Daily Mashriq

ایران اور افغانستان سے سیاسی رابطے

ایران اور افغانستان سے سیاسی رابطے

ایران اور افغانستان دو ایسے ملک ہیں جن کی نہ صرف یہ کہ براہ راست سرحدیںپاکستان سے ملتی ہیں بلکہ دونوں ملکوں کے ساتھ پاکستان کے ثقافتی اور تہذیبی روابط بھی ہیں۔بدقسمتی یہ ہے کہ دونوں ملک اس وقت پاکستان سے کھچے کھچے ہیں ۔دونوں ملکوں کو پاکستان سے جو گلے ہیں بالکل وہی گلے پاکستان بھی ان سے رکھتا ہے ۔ دوری اور کھچائو کے باجوددونوں ملکوں کے بارے میںپاکستان میں عوامی سطح پر کبھی دشمنی کے جذبات پیدا نہیں ہوئے بلکہ عمومی طور پر ہر شخص اس بات پر متفق نظر آتا ہے کہ ایران اور افغانستان کے ساتھ تعلقات کو بہتر سے بہترین رہنا چاہئے۔دونوں ملکوں کے ساتھ پاکستان کے روابط سفارتی انداز میں جاری رہتے ہیں جن میں گرم وسرد آنا بھی معمول ہے مگر سیاسی سطح پر روابط کی کمی محسوس کی جاتی رہی ہے ۔اس خلاء کو پر کرنے کے لئے پاکستان کے کل جماعتی پارلیمانی وفود کا دورہ ایران اور افغانستان ایک نیا آغاز ہو سکتا ہے ۔پاک فوج کے سابق سربراہ جنرل راحیل شریف سعودی عرب کی قیادت میں اسلامی ملکوں کے عسکری اتحاد کی کمانڈ سنبھالنے کے لئے ریاض پہنچے تو عین اسی دوران سپیکر سردار ایاز صادق کی قیادت میں پاکستان کا ایک پارلیمانی وفد بھی تہران جا پہنچا ۔پارلیمانی وفد نے ایران کے صدر حسن روحانی سے خصوصی ملاقات کی ۔ایرانی صدر نے وفد کے ارکان سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان با اعتماد بھائی ہے اور اس کے ساتھ تعاون کو مزید وسعت دیں گے ۔ حسن روحانی کا کہنا تھا کہ کشمیر کے مسئلے پر بھی پاکستانی موقف کی حمایت کرتے ہیں۔سردار ایاز صادق نے ایرانی صدر کو یقین دلایا کہ پاکستان ایران کے مفادات کے خلاف کوئی قدم نہیں اُٹھائے گا۔جنرل راحیل شریف کے اسلامی عسکری اتحاد کی قیادت سنبھالنے کی خبروں کے بعد ایران کی طرف سے مسلسل تحفظات کا اظہار کیا جا رہا تھا ۔پاکستان نے اس کے جواب میں مسلسل یہ موقف اختیار کیا تھا کہ اس اتحاد کا مقصد دہشت گردی کے خلاف لڑائی ہے اور پاکستان ایسے کسی اتحاد کا حصہ نہیں بنے گا جس کا مقصد مسلمان ملکوں کے باہمی تنازعات میں فریق بننا ہوگا۔پاکستان کی مسلسل وضاحتوں کے بعد یوں لگتا ہے کہ ایرانی قیادت معاملے کی تہہ تک پہنچ چکی ہے ۔انہی شکوک کو دور کرنے کے لئے سردار ایاز صادق کی قیادت میں پارلیمانی وفد کو ایران بھیجا گیا ۔سردار ایاز صادق ایک سمجھ دار آدمی ہیں اور اپنا موقف اچھے انداز سے بیان کرنا جانتے ہیں ۔انہوں نے ایرانی قیادت کو بھی پاکستان کے معاملات اور مسائل سے تفصیل سے آگاہ کیا ہوگا ۔یہی وجہ ہے کہ وہ ایرانی قیادت کی طرف سے مسئلہ کشمیر پر حمایت حاصل کرنے میں کامیاب رہے ۔پاکستان اور ایران دومسلمان ممالک ہی نہیں دو ہمسائے بھی ہیں ۔دونوں کا باہمی تعاون خطے کے لئے نئے فوائد اور امکانات کا باعث بن سکتا ہے ۔پاکستان اس وقت توانائی کے جس بحران کا سامنا کررہا ہے ایران اس کو دور کرنے میں کردار ادا کرسکتا ہے ۔دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کا حجم بڑھانا بھی دونوں معیشتوں کو بہتر بنا سکتا ہے ۔دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان صدیوں کے گہرے ثقافتی روابط ہیں ۔ڈاکٹر علی شریعتی کی جدید اور انقلابی سوچ اور علامہ محمد اقبال کا فکر وفلسفہ دونوں ملکوں کے تعلقات کو مزید بلندیوں تک پہنچا سکتا ہے ۔اس کے لئے شرط اول باہمی احترام اور ایک دوسرے کی انفرادیت کو تسلیم کرنا اور اپنی سوچ کو دوسروں پر مسلط کرنے سے اجتناب ہے ۔پاکستان اور چین کے تعلقات کی گہرائی اور گیرائی میں جہاں باہمی مفادات کا دخل ہے وہیں ایک دوسرے کی انفرادیت کا احترام اور مسلط ہونے سے گریز ہے ۔امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں خرابی کا آغاز ہی اس وقت ہوا جب امریکہ نے اپنی ثقافت اور نظریات اور سوچ بھونڈے انداز میں اور ڈومور کے دھمکی رویوں کے ذریعے پاکستان پر مسلط کرنے کی کوشش کی ۔ایران اور پاکستان کا تعلق مسلمان دنیا میں اتحاد واتفاق کی بنیاد بن سکتا ہے۔ایران کے ساتھ بہتر تعلقات کا قیام کوئی آسان کام بھی نہیں کیونکہ ان تعلقات کو خراب کرنے کی خودکار مشین بھی اپنا کام دکھاتی چلی جاتی ہے ۔

