Daily Mashriq

امن وجنگ اور انسانی فطرت

امن وجنگ اور انسانی فطرت

زمین وآسمانوں کی تخلیق کے بعد جب آسمان کی نوری مخلوق ملائکہ سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ''میں زمین میں خلیفہ بنانے والا ہوں تو فرشتوں نے کہا کہ ایسے شخص کو کیوں پیدا کرتا ہے جو زمین میں فساد کرے اور خون بہائے؟ اور (جبکہ) ہم تیری تسبیح' حمد اور پاکیزگی بیان کرنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا جو میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے'' بعض علماء نے لکھا ہے کہ خلیفہ سے مراد ایسی قوم ہے جو ایک دوسرے کے بعد آئے گی اور اس کے معنی صرف یہ نہیں کہ انسان اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا خلیفہ اور نائب ہے۔فرشتوں کا انسان کے بارے میں یہ کہنا کہ یہ زمین پر فساد کرے گا اور خون بہائے گا' کسی حسد یا اعتراض کے طور پر نہیں تھا بلکہ اس کی حقیقت اور حکمت معلوم کرنے کی غرض سے تھا کہ اے رب! اس مخلوق کے پیدا کرنے میں کیا حکمت ہے جبکہ ان میں کچھ ایسے لوگ بھی ہوں گے جو فساد پھیلائیں گے اور خونریزی کریں گے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں وہ مصلحت راجحہ جانتا ہوں جس کی بناء پر ان ذکر کردہ مفاسد کے باوجود میں اسے پیدا کر رہا ہوں جو تم نہیں جانتے کیونکہ ان میں انبیائ' شہداء وصالحین اور زہاد بھی ہوں گے''۔انبیائے کرام علیہم السلام نے اپنے اپنے ادوار میں حق کی دعوت وتلقین کی' بعض نے اس کیلئے ان لوگوں کیخلاف جہاد کیا جو زمین میں فساد پھیلانا چاہتے تھے' بعض کو فسادیوں نے شہید کرایا۔ سلسلہ انبیاء کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب تشریف لائے تو زمین اور سمندروں میں فساد برپا ہوچکا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے 13برس تو صحابہ کرام کی جماعت بنانے میں صرف کئے اور پھر ہجرت کے بعد 10سال مسلسل شرپسندوں اور فسادیوں کیخلاف جہاد کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دنیا بھر کو قیامت تک جہاد وقتال کے جو اصول دئیے' دنیا اس سے پہلے اس سے بے خبر ہوچکی تھی۔جنگیں ہوتی تھیں اور بڑی خونریز ہوتی تھیں۔ طاقتور کمزوروں کے وسائل ہڑپ کرکے اور انہیں غلام بنا کر ان کیساتھ جانوروں سے بھی بدتر سلوک کرتے تھے۔ ساری دنیا کیساتھ ساتھ عربوں کے اندر بھی جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا اصول کارفرما تھا کہ اتنے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسانیت پر ختم الرسل کی صورت مبارکہ وکاملہ میں بے مثال انعام اور فضل وکرم کا سلسلہ شروع ہوا۔ مکہ معظمہ اور اس کے مضافات کے سلیم الفطرت اور شریف النفس لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لاکر آپۖ کی جماعت مطہرہ وطیبہ میں شامل ہو کر زمین کو فسادیوں کے فساد سے صاف کرنے کیلئے میدان کارزار میں اُترے اور بہت کم عرصے میں وہ جزیرہ نما عرب جس میں کوئی مرد تنہا گھر سے نکلتا تو اس کے سلامت واپس آنے کے امکانات بہت محدود ہوتے' اتنا پرامن ہوگیا کہ آپۖ کی وہ پیشن گوئی حرف بحرف پوری ہوئی کہ حضرت عمر فاروق کے دور میں صنعا (یمن) سے خاتون اکیلے اونٹ پر سوار ہو کر حج کیلئے مکہ معظمہ آئی تھی۔اسلام میں جہاد کا اصل مفہوم اور حکمت یہی ہے کہ زمین پر کوئی فساد پھیلا کر بنی نوع انسان کو تکلیف ونقصان وضرر نہ پہنچا سکے۔ ورنہ صرف دنیاوی وسائل اور مال ومتاع پر قبضہ کرنے کیلئے کسی فرد یا قوم کیخلاف لڑنا یا جنگ کرنا قطعاً حرام ہے۔ یہی وجہ تھی کہ آپۖ نے حرب (جنگ) کا نام جہاد سے تبدیل فرمایا جس کا معنی ہی ہر قسم کی برائی سے انسانیت کو محفوظ کرنے کیلئے بھرپور جدوجہد کرنا ہے۔

