Daily Mashriq

ہم ہیں متاع کوچہ وبازار کی طرح

ہم ہیں متاع کوچہ وبازار کی طرح

انڈیا کو کیوں بلایا؟ پاکستان نے او آئی سی اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا، وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں او آئی سی اجلاس میں شرکت نہ کرنے کے حوالے سے تفصیل بتائی کہ کس طرح انہوں نے او آئی سی اجلاس میں بھارت کو مدعو کرنے پر اعتراض کیا اور میزبان ابوظہبی کو متعدد خطوط لکھے مگر بھارت کو جاری کردہ دعوت نامہ واپس نہ ہونے کی وجہ سے انہوں نے اجلاس میں بذات خود شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا، البتہ وفد کے دوسرے ارکان اجلاس میں جائیں گے، ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر بھارت کو آبزرور کے طور پر تنظیم میں شامل کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کی سخت مخالفت کی جائے گی۔ اس سے دو دن پہلے شاہ محمود قریشی نے بھارتی وزیرخارجہ سشما سوراج کی او آئی سی اجلاس میں متوقع شرکت پر یہ بھی کہا تھا کہ وہ کون ہے؟ میں ان کیساتھ اجلاس میں ایک ساتھ نہیں بیٹھوں گا۔ تاہم گزشتہ روز سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے پارلیمنٹ نے مشورہ دیا کہ بائیکاٹ کی بجائے اجلاس میں جا کر موقف بیان کریں جبکہ اپوزیشن لیڈر اور لیگ(ن) کے صدر شہباز شریف نے بائیکاٹ کی حمایت کردی تھی۔ اس موقع پر لیگ(ن) کے رہنمائ، سابق وزیرخارجہ خواجہ آصف نے شکوہ کیا کہ عمران خان مودی سے ہاتھ ملانا چاہتے ہیں مگر شہباز شریف سے نہیں، اس پر معلوم نہیں کہ تحریک کے لیڈروں نے یاد دلایا یا نہیں کہ

تم تکلف کو بھی اخلاص سمجھتے ہو فراز

دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا

البتہ او آئی سی کا وہ پہلا اجلاس ضرور یاد آرہا ہے جو1969ء میں مراکش کے شہر رباط میں بلوایا گیا تھا اور اس وقت کے پاکستان کے صدر جنرل یحییٰ خان نے اسی طرح عین وقت پر اجلاس میں شرکت سے انکار کرتے ہوئے بھارت کو بطور مبصر بھی وہاں قبول کرنے سے انکار کردیا تھا حالانکہ بھارت نے اس بنیاد پر وہاں شرکت کرنے کا دعوت نامہ حاصل کیا تھا کہ اس کے ملک میں بھی مسلمانوں کی تعداد بہت زیادہ ہے (تب پاکستان اور بھارت کے اندر مسلمان آبادی میں بہت کم فرق تھا) لیکن یحییٰ خان کے شدید اعتراض پر بھارتی وفد کو نکالنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا تھا کیونکہ اس وقت پاکستان مسلم دنیا کی آنکھ کا تارہ تھا، مسلم دنیا اسے قدر کی نگاہ سے دیکھتی تھی اور اسے عالم اسلام کیلئے قوت کا سرچشمہ قرار دیتی تھی مگر پھر پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہتا چلاگیا، پاکستان نہ صرف دولخت ہوا بلکہ کرپشن کی وجہ سے غربت اور پسماندگی عوام کا مقدر بنادی گئی، بھارت دنیا بھر میں دوسری بڑی معیشت کے درجے پر فائز ہوتا چلا گیا اور اب وہ نہ صرف مغربی دنیا کی آنکھ کا تارہ ہے کہ یہودیوں کے نزدیک بھارت بہت بڑی منڈی ہونے کے ناتے ان کیلئے اہمیت اختیار کر چکا ہے اور اب اس کے سرمایہ کاروں کے روابط عرب دنیا سے بھی گہرے ہوتے جارہے ہیں جبکہ پاکستان کی حالت (اپنوں ہی کے ہاتھوں) یہ ہو چکی ہے کہ بقول مجروح سلطان پوری

ہم ہیں متاع کوچہ وبازار کی طرح

اُٹھتی ہے ہر نگاہ خریدار کی طرح

حالانکہ ہم وہ تھے جن سے قیام پاکستان کے بعد ابتدائی برسوں میں جرمنی نے قرضہ حاصل کیا تھا اور ایوبی دور میں جب ہم نے پانچ سالہ ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کیا تو ہمارے وژن سے ایک دنیا متاثر تھی اور کوریا نے ہم سے پانچ سالہ ترقیاتی منصوبے کی تفصیل حاصل کر کے اسے اپنے ہاں رائج کیا تو آج وہ ترقی کی شاہراہ پر کہاں کھڑا ہے جبکہ ہم کھڑے ہونے کی بجائے ''لیٹ'' چکے ہیں اور اب کشکول بدست قوم کی حیثیت سے دنیا بھر میں بھیک مانگنے پر مجبور ہیں اور ظاہر ہے بھک منگوں کی جھولی میں بھیک کے چند سکے تو ڈالنے کو تیار ہوتے ہیں لیکن ان کے مطالبات پر کوئی بھی توجہ دینے کی زحمت نہیں کرتا۔ اس لئے آج اگر ہمارے احتجاج پر بھارت کو او آئی سی میں شرکت سے روکنے پر میزبان ملک توجہ نہیں دے رہا تو اسے معلوم ہے کہ ہماری حیثیت کیا ہے اور ہم کس برتے پر نخرے کر رہے ہیں کہ ہماری حیثیت تو اس نوکر کی سی بھی نہیں ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ نوکری کی تے نخرہ کی، مگر یہاں تو نوکری بھی نہیں ہے، ہم تو کشکول لئے پھرتے ہیں گلیوں گلیوں اور

ایک تو خواب لئے پھرتے ہو گلیوں گلیوں

اس پہ تکرار بھی کرتے ہو خریدار کیساتھ

ظاہر ہے وہ لوگ ہماری باتوں پر کیا ردعمل دیں گے جو سمجھتے ہیں کہ ہم کیا اور ہماری اوقات کیا، ہم نے خود اپنے پیروں پر کلہاڑی ماری ہے اور ہمارے مخالفین خصوصاً بھارت نے ہمارے خلاف جو بیانیہ دنیا میں پھیلا کر ہمیں دہشتگردوں کے حمایتی کے طور پر دنیا بھر میں مشہور کردیا ہے اس کے نتیجے کے طور پر اب خلیجی ریاستوں میں پاکستانیوں کو روزگار دینے پر بھی کوئی تیار نہیں ہوتا، رہی سہی کسر ہمارے کچھ بدبختوں نے وہاں منشیات کو پھیلانے میں کردار ادا کرتے ہوئے بھی پاکستان کیخلاف نفرت کے بیج بوئے، ایسے میں ہمارا بیانیہ تسلیم کرنے پر کون تیار ہوسکتا ہے؟ ہماری بات کو سنجیدگی سے کوئی بھی نہیں سنتا کہ ہم نے اپنے ''کرتو توں'' سے خود کو اخلاقیات کی پاتال میں گرا رکھا ہے، البتہ جن لوگوں نے ملک کو لوٹا ہے ان کی دولت انہی خلیجی اور مغربی ممالک میں پھل پھول رہی ہے۔ میر تقی میر نے شاید ایسے ہی لوگوں کے بارے میں کہا تھا کہ

امیر زادوں سے دلی کے مت ملا کر میر

کہ ہم غریب ہوئے ہیں انہی کی دولت سے

متعلقہ خبریں