Daily Mashriq


چاند تارے لوگ

چاند تارے لوگ

ارادہ تو ادبیات پاکستان کی من مانیوں پر خامہ فرسائی کا تھا۔ اس پر کسی دوسری نشست میں بات ہوگی۔ یہ نیا موضوع ہمیں اس وقت سوجھا جب ہم صبح کی سیر کے دوران بستی کے قبرستان کے قریب سے گزر رہے تھے۔ یہی کوئی 25سال پہلے جب ہم اپنے آبائی گائوں بغدادہ سے بوجوہ نئی بستی میں سرئیے اور سیمنٹ سے بنے مکان میں منتقل ہوئے اس وقت بستی کے قبرستان میں صرف ایک ہی قبر ہمارے دوست ڈاکٹر زوار حسین کی صاحبزادی لبنیٰ بخاری کی تھی۔ یہ جوانسال ڈاکٹر ایک روڈ ایکسیڈنٹ میں جاں بحق ہوئی تھیں۔ آہستہ آہستہ قبروں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا اور آج یہ شہر خموشاں پوری طرح آباد ہوچکا ہے۔ ہمارے بے شمار دوست جن کے قہقہے' گفتگو اور محبتیں ہماری یادوں میں محفوظ ہیں منوں مٹی کے نیچے ابدی نیند سو رہے ہیں۔ دوستوں کی ایک ٹولی تھی جب ہم اپنے گھر کے برآمدے میں صبح کی نماز کے بعد تلاوت میں مصروف ہوتے تو قریب کی سڑک پر سے قہقہے لگاتے گزر رہی ہوتی ان میں سردار خان اور ہمارے ایک دیرینہ دوست عبدالستار خان بھی شامل ہوتے۔ سردار خان پہلے ڈپٹی کمشنر اور پھر کمشنر کے دفتر میں معاون کار تھے۔ چاق و چوبند اور ہمہ وقت اپنے دوستوں کی خدمت کے لئے کمر بستہ رہتے۔ ایک روز ہم کسی کام سے ان کے دفتر گئے۔ بڑی خوش دلی سے بغلگیر ہوتے ہوئے کہا۔ میں نے آپ کا وہ کام کردیا ہے۔ حیرت سے پوچھا کون سا کام؟ بولے آپ نے وہ جو گن کے لائسنس کے لئے درخواست دی تھی۔ ہم مزید حیران ہوئے تو انہوں نے اپنے ایک ماتحت کو بلا کر پوچھا۔ اس نے بھی ہمارا نام لیا۔ معلوم ہوا کہ یہ شہر میں ہمارے کسی ہم نام کی واردات تھی۔ اس نے ہم نامی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمارے تخلص پر بھی قبضہ کر رکھا تھا او اس کا بے دریغ استعمال کرتے تھے۔ ہم نے عرض کیا کہ بھئی سردار بفضل تعالیٰ ہمیں کبھی ان چیزوں کی ضرورت نہیں پڑی' ازراہ کرم آئندہ کے لئے کرم فرمائی سے پہلے کام کی نوعیت کے بارے میں ضرور پوچھ لیا کیجئے۔ کل کلاں آپ ہمارے نام پر مروت میں کسی ہم نام کو توپ کا لائسنس جاری نہ کردیں۔ عبدالستار خان بھی اسی سیر پسند ٹولی کے سرگرم رکن تھے۔ جب بھی ملتے ہم سے تازہ بتازہ لطیفہ سننے کی فرمائش ضرور کرتے اور پھر ایک فلک شگاف قہقہے سے اس کی داد بھی ضرور دیتے۔ بڑے صاف گو اور حقیقت پسند انسان تھے۔ کسی بھی مسئلے پر لگی لپٹی اور مصلحت کوشی کے بغیر اپنی رائے کا اظہار کرتے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی قائدانہ صلاحیتوں اور ذہانت کے شیدائی تھے۔ یہ سب لوگ اب ہمارے درمیان موجود نہیں اسی شہر خموشاں کے ایک باسی ہمارے دیرینہ رفیق کار پروفیسر اقبال نعیم رحمانی بھی ہیں ان کے والد نعیم رحمانی بھی بہت اچھے شاعر تھے۔ پچاس کی دہائی میں ہندوستان سے آنے والے جن لوگوں نے مردان میں ادبی محفلیں برپا کیں نعیم رحمانی ہمیشہ ان میں نمایاں رہے۔ اقبال نعیم رحمانی نے مردان کالج سے اپنی تعلیم مکمل کی۔ پھر ریڈیو پاکستان پشاور سے بطور انائونسر منسلک ہوگئے۔ ریڈیائی ڈراموں میں صدا کاری بھی کی' اردو میں ایم اے کرنے کے بعد ان کی پہلی پوسٹنگ مردان کالج میں اردو کے لیکچرار کی حیثیت سے ہوئی۔ ہم جب 1972ء میں تیمر گرہ کالج سے تبادلے پر مردان آئے تو اقبال نعیم رحمانی پہلے سے وہاں موجود تھے اور ان سے دوستی کا ایک رشتہ قائم ہوا۔ وہ طلبہ میں بڑے مقبول اور ان کے پسندیدہ ٹیچر تھے۔ اہل زبان تھے ' لکھنو سے تعلق رکھنے کی وجہ سے بڑی شائستہ گفتگو کرتے۔ ہمیں ہمیشہ اس بات پر حیرت ہوتی تھی کہ مردان کے پشتونوں کے درمیان زندگی گزارنے کے باوجود ان کی زبان پر پشتو کا ایک لفظ تک نہیں چڑھا جبکہ ہمارے پرنسپل اطہر حسن زبیری کا جن کا تعلق بھی لکھنو سے ہی تھا بعض دفعہ بڑی ٹھیٹھ پشتو میں ہمیں ڈانٹ دیتے تھے۔ ایک بار جب ایک میٹنگ میں انہوں نے ہمیں کہا' ''واللہ ھلکہ سب پہ بار کے کوگ لرگے ئے''تم تو گھٹے میں سب سے ٹیڑھی لکڑی ہو۔ پوچھنے پر بتایا کہ وہ محکمانہ ضرورت کے تحت میٹرک کی سطح کا پشتو امتحان پاس کرچکے ہیں۔ اقبال نعیم رحمانی نے کالج کے سٹیج پر بے شمار ڈرامے پیش کئے اور ادبی محفلوں کااہتمام کیا۔ ہمیں افسوس سے کہنا پڑتا ہے ہمارے حد درجہ شائستہ مزاج' شریف النفس شاعر اور فنکار ساتھی کو ہر دوسرے سال کرائے کا مکان تبدیل کرنا پڑتا۔ ایک دفعہ جب ہم شام گنج کی ایک گلی میں ان کے مکان پر ملنے گئے تو وہ کسی دوسری جگہ شفٹ ہوچکے تھے۔ کالج میں پوچھا تو کہنے لگے