پاکستانی وفد کے دورہ ایران کے چند دن بعد ہی ایرانی سرحدی محافظوں پر حملہ ہوا ۔بات جو بھی ہو پارلیمانی وفد کے دورے سے جو فضا ء پیدا ہوئی تھی سرحدی محاطوں پر ہونے والے حملے سے مکدر ہوگئی ۔افغانستان کے دورے کا جو احوال پارلیمانی وفد کے سربراہ نے میڈیا میں بیان کیاہے اس سے بھی تصویر کچھ ایسی ہی بن رہی ہے ۔افغانستان اور پاکستان کے درمیان غلط فہمیوں کا پہاڑ حائل ہے مگر اس پہاڑ کو سر کرنے کی سوچ بھی دونوں طرف موجود ہے ۔ ان دونوں ہمسایہ ملکوں کو بھارت کے ساتھ اپنے معاملات میں نیوٹرل کرنا پاکستان کو درپیش ایک اہم چیلنج ہے مگر یہ ایک پاکستان کی ضرورت بھی ہے ۔جس ملک اور قوم کو گھر کی دہلیز پر ہی مزاحمت ،مخالفت ،مخاصمت کا سامنا ہو وہ دور جا کر فتح کے جھنڈے بھی گاڑھ دے تو اس کا پائیدار تاثر قائم نہیں ہوتا ۔بھارت کو یہی مشکل درپیش ہے ،چمکتا بھارت ،سیکولر بھارت ،جمہوری بھارت ،لبرل بھارت ،انسانوں کی ایک وسیع وعریض منڈی کا حامل بھارت دنیا میں اپنے جو چاہے امیج بنائے مگر جب سرحدوں پر کشیدگی پھیلنے کی وجہ سے ملٹری بلڈ اپ ہونے لگتا ہے تو کشیدگی کی پہلی پھوار سے ہی یہ سار امیک اپ دُھل جاتا ہے ۔اس لئے ہمسائیوں کے ساتھ معاملات کو بہتر ہونا بہت ضروری ہوتا ہے ۔

اداریہ