Daily Mashriq


صرف آپریٹو پارٹ ہی کیوں؟

صرف آپریٹو پارٹ ہی کیوں؟

ڈان لیکس انکوائری کمیشن کی رپورٹ کے حوالے سے وزیر اعظم کے دفتر سے ان کے معاون خصوصی برائے اُمور خارجہ طارق فاطمی اور پرنسپل انفارمیشن افسر راؤ تحسین علی کو عہدوں سے ہٹائے جانے کے حکم نامے اور پاک فوج کے محکمہ تعلقات عامہ کے سربراہ کی طرف سے اس کارروائی کو نامکمل قرار دیے جانے کے بارے میں ٹوئیٹر پیغام کے باعث ملک بھر میں جو بحث جاری ہے اسے فرو کرنے کے لیے ''وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان ایک نوٹی فکیشن کے ذریعے رپورٹ کے ''آپریٹو'' یعنی وہ حصے جن کے تحت کارروائی کی گئی ہے عام مشاہدے کے لیے جاری کر دیں گے۔ '' یہ بات روزنامہ ڈان ہی کو پنجاب کے وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے پیر کے روز بتائی ہے ۔رانا ثناء اللہ حکمران مسلم لیگ ن کے ایک پہنچے ہوئے لیڈر ہیں۔ اس لیے ان کی بات وزن رکھتی ہے۔ اگر روزنامہ ڈان کو یہ خبر خود چودھری نثار نے دی ہوتی تو یہ تاثرگہرا ہوسکتاتھاکہ رپورٹ کے ''آپریٹوپارٹ'' کو عام کرنے کا فیصلہ متذکرہ بالا اہم اجلاس میں کیاگیاتھا۔ راناثناء اللہ نے کہاہے کہ وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثارعلی خان رپورٹ کے آپریٹوپارٹ کوایک نوٹی فکیشن کے ذریعے پبلک کے مطالعے کے لیے پیش کریں گے۔ اور اسی ہفتے کے دوران کریں گے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ رانا ثناء اللہ نے یہ بیان چودھری نثار علی کے ساتھ مشاورت یاان کے اشارے پر دیا ہے۔ لیکن چودھری نثار علی تو ایک سے زیادہ بار واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ رپورٹ جونہی موصول ہوگی اوروزیراعظم کو پیش کر دی جائے گی اس کے فوراً بعد من وعن اس رپورٹ کوعام پبلک کے لیے جاری کر دیںگے۔ ان کے اس وعدے کے بعد رانا ثناء اللہ کا یہ کہنا کہ رپورٹ کے محض آپریٹو حصے جاری کیے جائیں گے 'یہ سوال جنم لیتا ہے کہ آیا رپورٹ کے باقی حصوں کو غیر ضروری سمجھا جا رہا ہے یا انہیں اخفاء میں رکھا جا رہا ہے۔ جب کہ وزیر خزانہ اسحق ڈار کا یہ بیان ریکارڈ پر ہے کہ رپورٹ دو حصوں پر مشتمل ہے ۔ پیراگراف 18والے حصے کو دوسرے حصے کے ساتھ ملا کر پڑھاجانا چاہیے۔ وزیر اعظم کے دفتر سے جو حکم نامہ جاری ہوا ہے اس میں ایک تو یہ کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم نے ڈان لیکس انکوائری کمیشن کی رپورٹ ( مکمل) کی منظوری دے دی ہے۔ دوسرے اس میں طارق فاطمی اور راؤ تحسین کے بارے میں انہیں اپنے عہدوں سے ہٹانے کی انتظامی کارروائی کا ذکر ہے۔ تیسرے کہاگیا ہے کہ سرل المیڈا اور روزنامہ ڈان کا معاملہ اے پی این ایس پر چھوڑ دیا گیا ہے اور ساتھ ہی یہ کہا گیا ہے کہ اے پی این ایس ضابطۂ اخلاق تشکیل دے۔ یہ بات ناقابلِ فہم ہے کہ جب اے پی این ایس کا ضابطہ اخلاق ہی نہیں ہے تو سرل المیڈا اور روزنامہ ڈان کے بارے میں کارروائی کس ضابطہ کے مطابق ہو گی۔ جہاں تک طارق فاطمی اور راؤتحسین کے خلاف کارروائی کا تعلق ہے ، حکم نامے سے متعلق خبر میں اس الزام کا ذکر نہیں ہے جس کی بنا پر یہ کارروائی کی گئی ہے۔ اب اگر رپورٹ کا یہی ''آپریٹو پارٹ'' ہے جس کے تحت کی گئی کارروائی پر مبنی خبر وزیر اعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے حکم نامے کے طور پر شائع ہو چکی ہے تو یہ تو پہلے ہی ہو چکا ہے۔ اگر اور بھی ''آپریٹو پارٹ'' ہیں جن کے تحت کارروائی نہیں ہوئی تو وہ کیا ہیں۔ اگر وہ حصے بھی عام کر دیے جاتے تو کیا رپورٹ من و عن شائع کرنے کا وعدہ پورا ہو جائے گا؟ اگر ایسا ہو بھی جائے تو یہ واضح نہیں ہو گا کہ جو کارروائی کی گئی ہے یا جس کی سفارش کی گئی اس کی وجوہ کیا تھیں اور یہ کارروائی کس قانون یا ضابطے کے تحت تجویز کی گئی۔ 