آپۖ کے دورمبارک سے پہلے انسانیت سود مرکب' معمولی باتوں پر خونریز جنگوں اور دیگر بہت سی انسانیت سوز قباحتوں میں مبتلا تھی۔ آپۖ نے دس برس کے اندر اندر جزیرہ نما عرب کو حجتہ الوداع پر جو مبارک پیغام دیا وہ انسانی حقوق کا ایک بے مثال چارٹر اور منشور ہے۔ آپۖ کے خلفائے راشدین نے اس بہترین منشور کو یوں نافذ کرکے دکھایا کہ دنیا میں آج تک اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔

آپۖ نے بلاتفریق مذہب' رنگ ونسل اور زبان وجغرافیہ کے سارے انسانوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کا جو آئین قرآن وحدیث کی صورت میں دنیا کو دیا، اس کے نفاذ کیلئے آپۖ کے دورمبارک میں صرف ستائیس غزوات ہوئیں اور ان میں مسلمان اور غیرمسلم کل ملاکر 1018افراد کام آئے۔

اب اس کے مقابلے میں بعد کی انسانی تاریخ ملاحظہ کیجئے کہ جنگ عظیم اول ودوم میں کتنے کروڑ انسان بغیر کسی مقصد وحکمت کے لقمۂ اجل بنے اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔ 9/11کے بعد تو انسانوں کا خون جس بیدردی کیساتھ بہایا گیا وہ اکیسویں صدی کا ناقابل فراموش باب ہے۔ ابھی انسانیت ان زخموں سے چور ہے کہ ہمارے پڑوس میں نریندر مودی نام کا ایک آدمی ڈیڑھ ارب آبادی کو ایٹمی حملوں کے خطرات سے دو چار کرنے پر تلا ہوا نظر آرہا تھا لیکن پاکستان کے وزیراعظم' کابینہ اور پاک افواج اور عوام کے درمیان اس بات پر اتفاق کہ ہمارا ہیرو قریبی تاریخ کا مرد میدان ٹیپو سلطان ہے' نے حالات کو لگتا ہے کہ سنبھالا دیا ہے۔ ٹیپو سلطان کا ہیرو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور خلفائے راشدین تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق نے ایک نازک موقع پر کیا جملہ عطا فرمایا تھا کہ ''دین اسلام کی حفاظت کیلئے میں اکیلے رہ جاؤں اور پرندے آکر مجھے اچک کر لے جائیں تب بھی حق کی سرپرستی سے باز نہیں آسکتا۔''

پاکستانی قوم پرامن لوگ ہیں۔ عمران خان اور ان کی پارلیمنٹ نے بھارت کو امن وسلامتی کا جو پیغام دیا ہے یہی انسان کی فطرت ہے۔ لہٰذا یہی موقع ہے کہ دونوں ملک اچھے پڑوسیوں کی طرح مذاکرات کی میز پر عالمی ثالثوں کے ذریعے کشمیر کا مسئلہ عدل وانصاف' عالمی قوانین اور انسانی حقوق کے اصولوں کے مطابق حل کرکے ڈیڑھ ارب آبادی کا مستقبل محفوظ اور روشن بنائے۔ ورنہ یاد رکھئے کہ ایٹمی اسلحہ کے حامل دو ملکوں کے درمیان جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں جنگ خونریزی' تباہی وبربادی کے سوا کچھ بھی نہیں دے سکتی۔ اللہ پاکستان کی حفاظت فرمائے۔ آمین

متعلقہ خبریں