کی گئی ہے اس نے دنیا پر پاکستان کی امن کی خواہش کو واضح تر کردیا ہے۔ عالمی کمیونٹی کے متعدد اہم لیڈر دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی ختم کرنے کیلئے رابطے کر رہے ہیں۔ یہ رابطے کب اور کس صورت کامیاب ہوں گے اس سے چند لمحے کیلئے صرفِ نظر کرتے ہوئے یہاں یہ ذکر کرنا لازمی ہے کہ نریندر مودی کسی نہ کسی طرح بھارت کی دھاک بٹھانے پر تلا ہوا ہے تاکہ اس کے سہارے الیکشن جیت سکے۔ بھارتی میڈیا جو 350 ''آتنک وادیوں'' کو موت کے گھاٹ اُتارنے سے لیکر ابھی نندن کی رہائی کو پاکستان کی کمزوری ظاہر کرنے پر تُلا ہوا ہے وہ ایک تو الیکشن کے زمانے میں کمائی کیلئے ایسا کر رہا ہے دوسرے وہ ایک عرصے سے پاکستان مخالف بھارتی فلموں کے زیراثر ہے۔ بھارتی فلموں کے ہیرو بیسیوں مخالفوں کو چند منٹ میں ٹھکانے لگاتے ہیں اور ان کی وردی پر شکن تک نہیں آتا۔ بھارتی فلموں میں سفاکی اور عیاری بالادستی کا تاثر قائم کیا جاتا ہے لیکن ڈرامے اور حقیقت میں بہت فرق ہوتا ہے جو ابھی نند کی گرفتاری اور رہائی سے ظاہر ہو جانا چاہئے۔ جہاں تک نریندر مودی کی بات ہے وہ پاکستان مخالف کارڈ استعمال کرنے پر مصر نظر آتے ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے 1500 مقامات پر بی جے پی کے مبینہ طور پر ایک کروڑ کارکنوں سے خطاب کیا اور انہیں مشورے دئیے۔ یہ مشورے پاکستان اور مسلمانوں کی مخالفت' بی جے پی کے رعب اور دبدبہ جاری رکھنے کے سوا کچھ اور نہیں ہو سکتے۔ وہ کسی طور پر امن کیلئے اپنے رویہ میں لچک دکھانے کو تیار نہیں ابھی نند کی رہائی کیلئے سب سے پہلے درخواست بھارت نے کی تھی لیکن اس کی رہائی پر شکریہ کے دو لفظ بھی نہیںکہے۔ کشمیر کا تنازع اگر طے نہیں ہوتا تو یہ صورتحال کسی بھی وقت دوبارہ برپا ہو سکتی ہے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی بندوقیں بے کار ہو چکی ہیں۔ کشمیری نوجوانوں کیلئے زندگی اور موت میں کوئی فرق نہیں رہا' یہ آگ کسی بھی وقت بھڑک سکتی ہے اسلئے پاکستان کو ایک طرف بھارت کی حکومت اور میڈیا کے جھوٹ کو بھارت کے عوام پر بار بار آشکار کرنا ہوگا دوسری طرف بین الاقوامی کمیونٹی پر یہ واضح کرنا ہوگا کہ اس خرابیٔ بسیار کو دور کرنے کیلئے جو دو ایٹمی طاقتوں کو جنگ کی دہلیز تک لے آئی ہے اس کی اصل وجہ پر متوجہ ہونا ضروری ہے۔

متعلقہ خبریں