Daily Mashriq

وزیر داخلہ کی برہمی اور غلطی در غلطی

وزیر داخلہ کی برہمی اور غلطی در غلطی

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے سیکورٹی ایجنسیوں کی طرف سے ان کو سیکورٹی کے نام پر ایک اہم تقریب میں شرکت سے روکنے کے مشورے پر برہمی کے ساتھ سیکورٹی ایجنسیوں کے حوالے سے جن خیالات کا اظہار کیاہے اس سے معاشرے میں ان کے حوالے سے پہلے سے موجود غلط فہمیوں کوزبان مل سکتی ہے۔ سیکورٹی ایجنسیوں کی بعض اطلاعات اور کارروائیوں کو سوچا سمجھا سمجھنے والوں کی کمی نہیں ۔ بہر حال اس سے قطع نظر وفاقی وزیر داخلہ کے اس بیان کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے کہ تین چار روز سے تماشا لگا ہے سیکورٹی ادارے حساس علاقوں کا تحفظ نہیں کرسکتے تو ان کی کارکردگی پر سوالات اٹھ سکتے ہیں۔ یہ معاملات جس صورتحال اور جن حالات میں سامنے آئے ہیں ان کے بادی النظر ڈان لیکس سے پیدا شدہ تازہ صورتحال ہے۔ اس معاملے پر اختلافات اپنی جگہ لیکن اس کے باعث کسی مقررہ دائرہ کار اور نظم و ضبط کی پابندی کا خیال نہ رکھنے کی کوئی گنجائش نہیں۔ اس معاملے پر کشیدگی اور کھلم کھلا غم و غصے کا اظہاربھی کسی طور پسندیدہ نہیں۔ بہتر ہوگا کہ معاملے کے فریق اس ضمن میں اپنے اپنے کردار و عمل پر نظر ثانی کریں اور اسے کشیدگی اور پریشانی کا باعث بنانے کی بجائے ایک سنجیدہ مسئلہ قرار دے کر اس کا کوئی باہمی حل نکالیں۔ عوام کو اس امر سے کوئی غرض نہیں کہ کس کا موقف درست ہے کس کا نا درست۔جس کسی کا جو بھی موقف ہو اس کو عوامی سطح پر موضوع بحث بنانے کی بجائے مفاہمت کی فضا میں حل کیاجائے۔توقع کی جانی چاہئے کہ اس سنجیدہ اور حساس معاملے کو گلی محلے کی بحث بنانے کی بجائے سنجیدہ حلقوں میں سنجیدگی کے ساتھ ایک د وسرے کا نقطہ نظر سمجھنے اور سمجھانے اور سنجیدگی کے ساتھ اس کا موزوں حل تلاش کرنے کی طرف توجہ دی جائے گی تاکہ اداروں اور حکومت کے درمیان کشیدگی اور اختلافات کا تاثر راسخ ہونے کی بجائے زائل ہو۔ اس طرح کے معاملات پر درون خانہ جس قدر بحث و کشیدگی ہو جائے کم از کم وہ درون خانہ ہی رہے ۔یہ معاملہ شروع ہی درون خانہ ہونے والی بحث کو میڈیا پر لانے سے ہوا تھا جس کا حل ایک مرتبہ پھر رازداری برتنے سے احتراز کی غلطی کے ذریعے کی جا رہی ہے جسے غلطی در غلطی نہ گردانا جائے تو اور کیا نام دیا جائے۔
قبل از وقت کے مطالبات مناسب نہیں
ضلع صوابی کی سیاسی' سماجی اور دیگر تنظیموں کی جانب سے ولی خامن یونیورسٹی میں وقوع پذیر مشال قتل کیس کی جلد سے جلد سماعت کرنے کا مطالبہ اصولی ہے۔ ہمارے تئیں انہوں نے جو مطالبات کئے ہیں یہ قبل از وقت اور اس کیس پر اثر انداز ہونے اور خاص طور پر رد عمل کی دعوت دینے کے مترادف ہے جس سے اس مرحلے پر اجتناب کی ضرورت ہے۔ مشال قتل کیس ایک حساس نوعیت کاکیس ہے جس کے ملزمان کی گرفتاری اور مقدمہ چلانے کے لئے ابھی ابتدائی اور ضروری اقدامات کا مرحلہ ہے۔ اس مرحلے پر اگرچہ کسی جانب سے فی الوقت کوئی دبائو ڈالنے والی سر گرمی نظر نہیں آتی لیکن بادی النظر میں ایسا نظر نہیں آتا براہ راست نہیں تو بالواسطہ حمایت کے اشارے مل رہے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ اس میں اضافے کا بھی امکان ہے۔ قطع نظر ان معاملات کے اصولی طور پر جب کوئی مقدمہ عدالت میں ہو جب تک اس مقدمے کا فیصلہ نہ ہو جائے تب تک کسی اقدام کی حمایت یا اس ضمن میں کسی بھی قسم کاعوامی دبائو مناسب نہیں بلکہ ایسا کرنا نا دانستگی میں کیس کی فضا کو مکدر کرنے کا باعث ہوگا جس سے انصاف کی فراہمی کا عمل متاثر ہوسکتا ہے۔ لہٰذا ایسے مطالبات اور اقدامات سے گریز بہتر ہوگا جس کا ممکنہ رد عمل سامنے آئے اور ایک مقدمے کو نمٹاتے نمٹاتے مزید پیجیدگیاں سامنے آئیں۔ گوکہ اس وقت صورتحال قابو میں ہے اور کسی خطرے کاکوئی امکان نہیں لیکن احتیاط اور حکمت کا تقاضا یہی ہے کہ اس طرح کے معاملات میں جذبات کو انگیخت دینے اور دلانے والے امور سے گریز کیا جائے۔ جب مقدمے کا عدالت سے فیصلہ سامنے آجائے اس کے بعد جو بھی مطالبات کئے جائیں وہ بے وقت اور بلا جواز نہیں ہوں گے۔ بہتر ہوگا کہ اس مقدمے کو خالصتاً ایک مقدمے کے طور پر رہنے دیا جائے اور کسی جانب سے بھی جذبات کا اظہار نہ کیا جائے۔

اداریہ