فضاء کنج قفس میں انہیں تلاش نہ کر

مسافروں کے ٹھکانے بدلتے رہتے ہیں

پچپن میں لکھنو سے آیا ہوا یہ مسافر جب اپنے خون پسینے کی کمائی سے ہماری بستی میں اپنا ذاتی مکان تعمیر کرنے میں کامیاب ہوا اس میں داخل ہوتے وقت وہ سرطان جیسی مہلک بیماری میں مبتلا تھا۔ ہمیں افسوس سے کہنا پڑتا ہے اپنے ذاتی مکان میں اقبال کو صرف پانچ چھ ماہ قیام نصیب ہوا۔ وہ اب بستی کے شہر خموشاں میں اسودہ خاک ہے۔ ان کے جسد خاکی کو مکان تبدیل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں رہی۔ اس کا کرایہ بھی دینا نہیں پڑتا۔ ہم جب بھی بستی کے قبرستان کے قریب سے گزرتے ہیں تو نم آلود آنکھوں کے ساتھ ان سب دوستوں کی مغفرت کی دعا کے لئے چند لمحے ضرور ٹھہرتے ہیں۔ بالیقین یہ سب چاند تارے لوگ تھے جن کی یادوں کی روشنی تادیر ہمارے ساتھ رہے گی۔

متعلقہ خبریں