رپورٹ عوام کی امانت ہے۔ اس کے اجراء سے عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ روزنامہ ڈان کی غالباً 6اکتوبر کی اشاعت میں جس مکالمے کا ذکر کیا گیا وہ ہوا بھی تھا یا نہیں؟اس کے بارے میں سول اور فوجی قیادت متفق ہے کہ وہ کچھ ہوا ہی نہیں۔انکوائری کمیشن نے اس کی حقیقت کی توثیق کے لیے کیا کارروائی کی؟ اگر یہ سب کچھ ہوا ہی نہیں تو جو مواد روزنامہ ڈان کی متذکرہ اشاعت میں شائع ہوا وہ سرل المیڈا کو کہاں سے حاصل ہوا۔ یعنی اگر یہ پلانٹڈ سٹوری یعنی من گھڑت کہانی تھی تو اس کا محرک کون ہے؟ یہ کہانی کس نے گھڑی اور کس نے سرل المیڈا کو پہنچائی۔ کس نے سرل المیڈا کو یقین دلایا کہ یہ کہانی حقیقی واقعہ ہے۔ سابق وفاقی وزیر قانون پرویز رشید کا اس میں کیا کردار تھا جس کی بنا پر ان سے قلمدان وزارت واپس لے لیا گیا۔ روزنامہ ڈان کا اب تک اصرار ہے کہ اس کی ''خبر'' حقیقت پر مبنی ہے۔ یہ اصرار جس یقین پر مبنی ہے اس کی وجوہ کیا ہیں۔ ایک اور اہم سوال یہ ہے کہ آیا اس مواد کی اشاعت سے قومی سلامتی کے تقاضے مجروح ہوئے یا نہیں اس بارے میں بارے انکوائری کمیشن کی رائے کیا ہے؟ اگر اس مواد کی اشاعت کو انکوائری کمیشن نے قومی سلامتی کے منافی قرار دیا تو آیا جو ایکشن یا اقدام تجویز کیے آیا وہ قومی سلامتی سے متعلق قوانین کے مطابق تجویز کیے گئے؟ طارق فاطمی اور راؤ تحسین کے خلاف جو کارروائی کی گئی اس سے ظاہر ہو تا ہے کہ ان سے کسی ضابطے کی خلاف ورزی سرزد ہو گئی ۔ راؤ تحسین کے کیس میں ڈسپلن ایفی شینسی رولز کا حوالہ دیا گیا ہے یہ ڈسپلن کی خلاف ورزی انہوں نے کس طرح کی اور صلاحیت کار پر پورا اترنے میں ان سے کیا کوتاہی ہوئی؟ عوام کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ آیا روزنامہ ڈان میں جو مواد شائع ہوا وہ واقعہ کی خبر تھی یا من گھڑت کہانی تھی۔ اگر من گھڑت کہانی تھی تو کس نے تیار کی اور اس کے مقاصد کیا تھے۔ متذکرہ مواد کی اشاعت قومی سلامتی کے تقاضوں کے منافی تھی یا نہیں۔ یہ قومی اہمیت کے سوال ہیں۔ ان کے جواب رپورٹ کے منظرِ عام پر آنے کی صورت میں واضح ہوں گے تبھی یہ اندازہ ہو سکے گا کہ آپریٹو پارٹ میں جو اقدامات تجویز کیے گئے ہیں معاملے کی نوعیت سے مطابقت رکھتے ہیں یا نہیں۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ رپورٹ سے متعلق گردش کرنے والے سوالات کے گمبھیر شکل اختیار کرنے سے پہلے رپورٹ من و عن شائع کر دی جائے۔

متعلقہ خبریں