Daily Mashriq

اور جواب دے دیا

اور جواب دے دیا

منگل کی صبح جیسے ہی ہندوستانی طیاروں کی کارروائی کا علم ہوا تو دل بہت رنجیدہ ہوا۔ جگہ کے حوالے سے کنفیوژن تھی، فوراً برادرم ساجد خان سے رابطہ کیا۔ وہ تحریک انصاف مانسہرہ کے روح رواں ہیں' مجھے اندازہ تھا کہ وہ پی کے 30کے الیکشن کی وجہ سے بالاکوٹ میں موجود ہوں گے لیکن جب میری ان سے بات ہوئی تو وہ ہائی کورٹ ایبٹ آباد میں تھے۔ استفسار پر معلوم ہوا کہ وہ الیکشن کے حوالے سے کوئی رِٹ کرنے کیلئے ہائی کورٹ آئے ہوئے ہیں۔ بالاکوٹ کے حوالے سے وہ بھی کنفیوز تھے۔ اب تک میڈیا کے ذریعے جو معلومات ہم تک پہنچ رہی تھیں وہ بھی متضاد تھیں۔ انڈین فارن سیکرٹری وجے گوکھلے نے انڈین ایئرفورس کے حوالے سے پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا تھا کہ حملہ خیبر پختونخوا کے مقام بالاکوٹ میں جیشِ محمد کے مرکز پر کیا گیا ہے۔ سچ بات ہے کہ ہندوستانی دعوؤں پر مجھے کبھی اعتماد نہیں رہا لیکن دوسری وجہ یہ بھی تھی کہ جتنی بڑی تعداد میں ہلاکتوںکا وہ دعویٰ کر رہے تھے اُس کا کہیں وجود دکھائی نہ دے رہا تھا۔ ناظم مانسہرہ سے رابطہ کرنے پر اس بات کی تصدیق ہو گئی کہ حملہ بالاکوٹ کے قریب جابہ کے مقام پر ہوا ہے لیکن ان کی جانب سے وضاحت مل گئی کہ ہلاکتوں کی خبر میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ برادرم آصف محمود کی اس دوران کال آئی تو میں نے انہیں بتایا کہ مجھے اس خبر سے سخت افسردگی ہوئی ہے کہ ہندوستانی طیارے اتنے اندر تک پاکستانی حدود میں آئے اور بچ کر چلے گئے۔ طبیعت پورا دن بوجھل رہی۔ تحریک انصاف کے دفتر میں سیکرٹری جنرل صاحب موجود تھے لیکن میں دفتر جلد چھوڑ کر نکل آیا حالانکہ مجھے ان سے ایک دو ضروری باتیں کرنی تھیں۔ ایک پاکستانی کی طرح میرے دل میں بھی سخت ملال تھا مگر سوشل میڈیا یا کسی اور طرح سے اس کا اظہار کرنے سے گریزاں رہا۔ رات بھی بے چینی میں گزاری، رات دو بجے تک سو نہ سکا' میری آنکھیں ٹی وی پر کسی بریکنگ نیوز کے انتظار میں رہیں۔ پاکستان نے جواب دینے کا فیصلہ تو کر لیا تھا لیکن میں ''جواب'' کا شدت سے منتظر تھا۔ بدھ کی صبح میرے لئے خوشی کا پیغام لئے طلوع ہوئی۔ پہلی خبر اُسی بالاکوٹ سے آئی جہاں سے کل حملے کی خبر آئی تھی۔ پی کے30 میں تحریک انصاف کے احمدشاہ کامیاب ہو گئے تھے۔ ان کی کامیابی اس لحاظ سے بڑی خبر تھی چونکہ یہ مسلم لیگ ن کی چھوڑی ہوئی سیٹ تھی اور مسلم لیگ ن کی مقامی قیادت دوبارہ یہ سیٹ جیتنے کیلئے بڑی پُرامید تھی۔ مانسہرہ کی سیاست ایک نئی کروٹ لے رہی ہے' سردار یوسف اگرچہ بڑی مضبوط گرفت رکھتے ہیں لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ مانسہرہ کی سیاست میں تحریک انصاف کا زور دن بدن بڑھ رہا ہے۔ گزشتہ دنوں سابق وفاقی وزیر سردار یوسف سے ایک تقریب میں ملاقات ہوئی تو انہوں نے اعتراف کیا کہ مقابلہ کانٹے دار ہوگا۔یہ ہار شاید سردار یوسف کی ناکامی نہیں ہے بلکہ کئی اور عوامل بھی کارفرما تھے۔میں عرض کر رہا تھا کہ بدھ کی صبح میرے لئے خوشی کا باعث اس لئے بھی بنی کہ دو بھارتی طیاروں کی تباہی کی خبر مختلف ذرائع سے آنا شروع ہوگئی تھی۔ رات بھر جس خبر کے سننے کا میں انتظار کرتا رہا وہ میرے کانوں میں پہنچی تو دل میں خوشی کے سوتے پھوٹنے لگے۔ پاکستانی فضائیہ نے واقعی کمال کر دیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق جن چھ ٹارگٹس کو لاک کیا گیا انہیں فضائیہ نے کامیابی کیساتھ ہٹ کیا۔ کل جس سرپرائز کی بات ہو رہی تھی وہ ابھی بیچ میں ہی رہ گئی کیونکہ شاید اب اس کی ضرورت نہیں رہی ہے۔ پاک فضائیہ نے بھارتی طیاروں کو تباہ کر کے کل کی دراندازی کا بدلہ لے لیا ہے لہٰذا اب کسی نئے ٹارگٹ کو نشانہ بنانے کی بات نہیں کی جائے گی۔ پاکستانیوں کے دل میں کل تک جو ملال تھا وہ اب ختم ہو گیا ہے' بس اتنا کافی ہے۔ جنگی جنون ہمارے خطے کے مفاد میں نہیں ہے لیکن دنیا کو علم ہونا چاہئے تھا کہ ہماری جنگی صلاحیتیں بھارت کو سبق سکھانے کیلئے موجود ہیں اور بحمد اللہ ہم نے 24گھنٹے کے اندر جوابی کارروائی کر کے یہ بات ثابت کر دی ہے۔ بھارت کو اب ہوش کے ناخن لینے چاہئے اور جنگ کی بجائے امن وآشتی کا راستہ اختیار کرنا چاہئے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس بریفنگ اور وزیراعظم عمران خان کی تقریر سے واضح ہے کہ پاکستان امن چاہتا ہے۔ مسلح افواج کے ترجمان نے بھارتی طیاروں کی تباہی کی خبر کو جس انداز میں پیش کیا وہ بحیثیت پاکستانی ہماری ہوش مندی کی ترجمانی ہے۔ ''جنگ میں فتح کسی کی نہیں ہوتی، انسانیت ہار جاتی ہے'' کا جملہ مسلح افواج کے ترجمان کی جانب سے ادا ہونا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ پاکستان کی قیادت کس انداز سے سوچ رہی ہے۔ اس کے باوجود بھارت باز نہ آیا تو یہ واضح ہے کہ پوری قوم مذموم بھارتی ارادوں کے سامنے ڈٹ کر کھڑی ہے۔

متعلقہ خبریں