افغانستان میں قیام امن ایک قدم آگے دو قدم پیچھے

افغانستان میں قیام امن ایک قدم آگے دو قدم پیچھے

افغانستان کے دورے سے واپسی کے بعد سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے اس امر کا اعادہ کیا ہے کہ تلخیاں بڑھانے نہیں دوستی کا ہاتھ بڑھانے افعانستان گئے تھے۔ افغانستان میں ہمارے ساتھ بھائیوں جیسا سلوک کیا گیا۔ سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ افغان قیادت بھی جلد پاکستان کا دورہ کرے گی' افغانستان کا دورہ کرنے والے پاکستانی وفد میں حکومت' اپوزیشن سمیت چاروں صوبوں کی نمائندگی تھی۔ افغانستان میں امن اور بہتری سے ہی پاکستان میں امن اور بہتری ہوگی۔ہم رابطے بحال کرناچاہتے ہیں،اس سلسلے میں عبداﷲ عبداﷲ اور دیگر افغان حکام جلد پاکستان کا دورہ کریں گے اور ملاقاتوں کا ٹوٹا سلسلہ جوڑیں گے۔ پاکستان اور افغان حکام جلد انٹیلی جنس شیئرنگ اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھائیں گے ۔ دونوں ممالک جڑواں بھائی ہیں جو الگ نہیں ہوسکتے۔دریں اثناافغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی نے حزب اسلامی کے 70قیدیوں کی رہائی کے فرمان پر دستخط کردیئے ۔افغان صدارتی محل کے حکام نے بتایا ہے کہ حزب اسلامی کے قیدیوں کی رہائی امن معاہدے اور پارٹی لیڈر گلبدین حکمت یار کی واپسی کے تحت ہوئی ہے ۔دوسری جانب اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ افغانستان میں رواں سال موسم سرما کے دو ماہ کے دوران طالبان کے حملوں میں 807 افغان فوجی ہلاک ہوئے۔فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف کی رپورٹ کے مطابق افغانستان کی تعمیر نو کیلئے امریکا کے خصوصی انسپکٹر جنرل نے بتایا کہ یکم جنوری سے 24 فروری کے دوران عسکریت پسندوں کے حملوں میں افغان نیشنل ڈیفنس اینڈ سیکیورٹی فورسز کے 807 اہلکار ہلاک ہوئے۔اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق 'افغانستان میں ہلاکت خیز جنگ جاری ہے، طالبان اور دیگر عسکریت پسندوں کے خلاف لڑنے والے افغان فورسز کی ہلاکتوں میں حیران کن حد تک اضافہ ہوا ہے۔خیال رہے کہ ہر سال موسم سرما کے دوران افغان طالبان کے حملوں میں تیزی آجاتی ہے جبکہ رواں سال افغان طالبان نے اپنے حملے اب بھی جاری رکھے ہوئے ہیں اور 19 اپریل کو صوبہ مزار شریف میں ایک فوجی کیمپ پر سب سے بڑا حملہ کیا گیا تھا۔افغانستان میں حالات میں بہتری لانے کے لئے پاکستان اور افغانستان کے درمیان مختلف سطحوں پر روابط اور تعاون کی ضرورت اور اہمیت بارے دو رائے نہیں لیکن سیاسی طور پر ہونے والے فیصلوں اور قربت کی شکل ہر جانب نظر بھی آنی چاہئے اور اس پر عملدرآمد سے ایک اعتماد کی فضا بھی پیدا کرنے کی ضرورت ہے جس کے بعد ہی افغانستان میں حالات کی بہتری کی امید کی جاسکتی ہے۔ ایک جانب جہاں دونوں ممالک کے درمیان سیاسی سطح پر مفاہمت کی خواہش ہوتی ہے تو انہی ایام میں سرحدوں پر کچھ ایسی ناخوشگوار صورتحال پیدا ہوتی ہے یا پیدا کی جاتی ہے کہ مفاہمت اور غلط فہمیاں دور کرنے کے سارے مواقع پر پانی پھر جاتا ہے اسے سوئے اتفاق ہی قرار دیا جائے گا کہ گزشتہ روز ہی تیراہ میں افغانستان سے پاکستانی چوکی پر حملہ کیا گیا جس میں دو جواں شہید ہوگئے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جب تک اس طرح کی صورتحال رہے گی دونوں ممالک کی قیادت چاہنے کے باوجود کسی پیش رفت میں کامیابی حاصل نہیں کرسکے گی۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ پہلے پہل ان معاملات کو سنبھالا جائے۔ افغانستان ان دہشت گردوں کے خلاف موثر کارروائی کرے اور سرحدی چوکیوں اور دیگر انتظامات کو اس قدر مضبوط بنایا جائے کہ دہشت گرد افغان علاقے سے پاکستانی چوکیوں پر حملہ آور نہ ہوسکیں۔ دوم یہ کہ افغانستان اپنے ملک میں بھارتی مداخلت ' اثر و رسوخ تعلقات کو ایک مناسب دائرہ کار میں لائے اور خاص طور پر را کو ملنے والی سہولتوں کا بالکل خاتمہ کیا جائے۔ جب تک افغانستان بھارت کی گود میں بیٹھا رہے گا پیار کی جتنی بھی پینگیں بڑھائی جائیں لاحاصل ہی رہیں گی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مذاکرات کا ماحول پیدا کرنے کے لئے محولہ نوعیت کے اقدامات ضروری ہیں تاکہ اعتماد کی فضا پیدا ہوا اسی طرح پاکستانی حکام اور اداروں کو بھی چاہئے کہ وہ بھی اپنے تحفظات دور کرانے کے ساتھ ساتھ افغانستان کے تحفظات اور شکوے شکایات کے ازالے پر بھی توجہ دے کر مذاکراتی ماحول کے قیام میں اپنا کردار ادا کریں۔ جہاں تک افغانستان کے داخلی معاملات میں بہتری لانے کا تعلق ہے افغانستان کی داخلی طورتحال بھی اتنی پیچیدہ گنجلک اور لاینحل ہے کہ اس کا کوئی سرا بھی ہاتھ نہیں آتا جس میں سب سے مشکل امر یہ ہے کہ افغانستان اپنے معاملات کا حل نکالنے میں آزاد نہیں شنید ہے کہ افغانستان میں ایک مرتبہ پھر اتحادی افواج کی تعداد میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ حزب اسلامی کے ساتھ مفاہمت گلبدین حکمتیار کی واپسی اور حزبی قیدیوں کی رہائی ایک سنجیدہ سعی ضرور ہے لیکن گلبدین حکمتیار کے گروہ کو افغانستان میں وہ قوت اور اثر و رسوخ حاصل نہیں جو افغان طالبان کو حاصل ہے ۔ حزب اسلامی ایک عرصے سے غیر فعال اور غیر موثر ہو چکی تھی تاہم ان سے مفاہمت افغان طالبان کے لئے ایک مثبت پیغام ضرور ہے جن شرائط پر حکمتیار نے افغان قیادت اور عالمی دنیا سے مفاہمت کی ہے افغان طالبان اس سے کہیں بڑھ کر اور بہتر شرائط منوانے کی پوزیشن میں ہیں۔ رواں سال موسم سرما میں طالبان کے حملوں کے جو اعداد و شمار اور تفصیلات اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کی گئی ہے اس سے افغانستان میں ہلاکت خیز جنگ کا عندیہ ملتا ہے جسے روکنے کے لئے دنیا کو متحرک ہونا ہوگا۔ افغانستان میں بموں کی ماں گرا کر طاقت کا مظاہرہ ضرور کیا ہے لیکن داعش کی صورت میں اسے ایک اور دشمن سے پالا پڑ رہا ہے۔ اس ساری صورتحال میں خطے کو کسی نئی جنگ میں دھکیلنے سے بچانے کا واحد راستہ یہی نظر آتا ہے کہ افغانستان کے معاملے پر داخلی' علاقائی اور بین الاقوامی طور پر ہم آہنگی اور اتفاق رائے پیدا کی جائے اور باہم مل بیٹھ کر اس مسئلے کا مستقل اور پائیدار حل نکالا جائے۔

اداریہ